بجٹ کے بعد کے سوالات٬ معاشی اصلاحات کی ضرورت

09:05 AM, 2 Jul, 2026


وفاقی بجٹ پیش ہو چکا ہے، پارلیمنٹ سے منظور بھی ہو گیا اور یکم جولائی سے اس پر عمل درآمد کا آغاز بھی ہو چکا ہے، مگر بجٹ کے حوالے سے چند بنیادی سوالات آج بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔ یہ سوالات صرف اعدادوشمار یا مالیاتی اہداف تک محدود نہیں بلکہ بجٹ سازی کے پورے عمل، اس کی شفافیت اور اس کی بنیاد بننے والے معاشی اشاریوں سے متعلق ہیں۔ اگر ان سوالات کا بروقت اور تسلی بخش جواب نہ دیا گیا تو آئندہ برسوں میں معاشی منصوبہ بندی مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ بجٹ کی تیاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ تمام فیصلے تازہ ترین معاشی اعدادوشمار کی روشنی میں کیے جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بجٹ سے قبل ہر معاشی اشاریہ عوام اور پالیسی سازوں کے سامنے موجود ہوتا ہے تاکہ فیصلے حقیقت پسندانہ ہوں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں اس مرتبہ ایسا نہیں ہوا۔وزارتِ خزانہ مئی اور جون 2026 کی اکنامک اپڈیٹ اینڈ آو¿ٹ لک رپورٹ بروقت جاری نہ کر سکی، حالانکہ یہ رپورٹ بجٹ سازی کی بنیاد تصور کی جاتی ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ ماہ جولائی کا آغازہونے پر ماہ جون کی معاشی اپ ڈیٹ اورآﺅٹ لک رپورٹ جاری کی گئی ۔ ایسے میں یہ سوال فطری ہے کہ کیا بجٹ واقعی تازہ ترین معاشی حقائق کی بنیاد پر تیار کیا گیا یا پھر اپریل اور مئی تک کے اعدادوشمار پر انحصار کیا گیا؟کیونکہ ماہ جون کی رپورٹ تو مہینہ ختم ہونے پر جاری ہوئی جس میں یہ بتایاکیا گیا کہ ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ ہواجس سے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ گئے اور صنعتی پیداوارنمیں بہتری اوردرآمدات میں اضافے کی نشاندھی کی گئی ۔ اگرچہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس نے برآمدات، درآمدات، ترسیلاتِ زر، زرمبادلہ کے ذخائر اور مہنگائی سمیت چند اشاریے جاری کیے، لیکن بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار، نجی شعبے کو 
قرضوں کی فراہمی، زرعی قرضوں اور نان ٹیکس ریونیو جیسے اہم شعبوں کے اعدادوشمار دستیاب نہ تھے لیکن ماہ جون کی رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ جولائی سے اپریل تک بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار6.4فیصد بڑھی اور اگر یہ درست ہے تو پھر خوش آئند ہے۔لیکن جب معیشت کی مکمل تصویر ہی سامنے نہ ہو تو بجٹ کے تخمینے کس حد تک حقیقت کے قریب ہو سکتے ہیں، یہ ایک اہم سوال ہے۔ اسی طرح فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے محصولات کے حوالے سے بھی مختلف اعداد سامنے آئے۔ اگر واقعی محصولات کا خسارہ تقریباً ایک کھرب روپے تک پہنچا تو یقیناً اس کے اثرات آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بھی مرتب ہوں گے۔ بہتر یہی ہوتا کہ حکومت تمام اعدادوشمار کھلے انداز میں عوام اور پارلیمنٹ کے سامنے رکھتی تاکہ کسی قسم کی قیاس آرائی جنم نہ لیتی۔حکومت نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود عوام کو مکمل ریلیف دینے کے بجائے پیٹرولیم لیوی میں اضافہ کیا۔ حکومت کا مو¿قف اپنی جگہ درست ہو سکتا ہے کہ اسے مالی وسائل کی ضرورت تھی، لیکن عوام یہ سوال ضرور کرتے ہیں کہ جب عالمی قیمتیں کم ہو رہی تھیں تو اس کا براہِ راست فائدہ صارفین تک کیوں نہ پہنچایا گیا؟ مہنگائی سے متاثرہ طبقے کے لیے یہ ریلیف نہایت اہم ہو سکتا تھا۔اس وقت پاکستان کی معیشت ایک نازک مرحلے سے گزر رہی ہے۔ عالمی سطح پرجاری کشیدگی، خصوصاً مشرق وسطیٰ کی صورتحال، تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاو¿ اور بین الاقوامی مالیاتی دباو¿ جیسے عوامل ہماری معیشت پر براہِ راست اثر انداز ہو رہے ہیں۔ ایسے حالات میں بجٹ سازی کے لیے ہر تازہ معاشی اشارے کو مدنظر رکھنا ناگزیر تھا۔ ایک اور معاملہ جس نے توجہ حاصل کی، وہ بجٹ سازی میں شریک بعض سرکاری افسران کے لیے خصوصی مالی انعامات کا اعلان ہے۔ اصولی طور پر بجٹ کی تیاری انہی افسران کی سرکاری ذمہ داری ہے۔ اس لیے اضافی مالی انعامات کی روایت پر نظرثانی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں سرکاری ملازمین کی حوصلہ افزائی ان کی مجموعی کارکردگی، اہلیت، دیانت داری اور نتائج کی بنیاد پر کی جاتی ہے، نہ کہ ان فرائض کی انجام دہی پر جو ان کے عہدے کا لازمی حصہ ہوں۔ یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ پاکستان کی معاشی بحالی میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ترسیلاتِ زر نے کئی مواقع پر ملکی معیشت کو سہارا دیا ہے۔ اگر حکومت اوورسیز پاکستانیوں کے لیے مزید آسانیاں، بہتر سرمایہ کاری کے مواقع، خصوصی مراعات اور ترسیلاتِ زر بڑھانے والوں کے لیے اعزازی اسکیمیں متعارف کرائے تو اس سے نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا بلکہ معیشت کو بھی مزید استحکام حاصل ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ برآمدات میں اضافہ، صنعتی سرگرمیوں کی بحالی، کاروباری لاگت میں کمی، ٹیکس نظام کی سادگی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ محض نئے ٹیکس لگانے سے معیشت مضبوط نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے پیداوار، سرمایہ کاری اور روزگار میں اضافہ ضروری ہوتا ہے۔ بلاشبہ موجودہ حکومت کو مشکل معاشی حالات ورثے میں ملے ہیں اور آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط بھی اپنی جگہ حقیقت ہیں، لیکن اس کے باوجود شفافیت، بروقت معلومات کی فراہمی اور عوامی اعتماد پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ مضبوط معیشت صرف مالی اہداف حاصل کرنے سے نہیں بنتی بلکہ اس کے لیے مضبوط ادارے، شفاف پالیسی سازی اور عوام کا اعتماد بھی اتنا ہی ضروری ہوتا ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ بجٹ کو ایک سالانہ مالی دستاویز کے بجائے قومی معاشی حکمت عملی کا حصہ سمجھا جائے۔ اگر حکومت بروقت اعدادوشمار، حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی، میرٹ پر مبنی فیصلوں اور کاروبار دوست پالیسیوں کو اپنی ترجیح بنائے تو پاکستان نہ صرف موجودہ معاشی مشکلات سے نکل سکتا ہے بلکہ پائیدار ترقی کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔ یہی وہ سمت ہے جس کی طرف ہمیں سنجیدگی، دیانت داری اور قومی اتفاقِ رائے کے ساتھ بڑھنا ہوگا۔

مزیدخبریں