عراق، شام، لیبیا اور افغانستان میں خون کی ندیاں بہانے کے بعدجولوگ اب ایران کوانسانی خون سے رنگین کرنے کے درپے ہیں، نادان ایسے لوگوں سے یہ امیداورتوقع رکھے بیٹھے ہیں کہ وہ فلسطین میں امن قائم کریں گے۔ میربھی کیاسادہ ہیں بیمارہوئے جس کے سبب۔اسی عطارکے لڑکے سے دوالیتے ہیں۔امت مسلمہ کی بدقسمتی یہ ہے کہ یہ بیماراورتباہ جن کی وجہ سے ہوئی مسلم حکمران آج انہی عطارکے لڑکوں سے دوالینے کے چکرمیں ہیں۔ایک طرف غزہ بورڈآف پیس کے نام پرامن کاچورن بیچنے کاپروگرام بنایاجارہااوردوسری طرف ایران پرحملے کے لئے پرتولے جارہے ہیں۔ مسٹر ٹرمپ اوراس کے یار اگر دنیا میں امن کے قیام کے لئے اتنے مخلص اورسنجیدہ ہیں تو پھر عراق، لیبیا اور افغانستان کے بعدایران پر چڑھ دوڑنے کے لئے یہ بے تابی کیوں۔؟ خداکرے کہ غزہ بورڈ آف پیس کے ذریعے فلسطین میں قیام امن کے بارے میں مسلم دنیاکے نادان حکمرانوں اور بادشاہوں کی یہ امیدیں، توقعات، تسلیاں اوراندازے درست ثابت ہوں لیکن ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ یہودو ہنود کی چالبازیوں اور چالاکیوں سے واقف لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان سے نہ پہلے خیرکی کوئی توقع تھی اور نہ اب ان سے کسی اچھائی کی کوئی امید ہے۔ مسلم حکمران مسٹر ٹرمپ کو امن کا علمبردار کہیں یا امن نوبل انعام کاحقدارپریہ سب ایک بات یادرکھیں کہ مسٹر ٹرمپ اورامریکہ کاامن صرف اپنے مفادات تک محدود ہوتاہے۔جہاں ان کے مفادہوں وہاں یہ پھرثالث بھی بن جاتے ہیں اورانسانیت کے غم خوار بھی لیکن جہاں ان کا کوئی مفاد نہ ہو وہاں پھر خون کی ندیاں بہیں یاشہروں کے شہرآگ وبارود میں راکھ بن کراڑجائیں انہیں کوئی پروا نہیں ہوتی۔ جن لوگوں نے عراق سے شام اور لیبیاو لبنان سے افغانستان تک خون کی ہولی کھیلی، جنہوں نے ہزاروں نہیں لاکھوں مسلمانوں کوان کے گھروں، شہروں اور ممالک سے دربدر کیا۔ جن کی وجہ سے ہزاروں مسلمان شہید اور سینکڑوں عمر بھر کے لئے معذور ہو گئے۔ سوچنے کی بات ہے جن لوگوں کے دل عراق، لیبیا، شام اورافغانستان میں انسانی خون کی ندیاں بہانے اوربے گناہ مسلمانوں کے جسم ہوا میں اڑانے سے بھی ٹھنڈے نہیں ہوئے وہ لوگ آج مظلوم فلسطینیوں کے ہمدرد اور غم خوار کیسے بن سکتے ہیں۔؟ ایک طرف فلسطین امن معاہدے کے چرچے اور دوسری طرف ایران پرحملے کے لئے خرچے۔ اس سے امن کے ان علمبرداروں کی اصلیت اور ذہنیت کااندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ جنہیں دنیا میں امن سے پیار ہو وہ روز روز اس طرح دوسرے ممالک پرچڑھ دوڑنے کے لئے بے تاب نہیں ہوتے۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو جیسے گوروں نے دل کی تسکین کے لئے عراق سے شام اور لیبیا سے افغانستان تک امن سے کونسا کھلواڑ نہیں کھیلا۔ فلسطین سے ایران اورافغانستان سے کشمیر تک بے گناہ مسلمانوں کے خون سے یہودو ہنود کے ہاتھ رنگے ہوئے ہیں۔فلسطین میں ظلم وبربریت کی نئی تاریخ رقم کرنے میں اسرائیل اور نیتن یاہواکیلے نہیں۔نیتن یاہوکی پشت پرٹرمپ جیسے طاقتوروں کاہاتھ نہ ہوتواسرائیل کی اتنی جرات اورہمت نہیں کہ وہ برسوں تک انبیاء کی سرزمین کو مقتل گاہ بنائے رکھے۔ہم نے پاک بھارت جنگ کے دوران بھی کہا تھا کہ مسٹرٹرمپ اپنے کٹے کو بچانے کے لئے آگے آئے ہیں۔ اب بھی کہتے ہیں کہ سانڈوں کایہ ریوڑاب اسرائیل کیلئے کوئی راستہ بنانے کی راہیں تلاش کررہاہے۔۔امن کے ان نام نہاد علمبرداروں اورٹھیکیداروں کی خاصیت یہ ہے کہ جب بھی انہیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کاکٹاکہیں مار کھا رہا ہے تویہ فوراآگے بڑھ کرامن کا چورن بیچناشروع کردیتے ہیں۔ فلسطین کی گلیاں اورمحلے جب بے گناہ اورمظلوم مسلمانوں کے خون سے رنگین اورغزہ جس وقت آگ وبارود سے جل رہا تھا امن کے یہ نام نہاد ٹھیکیدار اس وقت کہاں تھے۔؟ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے ویسے نہیں کہا تھا، اسرائیل پہلے بھی یہودیوں کا ناجائز بچہ تھا اور یہ اب بھی ان کا ناجائز بچہ ہی ہے۔غزہ بورڈآف پیس ایک نہیں بیس کیوں نہ بنے یہودیوں کا جھکاؤ اور لگاؤپھربھی اسرائیل کی طرف ہوگا۔ہمیں کسی کی سوچ پرشک نہیں،غزہ بورڈآف پیس کے ذریعے اگر فلسطینیوں کاقتل عام ونسل کشی کاسلسلہ بند اور ارض مقدس پرامن قائم ہوتاہے توہمارے لئے اس سے اچھی اوربڑی بات اورکیاہوسکتی ہے۔؟ دنیا کے مسلمان توبرسوں سے فلسطین اورکشمیرمیں امن دیکھنے کے لئے تڑپ وترس رہے ہیں۔ گزرے حالات وواقعات کی روشنی اورتجربے پر اس بورڈپرہمارے جیسے عام مسلمانوں کو جو خدشات اورتحفظات ہیں اللہ کرے کہ ہمارے یہ تحفظات وخدشات فقط غلط فہمیاں وبدگمانیاں بن کرغلط ثابت ہوں اورجس طرح کہاجارہاہے کہ اس بورڈآف پیس سے فلسطین میں امن قائم ہوگاخداکرے کہ وہاں سچ میں امن قائم ہو۔غزہ بورڈآف پیس میں مسلم ممالک باالخصوص پاکستان کی شمولیت جہاں ایک طرف پاکستان کے لئے ایک آزمائش اور امتحان ہے وہیں یہ شمولیت اس لحاظ سے اہم بھی ہے کہ مسلم ممالک کی طرف سے فلسطین کے دفاع پرغزہ بورڈآف پیس کے نام پرامن کاچورن بیچنے والے ان گوروں کی اصلیت وحقیقت کھل کرسامنے آئے گی۔ غزہ بورڈآف پیس میں شامل مسلم ممالک اورحکمران اگرسنجیدگی اور ذمہ داری کامظاہرہ کریں تونیتن یاہوکے یاروں اوروفاداروں کی ہرچال خودان کے لئے جال بن سکتاہے اوراس میں پاکستان کا کردار یقینا تاریخی اہمیت کاحامل ہوگا۔اسرائیل کے بارے میں ہمارے حکمران اگرقائدکافرمان اورپاکستان کی اس ناجائز بچے کے بارے میں پالیسی کویادرکھیں تو ان شاء اللہ وہ دن دورنہیں جب یہی غزہ بورڈآف پیس اسرائیل کے لئے تباہی وبربادی کاباعث بنے گا۔
غزہ میں امن کاخواب
09:01 AM, 1 Feb, 2026