سانحہ سوات، کے پی حکومت ذمہ دار

09:17 AM, 1 Jul, 2025

گزشتہ دنوں خیبر پختونخوا کے مشہور سیاحتی مقام سوات میں ایک اندوہناک واقعہ پیش آیا جہاں سیرو تفریح کی غرض سے آنے والے ڈسکہ کے ایک ہی خاندان کے متعدد افراد دریائے سوات میں ڈوب کر جان کی بازی ہار گئے۔ یہ حادثہ نہ صرف متاثرہ خاندان کے لیے سانحہ تھا بلکہ یہ اس پورے نظام کے منہ پر طمانچہ ہے جو شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے دعوے تو کرتا ہے مگر عملی طور پر کوئی قدم نہیں اٹھاتا۔یہ حادثہ حادثہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی مجرمانہ غفلت ہے جس کی ذمہ داری نہ صرف مقامی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے بلکہ خیبر پختونخوا حکومت بھی اس سے بری الذمہ نہیں ہو سکتی۔ دریا کے کنارے سیاحوں کی آمد ایک مستقل اور متوقع عمل ہے۔ ایسے میں حکومت کی یہ ذمے داری تھی کہ خطرناک مقامات کی نشاندہی کی جاتی، وارننگ بورڈز نصب کیے جاتے، اور کم از کم تربیت یافتہ لائف گارڈز تعینات کیے جاتے۔ دریائے سوات اپنی فطری خوبصورتی، نیلے پانیوں اور دلکش مناظر کے لیے مشہور ہے۔ ہر سال ہزاروں سیاح یہاں کا رخ کرتے ہیں، خاص طور پر پنجاب اور سندھ سے لوگ گرمیوں کی چھٹیوں میں ان مقامات کو ترجیح دیتے ہیں۔ مگر یہ قدرتی حسن اب خطرناک ہوتا جا رہا ہے۔ دریا کی گہرائی، اورغیرمتوقع لہریں بارہا قیمتی جانوں کو نگل چکی ہیں۔ یہ پہلا واقعہ نہیں، مگر ہر بار مقامی حکومت صرف رسمی بیانات تک محدود رہتی ہے۔یہ سوال بہت اہم ہے کہ آخر خیبر پختونخوا حکومت سیاحتی مقامات پر بنیادی حفاظتی انتظامات کیوں نہیں کر پاتی؟ کیا ان علاقوں سے محض آمدنی حاصل کرنا ہی مقصد ہے؟ اگر حکومت سیاحتی ٹیکس اور ہوٹل لائسنسنگ سے کمائی کر سکتی ہے تو کیا اس کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری نہیں کہ وہ ان سیاحوں کی جانوں کی حفاظت کو یقینی بنائے؟نہ تو سڑکوں پر درست سائن بورڈز ہیں، نہ دریا کے پاس ریسکیو ٹیمیں۔ نہ ہی کسی خطرناک مقام پر وارننگ بورڈز موجود ہیں، نہ ہی حفاظتی بیریئرز۔ یہاں تک کہ مقامی لوگوں کو بھی دریا کی گہرائی اورخطرات کا مکمل علم نہیں ہوتا، توباہرسے آنے والے لوگ کیسے اندازہ لگا سکیں گے کہ کہاں جانا محفوظ ہے اور کہاں نہیں؟حادثہ ہونے کے بعد حسبِ روایت "نوٹس لے لیا گیا"، مگر جن کی جانیں گئی ہیں ان کا کوئی مداوا نہیں۔ ان کے دکھ کبھی کم نہیں ہوپائیں گے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے رسمی کارروائی کر کے معاملہ رفع دفع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مگر یہ سب دکھاوے کے سوا کچھ نہیں۔ عوام اب ان بیانات سے تنگ آ چکے ہیں۔ انہیں عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ڈسکہ سے تعلق رکھنے والے اس خاندان کے ایک درجن سے زائد افراد تفریح کی غرض سے سوات آئے تھے۔ ان میں بچے، خواتین، اور بزرگ بھی شامل تھے۔ کسی نے نہیں سوچا تھا کہ یہ سیر ایک قیامت میں بدل جائے گی۔ جیسے ہی دریا میں ایک بچہ بہا، باقی اسے بچانے کودے، اور یوں ایک کے بعد ایک سب دریا کی بے رحم موجوں کا نوالہ بن گئے۔ کوئی لائف گارڈ نہیں، کوئی ریسکیو ٹیم نہیں، کوئی وارننگ نہیں…  صرف موت کا منظر اور آنکھوں کے سامنے ڈوبتے پیارے۔
اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر عوام کا شدید ردعمل سامنے آیا۔ حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا گیا۔ متاثرہ خاندان کی ویڈیوز، تصاویر اور آہ و بکا نے ہر حساس دل کو ہلا کر رکھ دیا۔ مگر کیا صرف سوشل میڈیا پر غم و غصہ ظاہر کرنا کافی ہے؟ جب تک عوام حکومت سے جواب دہی نہیں کریں گے، اور سنجیدگی سے ان واقعات پر مستقل اصلاحات کا مطالبہ نہیں کریں گے، تب تک یہ سانحات دہرائے جاتے رہیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت فوری طور پر درج ذیل اقدامات کرے: تمام سیاحتی مقامات پر لائف گارڈز کی مستقل تعیناتی، دریاؤں اور نہروں کے کنارے خطرے کے بورڈز اور بیریئرز، ریسکیو 1122 کی ہمہ وقت دستیابی اور مقامی تربیت یافتہ ٹیموں کا قیام، سیاحوں کو محفوظ تفریح کے بارے میں آگاہی مہم، حادثات کی صورت میں فوری انکوائری اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی۔
اگر حکومت آج نہیں جاگی، تو کل شاید کوئی اور خاندان اس سانحے کا شکار بنے… اور ہم پھر صرف افسوس کرتے رہ جائیں۔ ایک اور خبر بھی سامنے آئی ہے کہ دریائے سوات میں پھنسے خاندان کی مدد کے لیے ریسکیو 1122 کی پہلی گاڑی تقریباً 19 منٹ بعد پہنچ گئی تھی مگر ان کے پاس آلات تھے نہ دیگر سامان۔ عینی شاہدین کے مطابق یہ ٹیم صرف ایک میڈیکل ایمبولینس ساتھ لائی تھی جو کچھ دیر بعد واپس چلی گئی۔
یہ اقدامات محض وقتی نہیں، مستقل اور فعال ہونے چاہئیں کیونکہ جان کا زیاں صرف ایک خاندان کا نہیں ہوتا، یہ پورے سماج کی ناکامی ہوتی ہے۔ ڈسکہ کے اس خاندان کی قربانی کو محض ایک عدد میں نہ شمار جائے۔ یہ واقعہ ایک تبدیلی ہے … نظام، حکومت، اور ہم سب کے لیے۔ جب تک ہم اس چیخ کو سننے سے انکار کرتے رہیں گے، تب تک نہ سیر محفوظ ہوگی، نہ سفر۔ خیبر پختونخوا جیسے خوبصورت علاقوں کو صرف تصویروں میں نہ سجائیں، بلکہ ان کی حفاظت بھی کریں۔ کیونکہ خوبصورتی تبھی مکمل ہے جب وہ جان لیوا نہ ہو۔

مزیدخبریں