یہ فروری 2022تھا جب عمران خان صاحب کے خلاف پی ڈی ایم اپوزیشن تحریک عدم اعتماد اسمبلی میں پیش کرنے کی منصوبہ بندی کرچکی تھی۔تحریک ابھی اسمبلی میں باقاعدہ طورپرجمع نہیں کروائی گئی تھی لیکن عمران خان صاحب پوری طرح اس حقیقت سے آگاہ تھے کہ تحریک عدم اعتماد آیا بھی چاہتی ہے اور ان کی حکومت اس تحریک کو ناکام بنانے کی پوزیشن میں بھی اب نہیں رہی ہے۔پاکستان آئی ایم ایف کے پروگرام میں تھا۔آئی ایم ایف سے کیا گیا معاہدہ کچھ کہہ رہا تھا لیکن وزیراعظم عمران خان کے ا عصاب پر پاکستان کی بجائے اپنا اقتدار اور اسٹیبلشمنٹ پر خوب ساراغصہ راج کررہا تھا۔ وزیر خزانہ شوکت ترین اور فائنانس کی باقی ٹیم عمران خان صاحب کے فیصلوں کے سامنے شاید اس لیے بے بسی کی تصویر بنی بیٹھی تھی کہ اقتدار بچ گیا تو معیشت پھر دیکھ لیں گے ۔
فروری کے آخری پندرہ دنوں کے لیے پاکستان میں پٹرول کی قیمت 159روپے اور 86پیسے تھی ۔عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں اوپرجارہی تھیں ۔ تیل کی بڑھتی قیمتیں تقاضا کررہی تھیں کہ پاکستان میں بھی یکم مارچ کو پٹرول کی قیمت بڑھادی جائے لیکن عمران خان صاحب نے عالمی منڈی چھوڑ آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدے کے بھی برعکس یکم مارچ کو پاکستان میں پٹرول کی قیمت دس روپے کم کرکے ڈیڑھ سوروپے فی لٹر مقررکرکے ایک غیر دانشمندانہ ہی نہیں بلکہ معیشت دشمن اقدام کردیا۔ان کے دماغ میں یہ سیاسی چال تھی کہ عوام اس فیصلے کی وجہ سے ان کا ساتھ دے گی اور اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کی مخالفت کرے گی ۔یہ جمع تفریق شاید عام حالات میں درست لگتی لیکن عدم اعتماد تحریک کا فیصلہ قومی اسمبلی میں موجود ممبران کی تعداد نے کرنا ہوتا ہے اور اس وقت عمران خان کے اتحادی پی ٹی آئی کا ساتھ چھوڑنے کا فیصلہ کرچکے تھے۔پی ٹی آئی کے پاس نمبرز پورے نہیں تھے لیکن خان صاحب نے اس ناکامی کا انتقام اس ملک کی معیشت سے لینے کا فیصلہ کردیا۔پٹرول سستا کرنے سے عوام کو فائدہ ضرور ہوالیکن پاکستان کو اس کا نقصان طے شدہ تھا ۔اس ایک فیصلے سے آئی ایم ایف سخت ناراض ہوا۔اس نے پاکستان کو بے اعتبار ممالک کی لسٹ میں ڈال دیا۔
جب شہبازشریف نے حکومت سنبھالی تو ہمارے ہمسائے میں سری لنکا ڈیفالٹ کرچکا تھا۔ شہبازشریف کے سامنے ایک طرف اپنی سیاست ،عوامی مقبولیت تھی تو دوسری طرف پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کا کٹھن اور مشکل ترین ٹاسک تھا۔یہ ایک ایسا وقت تھا جب ملک کی معیشت مسلسل گرداب میں جارہی تھی اور باہر سڑکوں پر خان صاحب ’’مجھے کیوں نکالا ٹو ‘‘کی تحریک چلارہے تھے۔ایسے وقت میں آئی ایم ایف کو راضی کرنا تو بہت دور عالمی مارکیٹ کے مطابق پٹرول کی قیمت بڑھا نا بھی ن لیگ کی سیاست کو کمزور کرنا تھا لیکن وزیراعظم شہباز شریف نے سیاست پر ریاست کو ترجیح دینے کاراستہ چنا۔مقصد ایک ہی تھا کہ سیاست بچے نہ بچے ریاست بچنی چاہئے ۔اس سوچ کے ساتھ وہ آگے بڑھے اور مشکل ترین سیاسی حالات میں انہوں نے پٹرول کی قیمتیں بڑھا نے کا فیصلہ کیا۔پٹرول ڈیڑھ سو سے دو سو تیس روپے پر چلاگیا۔یہ قیمتیں بڑھانا دراصل عمران خان صاحب کے کیے گئے پاپولرفیصلوں کا ہرجانہ تھا جو کام عمران خان نے کیا لیکن اس کا ہرجانہ شہبازشریف نے اداکیا۔
پٹرول کی قیمتیں بڑھانے سے عوام ناراض ہوئے ۔ملک میں مہنگائی چالیس فیصد تک چلی تھی ۔معیشت سمیت سب کچھ غیر مستحکم ہورہا تھا ۔ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لیے سخت فیصلے ناگزیر تھے۔ایک سخت فیصلہ فوری طورپر آئی ایم ایف سے قرض کا معاہدہ کرنا تھا لیکن آئی ایم ایف پاکستان کو ناقابل اعتبار کہہ کر قرض سے انکاری تھا۔وزیراعظم شہبازشریف نے خود آئی ایم ایف کی سربراہ سے ملنے کا فیصلہ کیا۔وزیراعظم شہبازشریف سری لنکا کے عبوری صدر کے ساتھ آئی ایم ایف سربراہ سے ملے تو سری لنکن صدر نے کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کو ایک اور سری لنکا نہ دیکھنے پڑے تو پاکستان کی مدد کرنی پڑے گی۔آئی ایم ایف کی چیف نے کہا کہ انہیں پاکستان کی مدد کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن پاکستان وعدے پورے نہیں کرتا۔درمیان میں سیاسی فیصلے کرلیتا ہے جس سے معیشت دوبارہ کمزو رہوجاتی ہے ۔انہوں نے عمران خان سرکار کا حوالہ دیا تو وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آپ پاکستان کی مدد کریں وہ ذاتی طورپر پروگرام پر ہر حالت میں عمل کروائیں گے۔ یہ گارنٹی پہلی بار ایک وزیراعظم کو آئی ایم ایف چیف کو دینا پڑی کیونکہ پاکستان کو بچانا مشن تھا۔
آئی ایم ایف نے اسٹینڈ بائی پروگرام کی منظوری دی تو شہبازسرکار نے بھی کام شروع کر دیا۔ مشکل سے مشکل تر فیصلے کیے گئے۔ شہبازشریف اپنے ملک کی خاطر اپنا سیاسی سرمایہ جلاتے چلے گئے ۔دوسری بار اقتدار سنبھالا تو مشن دوبارہ شروع کیا اور ایک اور آئی ایم ایف پروگرام لے لیا ۔اس پروگرام پر بھی کامیابی سے عمل جاری ہے ۔وزیراعظم شہبازشریف کے پاکستان بچاؤمشن کی وجہ سے آج ملک ڈیفالٹ کے خطروں سے آزادہے۔مہنگائی چار فیصد ہے۔شرح سود کم ہوچکی۔اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر بلند ہوچکے۔ترسیلات زر ریکارڈ ہیں۔برآمدات کو مزید بڑھانے کے لیے وزیراعظم نے جمعہ کے روز ایکسپورٹ انڈسٹری کے لیے بجلی سستی کردی ہے۔ایکسپورٹ انڈسٹری کے لیے قرض آسان کردیے ہیں۔ایکسپورٹ انڈسٹری کے تاجروں کودوسال کے لیے ڈپلومیٹک پاسپورٹ تک جاری کرنے کا اعلان کردیا ہے۔یہ سب کچھ وزیراعظم شہبازشریف ملک کی معیشت کو ترقی دینے کے لیے کررہے ہیں۔کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر محنت اور لگن سے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا جاسکتا ہے ۔مہنگائی کو چالیس سے چار فیصد تک لایاجاسکتا ہے۔کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو سرپلس میں بدلا جاسکتا ہے تو پھر ملک کی معیشت کو مستحکم اور شرح نمو کو بھی بڑھایا جاسکتا ہے ۔
ڈیفالٹ کے خطرات اور آئی ایم ایف سے ملاقات اور معاہدے کی خلاف ورزی نہ کرنے کی ذاتی گارنٹی کی کہانی جمعہ کو وزیراعظم شہباز شریف نے خود ایکسپورٹرز کو ایوارڈز دینے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سنائی ۔اس کہانی سنانے کا پس منظر گزشتہ ہفتے ڈیووس میں وزیراعظم شہبازشریف اور آئی ایم ایف کی چیف کی ملاقات تھی جس میں آئی ایم ایف کی چیف نے وزیراعظم کو شہبازشریف کو ’’مین آف ہز ورڈز‘‘ قرار دیا تھا۔شہبازشریف نے آئی ایم ایف چیف کے ان ریمارکس کی وضاحت میں تاجروں کو یہ کہانی سنائی کہ کس طرح انہوں نے پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لیے ذاتی طورپر آئی ایم ایف کو گارنٹی دی اور پھر نہ انہوں نے اپنی سیاست دیکھی نہ پارٹی کا ووٹ بینک ۔انہوں نے نہ کوئی پاپولر فیصلہ کیا اور نہ ہی اپنے سیاسی مستقبل کی پرواہ کی ۔ان کی پرواز کا سارا محور پاکستان اور پاکستان کی معیشت تھی جس کو بچانے میں وہ بہت حد تک کامیاب رہے ۔اس حد تک کامیاب رہے کہ آج ان کے پاس معاشی ترقی کا روڈ میپ بنانے کا وقت اور پلان موجود ہے لیکن ابھی بھی بہت ساسفر طے کرنا باقی ہے۔
پاکستان کو سری لنکا بننے سے کیسے بچایاگیا؟
09:01 AM, 1 Feb, 2026