خدائے بزرگ و برتر کی ذات کا پاکستان پر خاص کرم ہے کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو جو عزت و احترام مل رہا ہے اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ اس صورت حال میں محب وطن حلقوں کے لئے حقیقی معنوں میں بڑی خوشیاں ہیں لیکن پاکستان کے اندر ہی کچھ ایسے بد قسمت لوگ بھی ہیں کہ جنھیں پاکستان کے حق میں یہ حالات ایک آنکھ نہیں بھا تے اور ان کا بس نہیں چل رہا کہ وطن عزیز کی کسی بھی طرح یہ کامیابیاں خاکم بدہن ناکامیوں میں بدل دیں اور جب اجتماعی اور بار بار بد دعا کے بعد بھی کامیابیاں ناکامیوں میں نہیں بلکہ خدائے پاک کے فضل سے مزید اور عظیم کامیابیاں میں بدل رہی ہیں تو انھوں نے ان کامیابیوں کے اندر سے ہی اپنے دل کی تسلی کے لئے چھوٹی چھوٹی خوشیوں کا سامان پیدا کر لیا ہے ۔ انہی چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں سے چند خوشیاں آج کی تحریر میں اپنے قارئین کے سامنے پیش کریں گے تا کہ وہ بھی محظوظ ہو سکیں لیکن ان چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے پہلے ہم وطن عزیز کو جو حقیقی بڑی بڑی خوشیاں مل رہی ہیں ان کا ذکر کیوں نہ کریں ۔ یقین کریں کہ پاکستان کی کامیابیوں پر جب بھی انھیں کہا جاتا ہے کہ قومی الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کو دیکھیں تو جواز دیں گے کہ یہ سب تو حکومتی دباﺅ میںجھوٹ بولتے ہیں اور جو حکومت کہتی ہے وہی راگ الاپتے ہیں لیکن ایک آفاقی سچائی یہ بھی ہے کہ سچ کو کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی لہٰذا ہم بھی جھوٹ بولتے ہیں پاکستان کا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا بھی حکومت کی دھونس و دھمکی کی وجہ سے جھوٹ بولتا ہے لیکن کیا بین الاقوامی میڈیا بھی جھوٹ بولتا ہے لیکن چلیں بحث سے بچنے کے لئے یہ بات بھی مان لیں کہ پوری دنیا کا میڈیا بھی جھوٹ بول رہا ہے تو جیسا کہ عرض کیا کہ جھوٹ کو کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی لہٰذا اب کیا ہوا کہ ایران کی پارلیمنٹ میں ” تشکر پاکستان “ کے نعرے لگے ۔ ایران میں ” تشکر پاکستان “ کی ریلیاں نکالی گئیں ۔ ایران نے ” تشکر پاکستان “ کے ایک سے زیادہ نغمے بنائے اور صرف یہی نہیں بلکہ ایران نے فیلڈ مارشل کی کاوشوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے فیلڈ مارشل صاحب کے لئے بھی انتہائی دلکش نغمہ بنا دیا ۔ اب اصل کام یہی ہوا کہ ایران نے ہر قدم پر پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی انتھک کوششوں کو سراہتے ہوئے انھیں خراج عقیدت پیش کیا ہے جس کے سامنے اس قلیل و محدود و ذہن بند گروہ کی شعبدہ بازیوں کو ” دی اینڈ “ لگ گیا تو انھوں نے اب بحالت مجبوری کمپنی کی مشہوری اور جنتا کے دل کی تسلی کے لئے چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو زبردستی کشید کر کے سوشل میڈیا پر پیش کرنا شروع کر دیں ۔
قارئین کے ساتھ یہ تو زیادتی ہو گی کہ اگر ان چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو ان کے ساتھ شیئر نہ کیا جائے ۔ دامن کالم میں اتنی گنجائش تو نہیں کہ ساری حماقتوں کو شیئر کیا جا سکے لیکن دو تین چھوٹی چھوٹی خوشیاں ضرور بیان کر دیتے ہیں اور یہ بھی ذہن میں رہے کہ ان چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو وطن عزیز کے حوالے سے جو بڑی خوش خبریاں ہیں اکثر انہی میں سے ون2کا فور کر کے کشید کیا جاتا ہے ۔ مثلاََ ایک تصویر جو سوئٹزر لینڈ کے مشہور تفریحی مقام برگن سٹاک میں میٹنگ روم کی ہے کہ جہاں پر مذاکرات ہوئے تھے کہ وہاں پر میاں شہباز شریف کھڑے ہیں لیکن فوٹو ایڈیٹنگ سے ان کے چہرے کی رگوں کو ابھار کر دکھایا گیا ہے اور پھر اس پر لکھا گیا ہے کہ ” مذاکرات کی ناکامی پر وزیر اعظم کی مایوسی اور غصے بھری تصویر ۔ چہرے کی پھولی ہوئی رگیں غصے کا پتا دیتی ہیں “ ۔ پھر ایک پوسٹ نظروں سے گذری کہ جسے شغلیہ پوسٹ ہی کہہ سکتے ہیں کہ ” اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری نے وزیر اعظم کو پیغام بھیجا ہے کہ میرے دورہ پاکستان سے پہلے عمران خان کو رہا کر دو “ ۔ دیدہ دلیری دیکھیں کہ اس کے ساتھ ایک وڈیو بھی شیئر کی ہے کہ جس میں ایک بندے کو اقوام متحدہ کا جنرل سیکریٹری دکھایا گیا ہے اور وہ کسی اجنبی زبان میں انٹر ویو دے رہا ہے لیکن اس بندے کا رنگ کالا نہیں بلکہ سیاہ کالا ہے جبکہ اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری انٹونیو گوتریس پرتگال کے شہری ہیں اور گورے چٹے انسان ہیں ۔ ایک جگہ میاں شہباز شریف نے چھتری پکڑی ہوئی ہے اورزرداری صاحب مذاق میں ان سے چھتری کو پکڑ نے کی کوشش کر رہے ہیں تو اس پر انھیں جہالت کا خطاب دے دیا گیا۔ حد یہ ہو گئی کہ کہا گیا کہ ایرانی صدر ناراض ہو کر چلے گئے ہیں کیونکہ انھوں نے کچھ انتہائی اہم امور پر اڈیالہ جیل میں ایک قیدی سے مشاورت کرنی تھی لیکن حکومت پاکستان سے اس کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے وہ ناراض ہو کر چلے گئے۔
یہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں تو چلتی رہیں گی اور بھائی لوگ ان سے لطف انداوز بھی ہوتے رہیں گے لیکن ان کی اصل مشکل یہ ہے کہ ان کا مسئلہ نہ تو زرداری صاحب کے ساتھ ہے اور نہ ہی میاں برادران کے ساتھ ہے بلکہ ان کا اصل مسئلہ تو فیلڈ مارشل کے ساتھ ہے اور کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ دنیا بھر کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ کسی بھی ملک کی تعریف کرتے ہیں یا اس ملک کی سیاسی قیادت کی لیکن یہاں تو ماجرہ ہی الگ ہے کہ دنیا پہلے سیاسی قیادت کی تعریف کرتے ہیں اور پھر فیلڈ مارشل صاحب کی تعریف میں زمین و آسمان ایک کر دیتے ہیں ۔ اسی لئے تو کہتے ہیں کہ” مدعی لاکھ برا چاہے کیا ہوتا ہے وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے “ ۔
چھوٹی بڑی خوشیاں
09:07 AM, 2 Jul, 2026