سیاست کی طالبہ سے سیاسی گپ شپ

09:19 AM, 1 Jul, 2025

 سکینہ سومرو نجی یونیورسٹی میں پولیٹکل سائنس کی طالبہ ہے جو اس کی سیاست سے دلچسپی کا مظہر ہے۔ اسے جب سیاسی گفتگو کا ابال اٹھتا ہے تو میں تختہ مشق بنتا ہوں۔ میرے نزدیک یہ اس کی سوچ کا تضاد ہے وہ بیک وقت بے نظیر بھٹو اور مریم نواز کو پسند کرتی ہے ۔اسے کہا یہ تمہارا عور تیانہ تعصب ہے، خاصی ذہین ہے برجستہ جواب دیا، انکل یہ آپ کی مردیانہ جیلسی نہیں ہے۔ اچھا یہ بتاؤ یہ دو متضاد شخصیات کی پسندیدگی کی وجہ، جواب دیا جہاں تک بے نظیر کا تعلق ہے ان کے بارے میں بہت کچھ سنا ہے حتیٰ کہ ان کے سیاسی مخالفین بھی ان کی بعض خوبیوں کا اعتراف کرتے ہیں۔ لہٰذا بے نظیر صاحبہ کے حوالے سے تومیں پکی سنی ہوں (سکینہ حسین سومرو کا تعلق شیعہ مسلک سے ہے) اور مریم نواز کی پنجاب میں کارکردگی بقائمی ہوش و حواس علم میں آرہی ہے۔ میںنے کہا دیکھو تم نے دو تین بار مجھ سے کئے سوال کا خود جواب دے دیا ہے کہ میں زیادہ تر ن لیگ کی حمایت کیوں کرتا ہوں۔ محترمہ صاحبہ، میں ن لیگ کی نہیں بلکہ میاں نواز شریف، میاں شہباز شریف اور اب مریم نواز کی کارکردگی کا اعتراف کرتا ہوں کوئی اچھا کام کرے تو اس کی تعریف و اعتراف ایک صحافی کی اخلاقی و پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے۔ یہ فخر نہیں بلکہ قلبی اطمینان ہے کہ میاں نواز شریف ،میاں شہباز شریف یا مریم نواز شریف میں سے کوئی ایک یہ نشاندہی نہیں کر سکتا ۔ ان کی کسی حکومت سے کبھی کوئی فائدہ حاصل کیا ہو۔ اس لئے میرے اس عمل کو دیانت دارانہ سمجھا جانا چاہیے۔ سکینہ نے سوال کیا، آپ جیسے صحافی کتنے ہیں۔ عرض کیا ذاتی مفادات سے بے نیاز ، پیشہ ورانہ دیانت کا پرچم بلند رکھنے والے بے شمار ہیں۔ اچھا یہ بتاو قائد اعظم کے بعد پاکستان میں کس لیڈر کو حقیقی سیاسی لیڈر سمجھتی ہو۔ جواب میں سوال کر دیا قائد اعظم کیوں نہیں۔ ارے یہ بہت حساس معاملہ ہے۔ قائد اعظم کو زیر بحث لانا درست نہیں ہے۔ بڑے تیکھے انداز میں دوسرا سوال کر دیا کیوں کیا قائد اعظم سے غلطی نہیں ہو سکتی، کیا انہیں معصوم سمجھا جائے۔ معصومین میں تو صرف انبیاکرام اور اہلبیت ہی آتے ہیں۔ ارے بھئی یہ تم کس چکر میں پڑگئی ہو بات معصوم ہونے کی نہیں، قائد اعظم کو احتراماً اور قانوناً بھی استثنیٰ حاصل ہے۔ ان کے بعد کے لیڈروں کی بات کرو۔ جہاں تک ان کے بعد کے لیڈروں کا تعلق ہے ایک بھی ایسا نہیں جو سیاسی جدوجہد کے ذریعہ اقتدار کی منزل تک پہنچاہو اور سندھ میں تو بالکل بھی نہیں۔تو کیا ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹوبھی نہیں۔ دیکھیں انکل میں بے نظیر بھٹو کی شخصیت اور علم میں آنے والی بعض خوبیوں کی وجہ سے بہت متاثر ہوں لیکن ان کی سیاسی جدوجہد باپ کے سیاسی ورثہ کی بنیا د پر ہے یعنی بھٹو کی بیٹی ہونا۔ بالکل جیسے مریم نواز کو نواز شریف کی بیٹی ہونے کی وجہ سے سیاسی پیش رفت کا میدان ملا ہے۔ البتہ اپنے اپنے میدان میں بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ ان کی انفرادیت ضرور ہے۔ بلاول کا سیاسی مستقبل کیا دیکھتی ہو، بلاول کو جس طرح سیاسی مسند پر بٹھایا گیا تھا حکومتی مسند پر بھی بٹھایا جا سکتا ہے۔ باپ اور پارٹی اسے لے کر چل رہے ہیں۔ آپ کو پتہ ہے میرے تمام گھر والے پیپلزپارٹی میں ہیں سب سے پہلے بے شمار سندھیوں کی طرح بھٹو کے گرویدہ۔ پھر اس کی بیٹی (بے نظیر بھٹو) پھر اس کے بیٹے بلاول اور اگر بلاول کے بیٹا، بیٹی ہوئے تو پھر اسے سیاسی رہنما مان لیں گے اور اگر کوئی غیر معمولی بات نہ ہوئی تو یہ سلسلہ نسل در نسل چلتا رہے گا۔ ٹھیک ہے اچھا ایک سندھی کی حیثیت سے قوم پرستوں کے بارے میں کیا کہتی ہو۔ انکل وقت ضائع کرنے والی بات کیا ضروری ہے۔ یہ اپنا دیدار(سکینہ کا بھائی دیدار حسین سومرو) بھی ایک قوم پرست پارٹی میں شامل ہے۔ ایک روز کالا باغ ڈیم کے خلاف ریلی میں شرکت کے بعد آیا تو سوال کیا۔ کالا باغ ڈیم سے سندھ کو کیا نقصان ہے۔ جواب ملا سندھ ڈوب جائے گا۔ مگر کیسے، کچھ پتہ نہیں۔ جھنجھلا کر جواب دیا یہ تم جیسے لوگوں کی وجہ سے پنجاب کالا باغ ڈیم بنا رہا ہے۔ انکل قوم پرست جماعتوں میں ننانوے عشاریہ نو فیصد دیدار ہی دیدار ہیں۔ ہوں ٹھیک ہے اور ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی جد و جہد؟ ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی جدوجہد میرے نزدیک، کرشماتی جدوجہد ہے۔ آپ جائزہ لیں پاکستان اور بھارت کی جنگ نے ملک میں ایک نفسیاتی کیفیت پیدا کر رکھی تھی۔ بھٹو نے یہ دعویٰ کر کے تاشقند میں ان کے قومی مفاد کا سودا کر دیا گیا ہے ، پاکستانیوں کی توجہ حاصل کر لی اور پھر روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگا کر اس توجہ کو حمایت میں تبدیل کر دیا۔ سیاسی جدوجہد سیاسی پارٹیوں کے ذریعہ ہوتی ہے سیاسی پارٹی تو لوگوں کی توجہ اور حمایت حاص ہونے کے بعد بنی تھی۔ میری ذاتی رائے ہے برصغیر کی سیاسی تاریخ میں جواہر لعل نہرو ایسا لیڈر ہے جو سیاسی جدوجہد کے ذریعہ آگے آیا تھا اور کرم چند گاندھی ؟ اسے تو ہندوستان کے ہندوؤں کی رہنمائی کیلئے جنوبی افریقہ سے باقاعدہ بھیجا گیا تھا اورنواز شریف کے حوالے سے تمہاری کیا رائے ہے۔ دوسروں کی طرح نواز شریف بھی کسی سیاسی جدوجہد کے ذریعے سیاستدان نہیں بنا البتہ اپنے ہر دور میں اس نے ملک و قوم کیلئے دوسروں سے کہیںبہتر اور زیادہ کیا ہے۔ آپ کے نزدیک عورتیانہ تعصب سہی اب مریم باپ کے نقش قدم پر چلتی نظر آرہی ہے۔ آپ خود مریم نواز کی بہت تعریفیں کرتے ہیں۔ اسے عورتیانہ تو نہیں کونسا تعصب کہا جائے۔ دیکھو بات تعصب کی نہیں مریم نواز پنجاب کے لوگوں کیلئے جو انقلابی انداز کے اقدامات کر رہی ہے میں اس کی تعریف اور اعتراف کرتا ہوں۔ اچھا اب میرا بھی سوال ہے ۔ سندھ حکومت کے بارے میں کیا سوچ ہے۔ دیکھو میں سندھ میں ہوں ۔ عوامی بھلائی کے اقدامات سے مجھے بھی از خود فائدہ ہوگا۔ سندھ حکومت اعلانات اور بیانات کی بجائے سندھ میں ایسے اقدامات کرے جیسے مریم پنجاب میں کر رہی ہے تو میں سندھ کے وزیر اعلی کی بھی کوئی مفاد حاصل کئے بغیر تعریف اور ستائش پوری دیانت داری سے کروں گا۔ سندھ حکومت کراچی کو صاف ستھرا شہر بنا دے ، ہر ڈیڑھ دو ماہ بعد دھابیجی اور کبھی حب سے آنے والی پائپ لائنیں ٹوٹنے سے پانی کا بحران معمول ہے۔ ٹینکر مافیا کی چاندی ہو جاتی ہے ادھر توجہ دے۔ کے ای انتظامیہ کو لگام ڈالے ۔ گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ سے نجات دلائے۔ کراچی کے ہزاروں نہیں، لاکھوں گھروں اور دکانوں میں کنڈے لگے ہوئے ہیں ان پر قابو پالے۔ کچھ تو کرے جس سے لوگوں کو سکون، ریلیف ملے۔ جی انکل ، بات یہ ہے پیپلزپارٹی کو ایسا کچھ نہ کر کے بھی ووٹ مل جاتے ہیں۔ کیسے ملتے ہیں بس مل جاتے ہیں۔ آپ نے سیاستدانوں اور سیاسی جدوجہد کی بات کی تھی۔ میرے خیال میں الطاف حسین اور عمران خان دو ایسے لیڈر ہیں جو کسی سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں تو نہیں آئے لیکن ان کو جو مقبولیت ملی اگروہ اپنی ذات سے باہر آسکتے ، اگر وہ عوام کیلئے واقعی مخلص اور نیک نیت ہوتے تو اس ملک میں مڈل کلاس طبقہ کو سیاست میں مؤثر کردار دلوا سکتے تھے۔ اس طرح سیاست میں جاگیرداروں یا بڑے زمینداروں اور سرمایہ داروں کی اجارہ داری پر ضرب پڑتی اور ملکی سیاست میں زبردست توازن قائم ہو جاتا۔ سکینہ سومرو سے گپ شپ کو صفحہ قرطاس پر لانے کا مقصد سندھ کی نئی نسل کی سوچ ، سیاسی بیداری اور رجحانات کو اجاگر کرنا ہے۔ میںنے کہا سکینہ بہت بڑی باتیں کرتی ہو، اللہ تمہاری حفاظت کرے۔ جواب دیا اس کیلئے ماں ہر روز امام ضامن باندھتی ہے۔

مزیدخبریں