چوپال سجی ہوئی تھی، سب آتش دان کے گرد جمع تھے ،سرد موسم الائو کی وجہ سے خاص گر م ہوگیا تھا۔ چپ سائیں نے آتے ہی کھنگورا مارا، سب الرٹ ہوگئے ، چپ سائیں نے اپنی جگہ پر پہنچ پر سب کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ سب اپنی اپنی نشست پر بیٹھ گئے۔۔ نتھو اور پھتو تھوڑی دیر بعد ہمت کرکے بولے۔۔۔ چپ سائیں جی ایک سوال بڑے دنوں سے ہم دونوں کے ذہن میں ہے اور ہم اس میںالجھ کر رہ گئے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ آج آپ چوپال میں سب کو اس بارے میں بتائیں۔ چپ سائیںگویا ہوئے کہ بچوں بتائوکیا بات ہے؟ ، نتھو نے کہاکہ سائیں جی خرابی ہم میں ہے یا نظام میں؟۔۔۔ یہ کہہ کر دونوں چپ کرگئے۔۔۔
چپ سائیں توقف کے بعد گویا ہوئے بچوں۔۔ تمہارا سوال تو اچھا ہے، میں آج چوپال میں کوشش کروں گاکہ تمہارے سوال کا جواب دے سکوں۔ چپ سائیں بولے۔۔ چوپال کے بچوں اور بھائیو!۔۔۔ہمارے سماج کے لگ بھگ چوبیس کروڑ انسانوں میں سے اگر کوئی ایک فرد یہ سوال اٹھائے کہ کیا ہمارا سماج واقعی مختلف، صحت مند اور انسانی اقدار پر قائم ہے؟ تو شاید یہ سوال کسی ایک فرد کا نہیں رہتا، بلکہ پورے عہد کی نمائندگی بن جاتا ہے۔ یہ محض شکوہ نہیں، بلکہ ایک اجتماعی کرب کی عکاسی ہے جو لفظوں میں ڈھل کر ہمارے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔ہم جس سماج میں سانس لے رہے ہیں، اس کی فضا میں عجیب سی گھٹن ہے۔ یہ گھٹن صرف آلودہ ہوا کی نہیں، بلکہ ذہنوں اور دلوں کی بھی ہے، ہر طرف ایک بے چینی پھیلی ہوئی ہے۔ کوئی معاشی دباؤ میں پس رہا ہے، کوئی سماجی ناانصافی کا شکار ہے، کوئی خوف میں جکڑا ہوا ہے اور کوئی تنہائی کے اندھیروں میں گم ہے۔ زندگی ایک فطری بہاؤ کے بجائے ایک مسلسل رگڑ بن چکی ہے، جس میں انسان خود کو گھسیٹ رہا ہے، جینے کے لیے نہیں بلکہ صرف زندہ رہنے کے لیے۔ایسے میں اگر کوئی یہ کہہ دے کہ ہمارا سماج غلاظت، بدبو اور فکری گندگی سے بھرا ہوا ہے تو یہ محض جذباتی مبالغہ نہیں لگتا۔چپ سائیں بات کرتے کرتے چپ
کرگئے۔۔۔چائے پینے لگے۔۔۔ تھوڑی دیر کے بعد دوبارہ بولے۔۔ بھائیو، بچو اور دوستو! اخلاقی زوال، جھوٹ، منافقت، عدم برداشت، تشدد، اور خود غرضی، یہ سب اب استثنا نہیں رہے بلکہ معمول بنتے جا رہے ہیں۔ ہم نے ناانصافی کو قسمت، بدعنوانی کو مجبوری اور بے حسی کو دانشمندی کا نام دے دیا ہے۔
یہ سوال کہ کیا آج ہمارے سماج یا معاشرے کے نوے فیصد انسان نفسیاتی مریض نہیں بن چکے؟ اگر اسے لفظی معنوں میں لیا جائے تو شاید درست نہ ہو، مگر اگر اسے ایک علامت سمجھا جائے تو یہ سوال بہت گہرا اور سنجیدہ ہے۔ ذہنی دباؤ، اضطراب، غصہ، احساس محرومی اور مایوسی اس قدر عام ہو چکے ہیں کہ انہیں اب بیماری نہیں بلکہ‘‘نارمل’’سمجھا جانے لگا ہے۔ ایسے سماج میں صحت مند ذہن ایک عجوبہ بن جاتا ہے لیکن تصویر کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ سماج کبھی مکمل طور پر سیاہ نہیں ہوتا۔ ہر گندگی کے ڈھیر میں کہیں نہ کہیں کوئی صاف گوشہ بھی ہوتا ہے۔
چپ سائیں نے کہاکہ دوستو!اصل مسئلہ شاید یہ نہیں کہ ہمارے سماج یا معاشرے میں کتنا گندا ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم نے اس گندگی کو قبول کس حد تک کر لیا ہے۔ جس دن سوال اٹھانا بند ہو جائے، بے چینی ختم ہو جائے، اور ضمیر مطمئن ہو جائے،وہ دن اصل موت کا دن ہوتا ہے۔ اگر آج بھی کوئی فرد یہ تلخ سوال پوچھ رہا ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ سماج ابھی مکمل طور پر مردہ نہیں ہوا بلکہ اس میں ایک رمق باقی ہے۔ ہم اس سوال کو زبان پر لانے کی ہمت کم ہی کرتے ہیں لیکن جو لوگ حساس طبیعت کے ہوتے ہیں وہ توسوال بھی کرتے ہیںبلکہ پورے سماج کا ایکسرے کرکے سامنے رکھ دیتے ہیں۔
چپ سائیں نے کہا کہ نتھو، پھتو ہم جس معاشرے میں جی رہے ہیں، وہاں زندگی ایک نعمت کم اور ایک امتحان زیادہ بن چکی ہے۔ صبح روزگار کی فکر کے ساتھ آنکھ کھلتی ہے اور رات بے یقینی کے بوجھ تلے ختم ہوتی ہے۔ انصاف طاقتور کے لیے سہولت اور کمزور کے لیے ایک خواب ہے، سچ بولنا حماقت، برداشت کمزوری، اور خود غرضی عقل مندی سمجھی جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں اگر انسان ذہنی طور پر بکھرنے لگے تو یہ کوئی حیرت کی بات نہیں۔ہم اکثر گندگی کو صرف نالیوں، سڑکوں اور گلیوں تک محدود کر دیتے ہیں، حالانکہ اصل گندگی ذہنوں میں جمع ہو چکی ہے۔ نفرت، تعصب، حسد، عدم برداشت اور مسلسل غصہ، یہ سب وہ فکری گند ہے ،جو ہم روز ایک دوسرے پر پھینکتے ہیں۔ سوشل میڈیا ہو یا روزمرہ زندگی، گفتگو چیخ میں بدل چکی ہے، دلیل الزام میں اور اختلاف دشمنی میں،یہ سب علامات کسی صحت مند سماج کی نہیں ہوتیں۔
نتھو ،پھتو، یہ کہنا کہ آج ہمارے معاشرے کے نوے فیصد لوگ نفسیاتی مریض بن چکے ہیں، شاید سائنسی لحاظ سے درست نہ ہو، مگر حقیقت یہ ہے کہ ذہنی دباؤ، ڈپریشن، اضطراب اور احساسِ محرومی اس قدر عام ہو چکے ہیں کہ اب انہیں بیماری نہیں سمجھا جاتا۔ جو شخص مسلسل پریشان نہ ہو، وہ ــ’’غیر سنجیدہ ‘‘سمجھا جاتا ہے۔ ہم نے ذہنی بیماری کو نارمل اور ذہنی صحت کو غیر معمولی بنا دیا ہے۔اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے انسان کو انسان نہیں، ایک مشین سمجھنا شروع کر دیا ہے،ایسے میں انسان اندر ہی اندر ٹوٹتا ہے، مگر چونکہ ٹوٹنا نظر نہیں آتا، اس لیے ہمیں مسئلہ بھی دکھائی نہیں دیتا۔تاہم، یہ تصویر مکمل طور پر سیاہ بھی نہیں۔ ہر دور میں، ہر سماج میں کچھ لوگ ایسے ضرور ہوتے ہیں جو اس بہاؤ کے خلاف تیرتے ہیں۔ جو جھوٹ کے شور میں سچ کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں، جو نفرت کے بیچ انسانیت کا دامن نہیں چھوڑتے اور جو اپنی ذات کی حد تک ہی سہی، صفائی کی ایک کوشش ضرور کرتے ہیں۔ یہ لوگ کم ہوتے ہیں، کمزور نظر آتے ہیں، مگر سماج کا اصل سرمایہ یہی ہوتے ہیں۔
اصل المیہ یہ نہیں کہ ہمارا سماج بیمار ہے،اصل المیہ یہ ہے کہ ہم نے اس بیماری کو تقدیر مان لیا ہے۔ ہم شکایت تو کرتے ہیں، مگر بدلنے کی ذمہ داری نہیں لیتے۔ ہم نظام کو برا کہتے ہیں، مگر خود اسی نظام کا حصہ بن کر فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ہم گندگی کو کوستے ہیں، مگر ہاتھ گندے کرنے سے ڈرتے ہیں۔شاید تبدیلی کسی بڑے انقلاب سے نہیں آئے گی، بلکہ ایک اندرونی بے چینی سے جنم لے گی۔صاحبو اس پرمغز گفتگو کے بعد یہ کہوں گاکہ کیا میں خود اس سماج کی گندگی میں اضافہ کر رہا ہوں یا کمی؟ جس دن یہ سوال اجتماعی شعور کا حصہ بن گیا، اسی دن شفا کا عمل شروع ہو جائے گا۔۔رہے نام اللہ کا!۔
ہم میں خرابی ہے یا نظام میں؟
09:03 AM, 1 Feb, 2026