ایس آئی ایف سی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر

09:05 AM, 1 Jan, 2026

پاکستان کی معاشی تاریخ میں کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جو اگر درست سمت میں آگے بڑھ جائیں تو تاریخ کا دھارا بدل سکتے ہیں، اور اگر وہی لمحے فائلوں، پروٹوکول اور تاخیری حربوں کی نذر ہو جائیں تو قوم کئی برس پیچھے چلی جاتی ہے۔ 3 دسمبر دو ہزار تئیس ایسا ہی ایک لمحہ تھا، جب پاکستان کی اٹھہتر سالہ تاریخ میں پہلی بار بزنس کمیونٹی کے ایک اجلاس سے آرمی چیف، اب فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نے خطاب کیا۔ یہ ایک غیر معمولی واقعہ تھا اور اس اجلاس میں شرکت میرے لیے اعزاز کی بات تھی۔
اس وقت ملکی معیشت کی حالت یہ تھی کہ ڈالر ہاتھ سے نکل چکا تھا، اس کی قدر تین سو چالیس روپے تک جا پہنچی تھی۔ خوف، بے یقینی اور افواہوں نے کاروبار کو مفلوج کر رکھا تھا۔ اسی ایک میٹنگ کے بعد حالات نے کروٹ لی، اگلے ہی دن ڈالر کے نرخ نیچے آنے لگے۔ یہ محض عددی تبدیلی نہیں تھی، یہ اعتماد کی بحالی کا پہلا اشارہ تھا۔ اسی پس منظر میں سپیشل انویسٹمنٹ فسیلی ٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) وجود میں آ چکی تھی۔
میں خود ایک کاروباری آدمی ہوں۔ کاروبار کے مسائل، سرکاری پالیسیوں کی پیچیدگیاں اور مارکیٹ کی نفسیات کو سمجھتا ہوں۔ ایس آئی ایف سی بننے سے پہلے میں اپنے کالموں میں بارہا اس نوع کے ادارے کی ضرورت پر لکھ چکا تھا۔ یہ سب ریکارڈ پر ہے۔ جب ایس آئی ایف سی قائم ہو گئی تو میں نے جان بوجھ کر ایک سال تک اس پر قلم نہیں اٹھایا، کارکردگی دیکھتا رہا، نتائج کا انتظار کرتا رہا۔ ایک سال بعد مایوسی ہوئی اور اسی مایوسی کے تناظر میں ہماری تنظیم پاکستان اکنامک موومنٹ کی کور کمیٹی نے عملی قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا۔کور کمیٹی کے نمایاں احباب میں صدر عابد علی بٹ صاحب۔ سرپرست اعلیٰ، سابق صدر لاہور چیمبر، و ایف پی سی سی آئی میاں انجم نثار ۔ذکی انجم نثار ،وائس پریذیڈنٹ ایف پی سی سی آئی ۔فہیم الرحمان سہگل صدر لاہور چیمبر،ظفر محمود سینئر وائس پریذیڈنٹ لاہور چیمبر،ڈاکٹر اعجاز اے قریشی صدر جے ایف کے انسٹی ٹیوٹ،عامر رفیق قریشی چیئرمین اے آر کیو۔سہیل احمد شیخ ایم جی انٹرنیشنل گروپ۔کاشف کھوکھر صدر قصور چیمبر۔زین شاہنواز ڈائریکٹر یونی ورتھ۔تنویر جٹ ٹرانسپورٹ کوآرڈینیٹر وزارت ٹرانسپورٹ پنجاب۔محبوب الٰہی جی ایم ٹی وی ٹو ڈے۔ ذوالفقار راحت ہاٹ لائن گروپ آف کمپنیز۔میاں سردار ندیم صدر ننکانہ چیمبر ۔ افشاں صباح سیکرٹری ٹو پریذیڈنٹ پاکستان اکنامک موومنٹ۔حق نواز گھمن،ایم ڈی ٹی وی ٹو ڈے۔ رانا یاسر سلیم چیئرمین انفارمیٹکس کالج۔ میاں فریاد احمد۔ رانا مبشر احمد، چارٹرڈ اکائونٹنٹ (انوویٹرز) اے او پی۔ اور ایگل گروپ آف کمپنیز کے سی ای او و سیکرٹری جنرل پاکستان اکنامک موومنٹ کے طور پرخاکسار شامل تھے۔ ہماری ملاقات طارق جمیل قریشی صاحب سے ہوئی، جو اس وقت متعلقہ ذمہ داری پر فائز تھے۔ ہم نے آرمی چیف کو خط لکھا تھا، اور یہ ملاقات اسی تناظر میں ہوئی۔ ہم نے کھل کر مسائل اور رکاوٹوں کی نشاندہی کی۔ تجاویز دیں کہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے خصوصی عدالتیں بنائی جائیں، ایک جامع اوورسیز کنونشن بلایا جائے۔ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ رانا مبشر نے واضح طور پر کہا کہ ہم ایف بی آر کا ریونیو ڈبل کرنے کا قابلِ عمل طریقہ بتا سکتے ہیں۔ ان تجاویز پر خوشی کا اظہار کیا گیا۔ مجھے اوورسیز کمیٹی میں، رانا مبشر کو ایف بی آر کی فنانس کمیٹی میں شامل کرنے کی بات ہوئی۔
اسی میٹنگ میں ہمارے صدر، عابد علی بٹ صاحب، جو خود اوورسیز ہیں، نے گوادر میں ایک سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی پیشکش کی۔ یہ کوئی ہوا میں بات نہیں تھی۔ وہ ایک بین الاقوامی بزنس شخصیت ہیں، جنہوں نے دنیا کے مختلف ممالک میں کامیاب کاروبار کیا، لاہور میں امانہ مال جیسے منصوبے ان کے وژن کی مثال ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے ساتھ دیگر عالمی سرمایہ کاروں کو بھی لا سکتے ہیں۔ اس پر فوری طور پر انہیں انویسٹمنٹ کمیٹی میں شامل کرنے کی ہدایت دی گئی، پی اے کو بلا کر احکامات بھی دیئے گئے۔ کور کمیٹی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کہ شاید اب بات آگے بڑھے گی۔
پندرہ بیس دن رابطہ رہا، پھر خاموشی چھا گئی۔ وہی خاموشی جو ہمارے نظام کی پہچان ہے۔ ہم نے دوبارہ آرمی چیف کو خط لکھا، جس کے جواب میں ایس آئی ایف سی کے ڈی جی، جنرل تبسم سے ملاقات کا وقت ملا۔ ہم خوش تھے کہ شاید اب بیوروکریسی اور بزنس کمیونٹی ایک میز پر بیٹھے گی۔ مگر یہاں اصل مسئلہ سامنے آ گیا۔بیوروکریسی کا کام کرنے کا اپنا ایک مخصوص انداز ہے: یس سر، یس سر‘‘۔ کاروباری آدمی ایسا نہیں ہوتا۔ اس کا اپنا نفع نقصان داؤ پر لگا ہوتا ہے، اس لیے وہ کھل کر بات کرتا ہے۔ ہم نے واضح کہا کہ پالیسیاں ضرور بنائیں، مگر ہمارے ساتھ مل کر۔ یہ بات بیوروکریسی کو اچھی نہ لگی۔ ہمارے ہاں بیوروکریسی خود کو بادشاہ سمجھتی ہے اور بزنس کمیونٹی کو محض سائل۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر صرف تعلیم ہی دولت کمانے کا معیار ہوتی تو بل گیٹس ہارورڈ درمیان میں نہ چھوڑتا۔ ملک ریاض انڈر میٹرک تھا، مگر اس کے ماتحت کیسے کیسے جنرل اور جج کام کرتے رہے، یہ سب جانتے ہیں۔ مسئلہ ڈگری کا نہیں، وژن اور عمل کا ہے۔المیہ یہ ہے کہ ایک طرف حکومت ایک ایک، دو دو ارب ڈالر کے لیے عالمی مالیاتی اداروں اور ممالک کے سامنے دستِ سوال دراز کیے بیٹھی ہے، دوسری طرف ایک سو ارب ڈالر کی پیشکش فائلوں میں دبی پڑی ہے۔ یہ فائل وزیرِ اعظم اور مریم نواز صاحبہ تک بھی پہنچ چکی ہے، مگر پیش رفت صفر ہے۔ جس کا کام اسی کو ساجھے ۔ سرمایہ کاری لانے کا کام سرمایہ کار ہی بہتر جانتا ہے۔
بیوروکریسی کی روزمرہ کارکردگی پر بات کرنا شاید اب کلیشے بن چکا ہے، مگر حقیقت بدلی نہیں۔ صبح گیارہ بجے سے پہلے دفتر نہیں آتے، معمولات پر بریفنگ، چائے، لنچ، پھر یا تو کوئی ایم پی اے، ایم این اے آ گیا یا ‘‘صاحب میٹنگ میں ہیں’’ کا بورڈ لگ گیا۔ پانچ بجے دفتر بند، ٹریک سوٹ پہن کر واک، پھر ڈنر کی مصروفیات۔ کاروبار اس طرح نہیں چلتا۔ کاروباری آدمی صبح سات بجے سے رات گیارہ بجے تک یکسو رہتا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ ایک غلط فیصلہ ہزاروں لوگوں کا روزگار متاثر کر سکتا ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر معاشی بحالی کے لیے سنجیدہ اور پْرعزم ہیں، مگر بیوروکریسی اس عزم سے محروم نظر آتی ہے۔ خدا کے لیے کاروباری برادری کو اعتماد میں لیا جائے۔ ہم چودھراہٹ چاہتے ہیں، نہ واہ واہ، نہ ٹی اے ڈی اے۔ ہم نے بارہا لکھا کہ بزنس سے وابستہ افراد کو ہیرو بنا کر پیش کریں، یہی لوگ ملک کو ٹیکس، روزگار اور زرمبادلہ دیتے ہیں۔ستم ظریفی یہ ہے کہ ہماری تجویز پر اوورسیز کنونشن تو ہوا، مگر بیوروکریسی نے اسے عملی نتائج سے محروم کر دیا۔ ڈاکٹر سے صرف نسخہ نہیں لکھواتے، پوری تفصیل سمجھتے ہیں۔ زیادہ سیانا بننے والا مرض بڑھا بیٹھتا ہے۔ ہمارے ہاں مسئلہ یہی ہے۔
پاکستان اکنامک موومنٹ کی کور کمیٹی میں وہ لوگ شامل ہیں جو کامیاب کاروباری ہیں، سابق چیمبرز صدور ہیں، ہزاروں لوگوں کو روزگار دیتے ہیں۔ میں اس کمیٹی کا سیکرٹری ہوں اور یہ کالم اسی ذمہ داری کے احساس کے تحت لکھ رہا ہوں۔ سوال یہ نہیں کہ نیت کس کی اچھی ہے، سوال یہ ہے کہ نظام کب بدلے گا۔اگر واقعی معیشت کو سنبھالنا ہے تو فیصلہ کرنا ہو گا: یا تو بیوروکریسی کو بزنس کمیونٹی کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے، یا پھر مزید خطوط، مزید کالم اور مزید تقریریں ہماری تھکن میں اضافہ کرتی رہیں گی، معیشت میں نہیں۔

مزیدخبریں