محکمہ داخلہ پنجاب نے غیر قانونی پتنگ بازی کے خلاف سخت ہدایات جاری کر دیں

12:43 PM, 1 Jan, 2026

لاہور : محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے بھر میں غیر قانونی پتنگ بازی کی روک تھام کے لیے سخت ہدایات جاری کر دی ہیں۔ یہ مراسلہ صوبائی کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، آر پی اوز، سی پی اوز اور ڈی پی اوز کو بھیجا گیا ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ حکومت پنجاب اس مسئلے پر سنجیدگی سے کارروائی کرے گی۔

حکام کے مطابق، حکومت نے بعض علاقوں میں غیر قانونی پتنگ بازی پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسی سلسلے میں "کائٹ فلائنگ ریگولیشنز بل 2025" کے تحت پابندی لگائی گئی ہے۔ اس کے تحت، صوبائی کابینہ نے لاہور میں بسنت کے دوران صرف 6، 7 اور 8 فروری کو محدود اور محفوظ طریقے سے پتنگ بازی کی اجازت دی ہے۔

ترجمان نے یہ بھی واضح کیا کہ بسنت کے دوران مقررہ وقت سے پہلے پتنگ بازی یا پتنگ بنانے کی کسی بھی جگہ اجازت نہیں ہو گی۔ غیر قانونی پتنگ بازی انسانی جانوں کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے، اور پچھلے برسوں میں اس کی وجہ سے کئی راہگیروں کے زخمی ہونے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔

محکمہ داخلہ نے کہا کہ حکومت پنجاب کے لیے انسانی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے، اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ کوئی بھی خطرناک پتنگ بازی نہ ہو۔ بسنت کے موقع پر صرف ثقافتی سرگرمی کے طور پر محفوظ پتنگ بازی کی اجازت ہوگی، لیکن دھاتی ڈور، تندی یا مانجھے والی ڈور کا استعمال کسی صورت نہیں ہوگا۔

مزید یہ کہ غیر قانونی پتنگ سازی یا فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، اور انہیں بھاری جرمانے یا طویل قید کی سزائیں ہو سکتی ہیں۔ محکمہ داخلہ نے تمام اضلاع کے حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان ہدایات پر عملدرآمد کی رپورٹ بھیجیں۔پبلک سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بسنت کے دوران قوانین کی پابندی کریں اور اس تہوار کو محفوظ طریقے سے منائیں۔

مزیدخبریں