پاکستان کا آبی مستقبل اور بلوچستان کا معدنی تحفہ

09:18 AM, 1 Dec, 2025

پاکستان ایک ایسی سرزمین ہے جسے قدرت نے بیشمار نعمتوں سے نوازا ہے، مگر وسائل کی عدم دستیابی اور منظم پالیسیوں کے فقدان کی وجہ سے اسے نعائم فطرت سے بجا طور استفادہ کرنے میں بہت دشواری کا سامنا رہا ہے۔ پاکستان اس وقت دو ایسی حقیقتوں کے سنگم پر کھڑا ہے جو بظاہر ایک دوسرے سے الگ دکھائی دیتی ہیں مگر درحقیقت ملک کے طویل المدتی استحکام، معاشی خود کفالت اور ماحولیاتی بقا کو ایک ہی دھاگے میں پروتی ہیں ایک طرف پانی کا بڑھتا ہوا بحران اور دوسری جانب بلوچستان کے معدنی ذخائر بالخصو ص سینڈک کاپر گولڈ پراجیکٹ کا معاشی کردار۔ حقائق کے مطابق ایک طرف ہمارا پانی، جو پاکستان جیسے زرعی ملک کی شہ رگ ہے، موسمیاتی تبدیلی کی بے رحم مار کا شکار ہے تو دوسری طرف ہمارا معدنی مستقبل، جو معاشی تنوع اور علاقائی ترقی کی امید ہے، اپنی جگہ ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان دو محاذوں کو ایک جامع قومی حکمتِ عملی میں ڈھال سکتے ہیں؟
پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں پانی کا بحران عالمی پیمانے پر سب سے زیادہ سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔ ہمالیائی گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، مون سون بارشوں کا نظام غیر قابلِ پیش گوئی ہو چکا ہے اور ملک کے پاس صرف 30 دن کا قابلِ استعمال پانی ذخیرہ رہ گیا ہے جب کہ عالمی سطح پر کم از کم 120 دن کی ذخیرہ صلاحیت کو محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ یہ صورتحال آبادی کے دباؤ اور دہائیوں کی کم سرمایہ کاری کے ساتھ مل کر خوراک، توانائی اور معاشی استحکام کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہے۔ ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ پاکستان ہر سال اربوں کیوبک میٹر پانی ضائع کر دیتا ہے جبکہ ایسا پانی جو بہتر ذخیرہ، لائننگ اور جدید آبپاشی تکنیکوں کے ذریعے بچایا جا سکتا ہے۔ بد قسمتی سے یہ المیہ اس ملک میں وقوع پذیر ہو رہا ہے جہاں 24 کروڑ افراد کی غذا، 90 فیصد فصلیں اور 60 فیصد پن بجلی براہِ راست پانی کے نظام سے جڑی ہے۔ بقول ایک ماہر ’’جب گلیشیئر تھک جائیں اور مون سون بے وفا ہو جائے تو سب سے پہلے کسان ڈوبتے ہیں اور پھر معاشی نظام کی سانسیں بند ہونے لگتی ہیں‘‘۔ چنانچہ آج پاکستان کو ڈیموں کی تعمیر، ڈرِپ اور سپرنکلر جیسے جدید زرعی نظاموں کی طرف فوری منتقلی، شفاف پانی گورننس اور خطے کے ساتھ مؤثر سفارتی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ خصوصاً بھارت کے ساتھ مشترکہ دریاؤں پر صرف تنازعات کے بجائے مشترکہ ابتدائی وارننگ سسٹم اور ڈیٹا شیئرنگ کی طرف بڑھنا خطے کے امن اور بقا کے لیے ایک سرمایہ کاری ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب بلوچستان کا سینڈک کاپر گولڈ پراجیکٹ اس بات کی عملی مثال بن چکا ہے کہ اگر وسائل کو صحیح حکمتِ عملی کے ساتھ بروئے کار لایا جائے تو پاکستان نہ صرف اپنی زرمبادلہ کی ضرورت کم کر سکتا ہے بلکہ مقامی ترقی، روزگار اور صنعتی تربیت کا ایک نیا ماڈل بھی قائم کر کے خود کفیل بن سکتا ہے۔ 2024ء میں تانبے کی برآمدات 800 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئیں، جن میں سب سے بڑا حصہ سینڈک کا ہے۔ گزشتہ بیس برس میں 2,90,000 ٹن تانبہ نکالا گیا جس سے ملک نے 2.6 ارب ڈالر کا زرمبادلہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ تقریباً 1,900 براہِ راست روزگار کے مواقع پیدا ہوئے، مقامی کاروباروں کی ترقی ہوئی، اور سکولوں، ہسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری نے دور دراز علاقوں میں زندگی کی کوالٹی کو نئی سطح پر پہنچایا۔ سینڈک کا اصل کمال صرف کان کنی نہیں، بلکہ اس کی وہ تربیتی سرگرمیاں ہیں جو مقامی نوجوانوں کو صنعت، مکینکس، بجلی اور ٹیکنیکل آپریشنز جیسے شعبوں میں مہارت فراہم کر رہی ہیں اور یہ وہ سرمایہ ہے جو مستقبل میں بلوچستان کو معدنیات سے آگے بڑھ کر صنعتی خطہ بنا سکتا ہے۔
بغور جائزہ لیا جائے تو پانی کا بحران اور بلوچستان کی معدنی ترقی دو الگ موضوعات نہیں بلکہ دونوں پاکستان کی قومی سلامتی، معیشت اور مستقبل کی بنیادوں کو چھوتے ہیں۔ پانی کے بغیر زراعت نہیں جبکہ زراعت کے بغیر غذائی استحکام نہیں، اور غذائی عدم استحکام براہِ راست سیاسی اور معاشی عدم استحکام کو جنم دیتا ہے۔ اسی طرح معدنیات کے بغیر صنعتی ترقی نہیں، صنعتی ترقی کے بغیر زرمبادلہ نہیں اور زرمبادلہ کے بغیر پانی، توانائی اور بنیادی ڈھانچے پر وہ سرمایہ کاری ممکن نہیں جو پاکستان کو درکار ہے۔
سوال یہ نہیں کہ پانی زیادہ اہم ہے یا معدنیات بلکہ سوال یہ ہے کہ ہم دونوں شعبوں کو کس طرح ایک جامع حکمتِ عملی میں یکجا کرتے ہیں۔کیا اس حوالے سے کوئی مشترکہ لائحہ عمل ممکن ہے؟ اور ایک محتاط اندازے کے مطابق حل ضرور موجود ہے۔ مثال کے طور پر بلوچستان جیسے خشک علاقوں میں بڑے معدنی منصوبے پانی، بجلی اور بنیادی ڈھانچے کی وہ سہولتیں فراہم کرتے ہیں جو ارد گرد کے عوام کے لیے بھی نعمت بن سکتی ہیں اور یہ ماڈل پانی کے انتظام اور ذخیرہ کے نئے منصوبوں میں بھی اپنایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ معدنی شعبے سے آنے والا سرمایہ ملک بھر میں زرعی اصلاحات، ڈیموں اور جدید آبپاشی ٹیکنالوجی پر لگایا جا سکتا ہے۔ ٹیکنیکل تربیت کے ماڈل کو پانی کے انتظام، ہائیڈرو لوجی، موسمیاتی سائنس اور مربوط زرعی نظاموں کی تربیت کے لیے بھی وسعت دی جا سکتی ہے۔ جیسے سینڈک میں مقامی برادری کو ترقی کا حصہ دار بنایا گیا، ویسے ہی آبی منصوبوں خصوصاً دریا کنارے کمیونٹیز کو بھی فیصلہ سازی میں شامل کرنا مستقبل کی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔
المختصر! پاکستان اس وقت ایک تاریخی موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک جانب پانی کا بحران بتا رہا ہے کہ اگر ہم نے آج فیصلے نہ کیے تو کل بہت دیر ہو جائے گی۔ دوسری جانب سینڈک جیسے منصوبے یہ امید دلاتے ہیں کہ اگر ہم اپنے وسائل کو ایمانداری اور حکمت سے استعمال کریں تو دنیا کی بڑی طاقتوں کی طرح ہم بھی اپنے قدرتی خزانوں کو قومی ترقی کے لیے بدل سکتے ہیں۔ اصل چیلنج یہی ہے کہ کیا ہم اپنے سب سے بڑے خطرے، پانی کے بحران اور اپنے سب سے بڑے موقع یعنی معدنی دولت کو ایک دوسرے کا معاون بنا سکتے ہیں؟ اگر ہم نے یہ کر لیا تو پاکستان نہ صرف آج کے بحرانوں سے نکلے گا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایسا راستہ ہموار کرے گا جس پر اعتماد، ترقی اور استحکام کی چادر تنی ہو گی۔

مزیدخبریں