ظہران ممدانی نےحلف اٹھا کر میئر کا عہدہ سنبھال لیا

10:57 AM, 1 Jan, 2026

نیویارک : نیویارک کے تاریخی شہر میں ایک نیا دور شروع ہوا جب 34 سالہ ظہران ممدانی نے قرآنِ مجید پر حلف اٹھا کر میئر کا عہدہ سنبھالا۔ وہ نہ صرف نیویارک کے پہلے مسلمان، بلکہ پہلے جنوبی ایشیائی اور افریقی نژاد میئر بھی بنے ہیں، جس سے ان کی حلف برداری شہر کی تاریخ میں ایک سنگ میل بن گئی۔

ظہران ممدانی نے سٹی ہال کے نیچے ایک بند سب وے اسٹیشن میں حلف اٹھایا، جہاں انہوں نے قرآنِ مجید پر ہاتھ رکھ کر ذمہ داریاں سنبھالیں۔ یہ پہلا موقع تھا جب نیویارک سٹی کے کسی میئر نے قرآن پر حلف لیا، کیونکہ ماضی میں بیشتر میئرز بائبل پر حلف اٹھاتے آئے ہیں۔

ظہران ممدانی کی حلف برداری نہ صرف ایک سیاسی کامیابی ہے بلکہ نیویارک کی مذہبی اور ثقافتی تنوع کی عکاسی بھی کرتی ہے۔ اس موقع پر، ممدانی نے دو قرآن استعمال کیے: ایک ان کے دادا کا اور دوسرا ایک قدیم نسخہ جو نیویارک پبلک لائبریری میں محفوظ ہے۔ یہ قرآن عوامی رسائی کی علامت ہیں اور اس موقع کی اہمیت کو مزید بڑھاتے ہیں۔

ظہران ممدانی کی ذاتی پس منظر بھی اس تنوع کا حصہ ہے؛ وہ جنوبی ایشیائی نژاد ہیں، یوگنڈا میں پیدا ہوئے، اور نیویارک میں پروان چڑھے۔ ان کی اہلیہ امریکی نژاد شامی ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران، ممدانی نے شہر کے مسائل جیسے مہنگائی اور بنیادی سہولتوں پر زور دیا، ساتھ ہی اپنی مسلم شناخت کو بھی فخر سے پیش کیا۔ انہوں نے شہر کی مساجد میں جا کر مسلم کمیونٹی کے لوگوں سے رابطہ کیا اور انہیں اپنے حق میں ووٹ دینے کی ترغیب دی۔

ان کی تیز رفتار سیاسی کامیابی کے باوجود، انہیں اسلاموفوبیا اور تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا، خاص طور پر قرآن پر حلف لینے کے فیصلے پر کچھ قدامت پسند حلقوں کی جانب سے اعتراضات سامنے آئے۔ مگر ممدانی نے اس پر کہا کہ وہ اپنی شناخت یا عقیدے پر سمجھوتہ نہیں کریں گے، اور ہمیشہ فخر کے ساتھ اپنی زندگی اور ایمان کا اظہار کریں گے۔

اس کے بعد استعمال ہونے والے تاریخی قرآن کو نیویارک پبلک لائبریری میں نمائش کے لیے رکھا جائے گا تاکہ لوگ نیویارک کی مسلم تاریخ اور ثقافت کے بارے میں مزید جان سکیں۔

مزیدخبریں