دنیا آج ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں طاقت، نظریات، ٹیکنالوجی اور عالمی نظمِ نو (World Order) کے تصورات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ صدیوں سے طاقت کے مراکز تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ روم، بغداد، دہلی، لندن، ماسکو اور اب واشنگٹن ہر عروج کے پیچھے زوال کی ایک کہانی چھپی ہے۔ آج کی دنیا ایک بار پھر انہی موڑوں پر آ پہنچی ہے جہاں تاریخ اپنے آپ کو دہرانے کی تیاری کر رہی ہے۔ ماضی کی نوآبادیاتی قوتیں، سرد جنگ کے فریقین اور موجودہ ابھرتی طاقتیں، سب ایک نئے توازنِ طاقت کی تلاش میں ہیں۔
1990 کی دہائی سے 2000 کی دہائی تک امریکہ نے دنیا پر عسکری، معاشی اور ثقافتی اجارہ داری قائم رکھی۔ نیٹو کی قیادت، اقوام متحدہ پر اثر، ڈالر کی عالمی حیثیت، ہالی ووڈ، ٹیکنالوجی کمپنیاں، سب امریکی طاقت کی علامتیں بن گئیں۔ لیکن افغانستان، عراق، شام، اور لیبیا جیسے تنازعات نے امریکی عسکری مداخلتوں کی ناکامی کو عیاں کیا۔ اندرونِ ملک نسلی کشمکش، سیاسی تقسیم، اور معاشی بحران نے امریکہ کی اخلاقی قیادت کے دعوے کو مجروح کیا۔ ٹرمپ دور کے بعد دنیا میں امریکہ کی عالمی قیادت پر اعتماد متزلزل ہوا۔
سوویت یونین کے انہدام کے بعد روس ایک کمزور اور بکھری ہوئی ریاست کے طور پر سامنے آیا۔ 1990 کی دہائی میں روس کی معیشت تباہ حالی کا شکار، سیاست انتشار زدہ، اور فوجی طاقت بکھری ہوئی تھی۔ لیکن 2000 کے بعد ولادی میر پوتن کی قیادت میں روس نے آہستہ آہستہ اپنے قدم جمانا شروع کیے۔ کریمیا کا الحاق 2014، شام میں مداخلت اور 2022 کی یوکرین جنگ روس کی دوبارہ طاقت بننے کی کوششوں کا اظہار ہے۔ اگرچہ عالمی پابندیوں نے روس کو معاشی طور پر نقصان پہنچایا، لیکن توانائی کی طاقت، اسلحے کی برآمد اور سٹریٹیجک سفارت کاری نے اسے ایک بار پھر عالمی منظرنامے میں قابلِ ذکر کردار ادا کرنے کے قابل بنا دیا ہے۔
اب دنیا چین کی طرف دیکھے گی، گزشتہ دو دہائیوں میں اس نے جس رفتار سے ترقی کی ہے، وہ تاریخ میں بے مثال ہے۔ 1980 کی دہائی میں اصلاحات کے بعد چین نے عالمی منڈی کا حصہ بننا شروع کیا اور 2020 تک دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن گیا۔ اب چین دنیا کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) کے ذریعے ایشیا، افریقہ اور یورپ کو جوڑ رہا ہے۔ ٹیکنالوجی (5G، AI، الیکٹرک گاڑیاں) میں امریکہ کا مقابلہ کر رہا ہے اور اپنی فوجی طاقت کو مسلسل بڑھا رہا ہے۔ چین نے عسکری جارحیت کے بجائے سفارتی و اقتصادی اثر و رسوخ کے ذریعے خود کو ابھرتی ہوئی عالمی قیادت کے طور پر منوایا ہے۔ ایران، سعودی عرب، افریقی ممالک، حتیٰ کہ یورپ میں بھی چین کی موجودگی بڑھ رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل اور ایران کے درمیان شدید کشیدگی اور جنوبی ایشیا میں پاکستان و بھارت تناؤ، خصوصاً کشمیر کی صورتحال، یہ دونوں محاذ بیک وقت سلگ اٹھے اور پاکستان کے نئے کردار نے تاریخ کا دھارا موڑ دیا۔ عالمی طاقتوں کو اپنے کردار پر بھی نظرثانی کرنا پڑے گی۔
آج کی دنیا میں جو چیز سب سے زیادہ ناپید ہے، وہ ہے اخلاقی قیادت۔ امریکہ مفادات کی بنیاد پر فیصلے کرتا ہے، روس طاقت کی بنیاد پر، چین معاشی مفاد کی بنیاد پر۔ ایسی دنیا میں اگر کوئی ملک انصاف، اصول اور امن کو اپنی بنیاد بناتا ہے، تو وہ عالمی سطح پر منفرد مقام حاصل کر سکتا ہے۔ پاکستان، ترکی، ملائیشیا اور دیگر مسلم ممالک کو مل کر ایک ایسا بیانیہ تشکیل دینا ہو گا جو صرف مذہب کی بنیاد پر نہیں، بلکہ انسانیت، امن اور انصاف پر مبنی ہو۔
دنیا اب یک قطبی نہیں رہی، بلکہ کثیر القطبی ہو چکی ہے۔ آنے والے چند برس میں ہم نئے رجحانات دیکھ سکتے ہیں۔ اگرچہ امریکہ عسکری طاقت برقرار رکھنے کا دعویدار رہے گا مگر عالمی قیادت پر گرفت کمزور ہوتی جائے گی۔ چین معاشی، ٹیکنالوجی اور سفارتی سطح پر قیادت کا مضبوط دعویدار ہو سکتا ہے۔ روس یورپ اور امریکہ کے لیے سٹریٹجک چیلنج بن سکتا ہے۔ ایران، سعودی عرب اور اسرائیل کے باہمی تعلقات عالمی منظر کو متاثر کریں گے۔ کشمیر اور افغانستان کے اثرات پورے خطے پر پڑ سکتے ہیں۔ افریقہ وسائل اور آبادی کی بنیاد پر اگلی دہائیوں میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی کی جنگ، اے آئی، کوانٹم کمپیوٹنگ، بائیو ٹیکنالوجی میں سبقت حاصل کرنے کی دوڑ۔
حالیہ جنگ میں پاکستان دنیا میں عسکری رول ماڈل کے طور پر ابھرا ہے جس نے امریکہ اور یورپ کے دفاعی نظام کو بھارت میں شکست اور چین کی عسکری ٹیکنالوجی کو دنیا میں متعارف کرایا۔ اب دنیا میں پاکستان کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکے گا اور امریکہ اپنی موجودہ حیثیت برقرار نہیں رکھ پائے گا۔ چین کے صدر کا بیان کہ دنیا امریکہ کے بغیر بھی ترقی کر سکتی ہے بہت بڑا تجزیہ اور تبصرہ ہے۔ ویسے بھی دو سو سالہ تاریخ رکھنے والے ممالک کے مقابلے میں 7ہزار سالہ تاریخ رکھنے والے ممالک اگر مربوط نظام اپنائیں تو کوئی مقابلہ ہی نہیں۔
دنیا جس تیزی سے بدل رہی ہے، اس میں اصل طاقت صرف میزائلوں یا معیشت سے نہیں، بلکہ نظریات، اصولوں اور بیانیے سے حاصل ہو گی۔ چین نے یہ بیانیہ امن کی شکل میں پیش کیا ہے، جبکہ امریکہ اب بھی جمہوریت کے نام پر مداخلتیں کرتا ہے۔ پاکستان، اگر جنگ سے دور رہ کر، اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے عالمی برادری کے ساتھ چلنے کی حکمت عملی اپنائے، تو وہ نہ صرف اپنے لیے استحکام حاصل کر سکتا ہے، بلکہ امت مسلمہ اور جنوبی ایشیا میں ایک اخلاقی رہنما بھی بن سکتا ہے۔ آج کی دنیا میں بندوق سے زیادہ بیانیہ طاقت رکھتا ہے۔ اور قومیں وہی کامیاب ہوتی ہیں جو شور و غبار کے بیچ امن، فہم، اور ترقی کی بات کرنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔
بدلتی دنیا!پس منظر و متوقع پیش منظر
09:17 AM, 1 Jul, 2025