ابو ظہبی: متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زائد آل نہیان کی ہدایات پر 1,435 اماراتی شہریوں کے قرضوں کو معاف کر دیا گیا ہے، جس کا مجموعی تخمینہ 475.154 ملین درہم (تقریباً 36 ارب روپے) ہے۔
خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، یہ اقدام حکومت کی جانب سے شہریوں کے مالی بوجھ کو کم کرنے، ان کی فلاحی حالت کو بہتر بنانے، خاندانی استحکام کو فروغ دینے اور معاشرتی ترقی میں حصہ ڈالنے کے عزم کا مظہر ہے۔
یہ قرض معافی کی سہولت انسان دوست اور طبی وجوہات، کم آمدنی والے قرض داروں، مرحوم افراد، کم آمدنی والے ریٹائرڈ افراد اور بزرگ شہریوں کو دی گئی ہے۔
بینکوں کے ساتھ قرضوں کی ادائیگی کے عمل میں سخت قانونی ضوابط پر عمل کیا جا رہا ہے، جس میں ہر قرض کی نوعیت اور مقصد کو مدنظر رکھتے ہوئے بنیادی ضروریات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
اس مہم میں شامل 19 بینکوں اور اداروں میں ابو ظہبی کمرشل بینک گروپ، ایمریٹس این بی ڈی، فرسٹ ابو ظہبی بینک، ابو ظہبی اسلامک بینک، مشرق بینک، راک بینک، شارجہ اسلامک بینک، دبئی اسلامک بینک، ای اینڈ، یونائیٹڈ عرب بینک، عرب بینک برائے سرمایہ کاری و غیر ملکی تجارت (المصرف)، کمرشل بینک آف دبئی، ایچ ایس بی سی، عجمان بینک، املک فنانس، ایمریٹس اسلامک بینک، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک، نیشنل بینک آف ام القوین اور سٹی بینک شامل ہیں۔