سیالکوٹ : وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردوں کو بھارت اور افغانستان کی حمایت حاصل ہے، اور یہ گروہ ہمیشہ شہری علاقوں کو نشانہ بناتا ہے، خاص طور پر غریب افراد، مزدوروں اور بے روزگاروں کو۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو دنوں میں سکیورٹی فورسز نے 100 سے زائد دہشت گردوں کو مارا، اور پاکستانی ریاست دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔
خواجہ آصف کے مطابق، دہشت گرد اب خواتین اور بچوں کو بھی اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں بلوچستان کے 12 شہروں میں حملے ہوئے، اور ایک خودکش حملہ آور پسنی میں ایک نوجوان لڑکی نکلی۔
انہوں نے کہا کہ بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسے دہشت گرد گروہ بھارت اور افغانستان کی ایما پر پاکستان کے خلاف سرگرم ہیں۔ وزیر دفاع نے سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر کھڑے ہوں اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر اس جنگ میں ایک ساتھ چلیں۔
خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ سکیورٹی فورسز بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز جاری رکھے ہوئے ہیں، اور انہیں کسی صورت بچنے نہیں دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کو اپنے ساتھیوں کی لاشیں چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور کیا گیا ہے۔ وزیر دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قوم کو ایک نکتہ نظر اپنانا ہوگا، تاکہ دشمن کو شکست دی جا سکے۔