دنیا کا درجہ حرارت اب محض اعداد و شمار میں نہیں بڑھ رہا بلکہ یہ حدت ہماری فصلوں کی جڑوں کو جلانے لگی ہے، گھروں کی چھتوں کو بے یقینی سے دوچار کر رہی ہے، پانی کے ذخائر کو تیزی سے خشک کر رہی ہے اور ہوا کو ایسی اجنبی بوجھل کیفیت دے رہی ہے جس میں سانس لینا دشوار ہوتا جا رہا ہے۔ زمین جس تکلیف سے گزر رہی ہے، وہ اب سائنسی رپورٹس کے گراف اور چارٹس سے نکل کر ایک عام آدمی کی روزمرہ زندگی میں داخل ہو چکی ہے۔گلوبل وارمنگ، کاربن اخراج، برفانی گلیشیئرز کا پگھلنا، بے وقت اور غیر متوقع بارشیں، قحط، سموگ اور بڑھتی ہوئی آلودگی ،یہ سب اب کتابی اصطلاحات نہیں رہیں بلکہ ہم سب ان کا روز تجربہ کر رہے ہیں، اپنی جلد پر، اپنی سانسوں میں، اپنے کھیتوں اور اپنے شہروں میں۔ ایسے میں ماحولیاتی ٹیکنالوجی کو اپنانا اب ترقی یا سہولت کا نہیں رہا بلکہ یہ ہماری بقاء اور مستقبل کے درمیان لکیر کھینچتا ہے۔ پاکستان کا شمار ان دس ممالک میں ہوتا ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ ہم عالمی کاربن اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم کے ذمے دار ہیں۔ مگر ماحولیاتی ناانصافی کا المیہ یہ ہے کہ نقصان ان کا ہوتا ہے جو جرم میں شریک ہی نہیں تھے۔ پچھلے چند برسوں میں پاکستان نے شدید ترین ماحولیاتی آفات کا سامنا کیا ، 2022 کے مہلک سیلاب جس نے ملک کے ایک تہائی حصے کو متاثر کیا، یا 2023 کی شدید ہیٹ ویو، لاہور اور کراچی کی سموگ، بلوچستان اور تھر کی خشک سالی، ان سب کی جڑ میں موسمیاتی تبدیلی موجود ہے۔
ایسی صورت حال میں روایتی انداز اور پرانی پالیسیاں اب مزید کارگر نہیں رہیں۔ ہمیں اپنے تمام ترقیاتی، زرعی، شہری اور صنعتی نظام کو ماحولیاتی بنیادوں پر از سر نو ترتیب دینا ہو گا اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم ماحولیاتی ٹیکنالوجی کو اپنے قومی نظام کا جزو لازم بنا دیں۔ماحولیاتی ٹیکنالوجی سے مراد وہ تمام سائنسی، ڈیجیٹل اور انجینئرنگ حل ہیں جو ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے، قدرتی وسائل کو محفوظ رکھنے، صاف توانائی کو فروغ دینے اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے میں مدد دیتے ہیں۔ ان میں شمسی توانائی، ہوا سے بجلی، بایوگیس، ری سائیکلنگ ٹیکنالوجی، ڈرپ ایریگیشن،
مصنوعی ذہانت پر مبنی موسمیاتی تجزیہ، ایئر کوالٹی مانیٹرنگ اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ جیسے نظام شامل ہیں۔پاکستان میں صورتحال خاصی سنگین ہے۔ فی کس پانی کی دستیابی 900 مکعب میٹر سے کم ہو چکی ہے۔ جو کہ پانی کی قلت کی خطرناک حد سے نیچے ہے۔ زراعت جو کہ ہماری معیشت میں ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے، وہ موسمی بے یقینی کا شکار ہو چکی ہے۔ کسان فصلوں کے سیزن کا صحیح اندازہ نہیں لگا پاتے، بارشوں کی شدت یا قحط کا علم وقت پر نہیں ہوتا اور نتیجتاً پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ یہاں ماحولیاتی ٹیکنالوجی جیسے کہ AI پر مبنی موسمیاتی پیشن گوئی سسٹمز، سنسر بیسڈ آبپاشی اور بایو فرٹیلائزر جیسے جدید حل نہ صرف پیداوار بڑھا سکتے ہیں بلکہ کسانوں کے لیے تحفظ کا باعث بن سکتے ہیں۔
دیہی علاقوں میں اب بھی لاکھوں خاندان لکڑی، کوئلہ اور جانوروں کے فضلے کو ایندھن کے طور پر استعمال کر رہے ہیں جس سے نہ صرف جنگلات کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ خواتین اور بچوں کی صحت بھی متاثر ہو رہی ہے۔ ایسی صورتحال میں بایوگیس پلانٹس، چھوٹے سولر یونٹس اور صاف چولہوں جیسے حل فوری طور پر قابلِ عمل ہیں اگر حکومتی سطح پر سنجیدہ منصوبہ بندی ہو جبکہ شہری علاقوں میں بھی ماحولیاتی چیلنجز کچھ کم نہیں۔ لاہور، کراچی، فیصل آباد، ملتان یہ سب شہروں میں فضا کی کوالٹی خطرناک حد تک خراب ہو چکی ہے۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ حالیہ تین مہینوں میں پاکستان میں کچھ مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ پاکستان نے مارچ 2025 میں ایک AI بیسڈ ڈیجیٹل کلائمیٹ مانیٹرنگ پلیٹ فارم متعارف کروایا ہے جو گرمی، نمی، ہوا، اور آلودگی کا ریئل ٹائم ڈیٹا مہیا کرتا ہے۔ اس پلیٹ فارم میں Punjab IT Board، WWF Pakistan اور دیگر ادارے شامل ہیں۔ یہ اقدام پالیسی سازی کو ڈیٹا بیس بنانے میں مددگار ثابت ہو گا۔اسی طرح COP29 کی تیاریوں میں پاکستان نے جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ مل کر ترقی پذیر ملکوں کو عالمی ماحولیاتی فنڈز تک براہ راست رسائی دینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ وہ گرین ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کر سکیں۔ ساتھ ہی ساتھ چین کی توانائی کمپنیوں نے بلوچستان اور سندھ میں سولر پارکس کے لیے MOU سائن کیے ہیں، جو نہ صرف توانائی بحران میں کمی لائیں گے بلکہ مقامی روزگار میں اضافہ بھی کریں گے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ماحولیاتی ٹیکنالوجی کو صرف "ایلیٹ ڈسکورس" کا حصہ نہ رہنے دیا جائے۔ اسکولوں، کالجوں، مدارس، یونیورسٹیوں میں ماحولیاتی تعلیم کو باقاعدہ نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوان نسل کو ماحولیاتی تبدیلی کے خطرات اور ٹیکنالوجی کے حل سے روشناس کروایا جائے۔ کسانوں کو مفت تربیت فراہم کی جائے اور عام شہری کو سولر انرجی جیسے سادہ اور سستے حل مہیا کیے جائیں۔پاکستان میں Climate Change Act 2017 کے تحت وزارت موسمیاتی تبدیلی کو پالیسی سازی کا اختیار حاصل ہے مگر اس قانون پر عملدرآمد کی رفتار سست رہی ہے۔ حالیہ مہینوں میں پالیسی پر نظرثانی کی باتیں ہو رہی ہیں تاکہ ماحولیاتی ٹیکنالوجی کو ترجیح دی جا سکے۔پاکستان نے عالمی فورمز پر زور دیا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک ماحولیاتی ٹیکنالوجی تک سستی اور آسان رسائی فراہم کریں تاکہ جنوبی ایشیا جیسے خطے موسمیاتی خطرات کا بہتر مقابلہ کر سکیں۔
حکومت کے لیے وقت کا اہم ترین تقاضا یہ ہے کہ وہ ماحولیاتی ٹیکنالوجی کے لیے قومی پالیسی فریم ورک تشکیل دے۔ ہر ضلع میں کم از کم ایک کلائمیٹ ٹیکنالوجی ڈیمانسٹریشن سنٹر قائم کیا جائے۔ ٹیکنیکل ٹریننگ انسٹیٹیوٹس میں ماحولیاتی مہارتیں سکھائی جائیں۔ مقامی سطح پر گرین اسٹارٹ اپس کے لیے ٹیکس میں رعایت اور مالی معاونت فراہم کی جائے۔یاد رکھیے ماحولیاتی بحران کا حل کسی ایک نعرے، ایک بجٹ، یا ایک اجلاس میں نہیں چھپا۔ یہ روزانہ کے طرزِ زندگی، حکمتِ عملی، ٹیکنالوجی کے استعمال اور اجتماعی شعور میں پنہاں ہے۔ اگر ہم نے اب بھی ماحول کو سیاست یا معیشت کی ثانوی ترجیح سمجھا تو کل کی دنیا میں سانس لینا بھی ایک نعمت نہیں، نایاب سہولت بن جائے گی۔اب وقت ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کو محض سہولت نہیں، بقاء کی ضمانت سمجھیں۔ یہ جنگ صرف کاربن کے خلاف نہیں خود کو زندہ رکھنے کی بھی ہے اور اس جنگ میں پہلا ہتھیار ماحولیاتی ٹیکنالوجی ہے جو اگر آج نہیں اپنایا تو کل سب کچھ کھونے کے بعد بھی کوئی راستہ باقی نہ بچے گا۔
پاکستان میں ماحولیاتی ٹیکنالوجی کی ضرورت
09:45 AM, 1 Jun, 2025