دہشت گردی اس دھرتی پر ایسا سایہ بن کر منڈلا رہا ہے جو سرحدوں کی باڑ پھلانگ کر آتا ہے اور گھروں کی دہلیز پر قبضہ جماکر بیٹھ جاتا ہے۔ یہ مدرسوں اور یونیورسٹیوں کے صحن میں اترتا تو دلوں میں اندھیرا بھر دیتا ہے۔ اب یہ محض ریاستی سلامتی کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ معاشرے کی رگوں میں سرایت کرتا ہوا وہ زہر بن چکا ہے جو نسلوں کی رگوں میں اترنے کے در پے ہے۔ اس زہر کے سوداگروں کا کوئی دین ہے، ایمان اور نہ ہی ان کی اخلاقیات کی کوئی حدِ فاصل ہے۔ ان کے نزدیک انسان محض ایندھن ہے اور نوجوان نسل وہ خشک لکڑی جسے بیانیے کی ایک چنگاری بھسم کر سکتی ہے۔
یہ لوگ خود کو محرومی کی داستان، مظلومیت کی تصویر اور نام نہاد مزاحمت کا استعارہ بنا کر پیش کرتے ہیں، مگر ان کا اصل چہرہ اس وقت نمایاں ہوتا ہے جب وہ کتاب کے مقابلے میں بندوق رکھ دیتے ہیں، قلم کے مقابلے میں بم کو فوقیت دیتے ہیں اور علم کے چراغ بجھا کر جہالت کی آگ بھڑکاتے ہیں۔ انہیں سب سے زیادہ خوف سوال سے ہے، سوچ سے ہے اور اس شعور سے ہے جو انسان کو غلامی سے انکار سکھاتا ہے۔ اسی لیے ان کا پہلا وار ہمیشہ تعلیمی اداروں پر ہوتا ہے، اساتذہ پر ہوتا ہے اور ان نوجوان ذہنوں پر ہوتا ہے جو ابھی اپنی پہچان کی تلاش میں ہوتے ہیں۔
اس ملک نے وہ دن بھی دیکھے ہیں جب سکولوں کے بستے خون سے رنگے گئے، جب اساتذہ کی لاشیں تعلیمی اداروں کے دروازوں پر گریں اور جب خوف نے علم کے ماحول کو یرغمال بنا لیا۔ مگر وقت کے ساتھ ایک اور بھیانک حقیقت سامنے آئی۔ وہ استاد جس کے ہاتھ میں علم کی شمع ہونی چاہئے تھی، وہ اندھیروں کا سوداگر نکلا۔ وہ کلاس روم جہاں شعور جنم لیتا ہے، نفرت کی آماجگاہ بنا دی گئی۔ یہ واقعہ محض ایک فرد کی گمراہی نہیں تھا، یہ اس بات کا اعلان تھا کہ دہشت گردی اب پہاڑوں اور سرحدوں تک محدود نہیں رہی، یہ ہمارے تعلیمی اداروں کے اندر تک سرایت کر چکی ہے۔
حال ہی میں اس درندگی نے ایک اور موڑ لیا ہے۔ دہشت گردوں نے اپنی تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ اب معصوم بچیوں کو بھی اس آگ میں جھونکنے سے دریغ نہیں کیا جا رہا۔ ایک کم عمر بلوچ طالبہ کو خودکش حملے کے لئے تیار کرنے کی سازش نے پورے معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ یہ کوئی دور افتادہ، بھوک اور محرومی میں پلے گھر کی کہانی نہیں تھی۔ یہ ایک ایسے گھر کی بیٹی تھی جس کے افراد خود ریاستی اداروں سے وابستہ تھے۔ اس حقیقت نے اس سوال کو اور زیادہ تلخ بنا دیا ہے کہ اگر یہ زہر ایسے گھروں تک پہنچ سکتا ہے تو پھرکون سا دروازہ محفوظ ہے؟۔
یہاں دہشت گردوں کا ہتھیار بندوق یا دھماکہ خیز مواد نہیں تھا۔ ان کا اصل ہتھیار ایک چھوٹا سا موبائل فون تھا۔ سوشل میڈیا کی سکرین پر بہتی نفرت، تراشے گئے بیانیے، جعلی مظلومیت کے قصے اور مسلسل ذہنی یلغار۔ آہستہ آہستہ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنا دیا گیا۔ قربانی کا تصور اس قدر مسخ کیا گیا کہ موت زندگی سے زیادہ مقدس دکھائی دینے لگی، جس کا صاف مطلب ہے کہ یہ جنگ میدانوں سے نکل کر ذہنوں میں داخل ہوچکی ہے۔
یہ دہشت گرد بلوچوں کے خیرخواہ ہیں، نہ پشتونوں کے اور نہ ہی کسی اور شناخت کے بہی خواہ ہیں۔ یہ صرف اپنے مفادات کے غلام ہیں۔ انہوں نے بلوچ نوجوانوں کو ایک لاحاصل جنگ میں دھکیلا، قلم چھین کر بندوق تھمادی اور نفرت کو وراثت بنا دیا۔ آج وہ اس پستی تک آچکے ہیں کہ معصوم بچیوں کو خودکش بمبار بنانے میں بھی کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے۔ یہ محض دہشت گردی نہیں، یہ انسانیت کے خلاف اعلان جنگ ہے۔
یہاں سوال دین کا بھی ہے اور ایمان کا بھی۔ کون سا مذہب یہ سکھاتا ہے کہ ایک بچی کو ماں کی گود سے چھین کر بارود سے باندھ دیا جائے؟ کون سا ایمان یہ اجازت دیتا ہے کہ معصوم جانوں کو جنت کے خواب دکھا کر جہنم میں دھکیل دیا جائے؟ سچ یہی ہے کہ ان لوگوں کا دین سے کوئی رشتہ ہے، نہ اخلاق سے اور نہ انسانیت سے۔ یہ نفرت کے پجاری ہیں اور نفرت کبھی تعمیر نہیں کرتی، وہ صرف ملبہ چھوڑ جاتی ہے۔
ان کا اصل ہدف نئی نسل ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر نوجوان ذہن شکست کھا جائیں تو ریاست کی بنیادیں خود بخود ہلنے لگتی ہیں۔ تعلیمی ادارے اس لئے نشانے پر ہیں کہ وہاں سوچ آزاد ہوتی ہے، شعور بیدار ہوتا ہے اور سوال جنم لیتا ہے۔ دہشت گرد سوال سے ڈرتے ہیں، اسی لئے وہ علم کے چراغ بجھانا چاہتے ہیں۔
ریاست کے لئے یہ ایک سنجیدہ لمحہ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ اب صرف بندوق سے نہیں جیتی جا سکتی۔ یہ ایک فکری جنگ ہے، یہ ایک تعلیمی معرکہ ہے اور ایک ڈیجیٹل محاذ ہے۔ جب تک نوجوانوں کو سچ اور جھوٹ میں فرق سکھایا نہیں جائے گا، جب تک والدین، اساتذہ اور معاشرہ مل کر سوشل میڈیا کے اندھیروں میں روشنی نہیں جلائیں گے، تب تک یہ خطرہ منڈلاتا رہے گا۔
یہ درست ہے کہ حالیہ سازش کی ناکامی اس بات کی دلیل ہے کہ ریاستی ادارے چوکس ہیں اور بروقت کارروائی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مگر یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہر بچہ اس طرح بچ نہیں پاتا۔ کئی نوجوان اس زہر کا شکار ہوچکے ہیں اور انہیں واپس لانا آسان نہیں۔ اسی لئے ضروری ہے کہ دہشت گردوں کے بیانیے کو جڑ سے اکھاڑ دیا جائے۔ یہ واضح کیا جائے کہ وہ مظلوم ہیں نہ ہی انقلابی، بلکہ وہ صرف قاتل ہیں۔ ایسے قاتل جو اپنے ہی لوگوں کو استعمال کرکے مار دیتے ہیں۔
پاکستان کی اصل طاقت اس کی نئی نسل ہے۔ اگر یہی نسل گمراہی کی نذر ہوگئی تو نقصان ناقابل تلافی ہوگا۔ یہ جنگ صرف سکیورٹی فورسز کی نہیں، یہ پورے معاشرے کی جنگ ہے۔ ہر استاد، ہر والدین، ہر ادارہ اور ہر شہری اس معرکے کا سپاہی ہونا چاہیے۔ دہشت گردی کا کوئی مذہب ہے، نہ کوئی قومیت اور نہ ہی کوئی اخلاق۔ اس کا ایک ہی مقصد ہے، تباہی۔ اور اگر ہمیں اس دھرتی کو محفوظ، پرامن اور روشن دیکھنا ہے تو ہمیں اس تباہی کے راستے کو ہر سطح پر بند کرنا ہوگا۔ یہی ہماری بقا ہے اور یہی آنے والی نسلوں کے لیے سب سے قیمتی تحفہ۔
سب سے قیمتی تحفہ!
09:05 AM, 1 Jan, 2026