نیویارک : پاکستان نے عالمی سطح پر ایک بڑی سفارتی کامیابی حاصل کرتے ہوئے سلامتی کونسل میں بھارت کے یکطرفہ اقدامات کے خلاف 'آریا فارمولہ' اجلاس منعقد کرایا۔ اس اہم فورم پر دنیا کے 40 ممالک نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی کوششوں کو عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دے دیا۔
اجلاس میں اقوامِ متحدہ کے شعبہ قانونی امور کے سربراہ ڈیوڈ نینوپولوس اور بین الاقوامی قانون کے ماہر احمر بلال صوفی سمیت دیگر نامور ماہرین نے بریفنگ دی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی معاہدے عالمی نظم و ضبط کے ضامن ہیں، انہیں یکطرفہ طور پر ختم کرنا جنگل کے قانون کو رواج دینے کے مترادف ہے۔ بھارت کا سندھ طاس معاہدے سے انحراف علاقائی امن کے لیے ایک تباہ کن قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
بھارت نے اپنی پوزیشن کمزور ہونے کے باعث اجلاس میں شرکت سے گریز کیا، جبکہ پاکستان نے فورم کو باور کرایا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک قانونی حقیقت ہے جسے کوئی بھی ملک اپنی مرضی سے ختم نہیں کر سکتا۔ پاکستان نے مطالبہ کیا کہ بھارت معاہدے میں موجود تنازعات کے حل کے میکنزم کا احترام کرے۔
واضح رہے کہ اَریا فارمولہ سلامتی کونسل کا وہ غیر رسمی اور بااثر فورم ہے جہاں رکن ممالک، غیر ریاستی ماہرین اور عالمی تنظیموں کے ساتھ براہِ راست اور خفیہ تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ اس اجلاس کے انعقاد سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ عالمی برادری سندھ طاس معاہدے کے تحفظ کو تنازعات کی روک تھام کے لیے ناگزیر سمجھتی ہے۔ معاہدہ مکمل مؤثر ہے، بھارت پابندیوں کی پاسداری کرے۔ بھارتی اقدام کو عالمی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔
بھارت کی ہٹ دھرمی بے نقاب: سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کی میزبانی میں سلامتی کونسل کا خصوصی اجلاس
04:41 PM, 1 Feb, 2026