کیلیفورنیا: گوگل نے اپنا جدید AI امیج جنریشن ماڈل ’نینو بنانا پرو‘ جاری کر دیا ہے، جو تصاویر بنانے اور ایڈیٹنگ میں انتہائی حقیقت پسندانہ نتائج فراہم کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی تخلیقی شعبوں کے لیے انقلاب لے سکتی ہے، مگر اسی کے ساتھ سچ اور جعلی کے فرق کو پہچاننا مشکل بھی ہو گیا ہے۔
نینو بنانا پرو لاکھوں تصاویر اور متن سے سیکھ کر نئی تصاویر تخلیق کرتا ہے۔ اس عمل میں ‘ڈفیوژن’ تکنیک استعمال ہوتی ہے، جس کے ذریعے تصویر کو پکسلز میں توڑ کر دوبارہ بنایا جاتا ہے۔ تاہم یہ ماڈل کاپی رائٹ یا فنکارانہ حقوق کا خیال نہیں رکھتا، جس کی وجہ سے کسی بھی فنکار کے انداز میں تصویر بنا کر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
پچھلے سالوں میں AI کی تخلیق کردہ جعلی تصاویر اور ویڈیوز کے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ مثال کے طور پر نومبر میں ایک ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا کہ صحافی بینظیر شاہ نائٹ کلب میں ڈانس کر رہی ہیں، جسے بعد میں جعلی قرار دیا گیا، مگر اس نے صرف دو ہفتوں میں لاکھوں ناظرین حاصل کر لیے۔
فلم اور فنون لطیفہ کی صنعت بھی AI کے اثرات سے محفوظ نہیں۔ Marrakesh International Film Festival میں اداکارہ جینا اورٹیگا نے خبردار کیا کہ AI کی وجہ سے “گہری غیر یقینی صورتحال” پیدا ہو گئی ہے اور کچھ انسانی تجربات اور جذبات AI کبھی نقل نہیں کر سکتا۔
ماہرین کہتے ہیں کہ ایک ایسی دنیا میں جہاں لوگ آن لائن مواد پر جلدی یقین کر لیتے ہیں، نینو بنانا پرو جیسی ٹیکنالوجی صداقت کے بحران کو نئی سطح پر لے جا رہی ہے۔ صارفین کے لیے ضروری ہو گیا ہے کہ وہ ہر بصری مواد کی اصلیت پر محتاط نظر رکھیں۔