بھارت میں غیر فعال سم استعمال کرنے والے صارفین کے لیے واٹس ایپ کا استعمال بند

06:22 PM, 1 Dec, 2025

ممبئی : بھارتی حکومت نے سائبر سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے نئے سخت قوانین متعارف کرائے ہیں، جن کے تحت واٹس ایپ یا دیگر میسیجنگ ایپس کو استعمال کرنے کے لیے ایک فعال سم کارڈ کا ہونا ضروری ہوگا۔

غیر ملکی ذرائع کے مطابق، "سائبر سیکیورٹی رولز 2025" کے تحت واٹس ایپ، ٹیلیگرام، سگنل اور اسنیپ چیٹ جیسے تمام میسیجنگ پلیٹ فارمز کو لازمی طور پر ایک فعال سم کارڈ کے ساتھ منسلک کرنا ہوگا۔

اگر صارف کا فون کا سم غیر فعال ہو جاتا ہے، نکال لیا جائے یا تبدیل کیا جائے تو متعلقہ ایپ فوراً کام کرنا بند کر دے گی۔

حکومت نے ان ایپس کو نئے قوانین پر عمل درآمد کے لیے 90 دن کا وقت دیا ہے۔ نئے ضوابط کے تحت صارفین کو ہر چھ گھنٹے بعد خودکار طور پر لاگ آؤٹ کر دیا جائے گا، اور دوبارہ لاگ ان کرنے کے لیے کیو آر کوڈ اسکین کرنا ضروری ہوگا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے سائبر مجرموں کے لیے غیر فعال یا نامعلوم نمبروں کے ذریعے فراڈ کرنا مشکل ہو جائے گا، کیونکہ زیادہ تر فراڈ کیسز میں بیرون ملک سے غیر فعال یا بند سم کارڈ استعمال ہوتے ہیں، جن کا سراغ لگانا مشکل ہوتا ہے۔

اس فیصلے کے بعد ماہرین میں بحث چھڑ گئی ہے۔ کچھ کا کہنا ہے کہ یہ قدم ٹریس ایبلٹی کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا، جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ یہ اقدام ناکافی ہے۔ ناقدین کے مطابق جعلی شناخت پر نئے سم کارڈ اب بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں، اس لیے سم بائنڈنگ سے مکمل طور پر دھوکا دہی کا خاتمہ نہیں ہو سکے گا۔

مزید برآں، بھارت میں ٹیلی کام سبسکرائبر ڈیٹا بیس کی درستگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، کیونکہ ویڈیو کے وائی سی اور بایومیٹرک شناخت کے نفاذ کے باوجود 2023 میں شناختی فراڈ میں کوئی خاص کمی دیکھنے کو نہیں آئی۔
 
 

مزیدخبریں