جسٹس باقر نجفی کے اضافی نوٹ پر ہنگامہ کیوں؟

09:17 AM, 1 Dec, 2025

چار سال پہلے یعنی 2021 ء میں نور مقدم کے بہیمانہ قتل کا واقعہ رونما ہوا تھا ۔ ظاہر جعفر نامی شخص نے بے رحمی سے نور مقدم کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کے بعد نہایت سفاکی سے اسے قتل کر دیا۔ چار سال تک یہ کیس چلتا رہا۔ مختلف عدالتوں سے ہوتا ہوا سپریم کورٹ پہنچا۔چند ماہ پہلے سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے ظاہر جعفر کو سزائے موت سنائی ہے۔ ظاہر جعفر نے جس سفاکی سے نور مقدم کو قتل کیا ، اس کے لئے سزائے موت سے بڑھ کر کوئی سزا ہوتی تو وہ بھی اسے ملنی چاہیے تھی۔ ایسے مجرموں کو قانون کے کڑے شکنجے میں لانے کے ساتھ ساتھ نشان عبرت بھی بنانا چاہیے۔ نور مقدم کے قاتل کو سزا ملنا باعث اطمینان سہی، تاہم اس پہلو پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے کہ ایک لڑکی دن دیہاڑے قتل ہو جاتی ہے ،تاہم اسے انصاف ملنے میں برسوں کیوں لگ گئے؟قانونی ماہرین اور اہل دانش کو کریمنل جسٹس سسٹم کی اصلاح کے لئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت کو زیر بحث لانا چاہیے۔ تاہم اس کے بجائے، گزشتہ چند دن سے ہم جسٹس باقر نجفی کے کئی صفحات پر مشتمل اضافی نوٹ میں شامل چند مخصوص جملوں کی گونج سن رہے ہیں۔ 
 سمجھ سے بالا تر ہے کہ آخر سپریم کورٹ کے جسٹس باقر نجفی نے ایسا کیا کہہ دیا ہے جو ایک مخصوص طبقہ لٹھ لے کر ا ن کے پیچھے پڑ گیا ہے؟  جج صاحب نے قتل کے فیصلے میں مجرم کو کوئی رعایت دینے کی بات کی اور نا اس قتل کی سنگینی کو کم تر کہا ہے۔ انہوں نے اپنے اضافی نوٹ میں دیگر نکات کیساتھ سا تھ یہ لکھا کہ یہ کیس اس برائی کا براہ راست نتیجہ ہے جو ہمارے معاشرے کے بالائی طبقے میںتیزی سے پھیل رہی ہے۔ جسے living   یا live-in  ریلیشن شپ کہتے ہیں یعنی لڑکے لڑکی کا نکاح یا شادی کے بغیر اکٹھے رہنا۔ جج صاحب کی باتوں کا مفہوم ہے کہ ایسے تعلقات سماجی تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔ یہ ریاستی اور اسلامی قوانین سے متصادم ہیں۔ اللہ کے احکامات کے خلاف بغاوت ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ہماری نوجوان نسل کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس قسم کی طرز زندگی کے ایسے خوفناک نتائج سے سبق لیں۔ سوشل ریفارمرز کو بھی اس مسئلے پر بات کرنی چاہیے۔      
جج صاحب کی ان باتوں پر ایک ہنگامہ  برپا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی جج کو فیصلے میں اضافی نوٹ لکھنے کا استحقاق حاصل نہیں ہے؟ کیا اضافی نوٹ میں کسی سماجی مسئلے کی نشاندہی کرنے سے جج کسی جرم کا مرتکب ہو جاتا ہے؟ جبکہ اس کے یہ جملے سنائی گئی سزا پر کوئی عملی اثرات مرتب کریں نا اس سے متصادم ہوں۔ کیا پاکستا ن کی عدالتی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی جج نے اضافی نوٹ تحریر کیا ہے؟ اس ضمن میں بھانت بھانت کی بولیاں سننے کو مل رہی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ کیا لیونگ ریلیشن شپ کے بغیر خواتین قتل نہیں ہو تیں۔ بالکل ہو تی ہیں۔ اپنے خونی اور شرعی رشتوں یعنی باپ، بھائی، خاوند یا سسرالیوں کے ہاتھوں قتل ہوتی ہیں۔ کسی خبیث کے ہاتھوں اپنی عزت اور جان گنواتی ہیں۔ لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ان عوامل کیساتھ ساتھ اس ایک پہلو پر بات نا کی جائے جس کی طرف جسٹس باقر نجفی نے اشارہ کیا ہے؟ کوئی یہ نہیں کہہ رہا کہ ایسے ہر قتل کے پیچھے صرف یہی ایک محرک کارفرما ہوتا ہے۔ کسی نے یہ نہیں لکھا کہ پاکستان سے لیونگ ریلیشن شپ کا خاتمہ ہو جائے گا تو ایسے قتل کے واقعات رونما نہیں ہوں گے۔ 
اگر کوئی جج ، کوئی استاد، کوئی صحافی ، ہماری توجہ سماج میں پلنے والی کسی برائی کی جانب مبذول کرواتا اور احتیاط کا مشورہ دیتا ہے تو اس میں کیاغلط ہے۔ کیایہ بات درست نہیں کہ ہمارے سماج میں live in   تعلقات کی وبا موجود ہے؟ کیا ہم اس بات سے منکر ہو سکتے ہیں کہ اس قسم کا تعلق غیر شرعی اور غیراخلاقی ہے۔ پاکستان تو ایک اسلامی ملک ہے۔جہاں ہم مارے بندھے ہی سہی، اسلامی احکامات اور اسلامی روایات کی پابندی کی کوشش ضرور کرتے ہیں۔ بہت سے سیکولر ممالک میں بھی اس طرح کے تعلقات کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ چند ماہ پہلے میں آذربائیجان میں تھی۔ پتہ یہ چلا کہ وہاں نکاح کو پسند کیا جاتا ہے۔ لڑکا لڑکی اگر شادی کے بغیر ایک ساتھ رہیں تو انہیں نہایت برا سمجھا جاتا ہے۔ یہ اس ملک کی بات ہو رہی ہے جو ڈکلیئرڈ سیکولر ملک ہے۔ جہاں جائیں تو ہمیں مذہب وغیرہ پر بات کرنے سے منع کیا جاتا ہے۔ 
میںحیران ہوں کہ جج صاحب کے لیونگ ریلیشن شپ کی حوصلہ شکنی کرنے سے خواتین کے کون سے حقوق مجروح ہو گئے ہیں؟ معلوم نہیں کیوں جب بھی مذہبی اور اخلاقی حدود کا حوالہ آتا ہے تو اسے حقوق نسواں سے جوڑ دیا جاتا ہے۔جسٹس باقر نجفی پر یہ تنقید بھی ہو رہی ہے کہ جج کا کام صرف مقدمے کا فیصلہ کرنا ہے۔ اخلاقی بھاشن یا خطبہ دینا جج کا کام نہیں ہے۔ اس طبقے سے پوچھیں کہ جب یہ خطبہ کوئی ملا یا مولوی دیتا ہے تو کیا آپ اسے مان لیتے ہیں؟
مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں کے نام نہاد لبرل طبقے نے مذہب اور اسلام سے متعلق کوئی بھی بات کہنا نہایت مشکل بنا دیا ہے۔یہاں آپ دوپٹے ، پردے ، یا حجاب کی حمایت کریں تو یہ طبقہ آپ کو مولوی کہے گا ۔ آپ کو دیسی طالبان کا خطاب دے گا اور پتہ نہیں کیا کیا۔ یہ طبقہ چاہتا ہے کہ ان کو ہر بات کی آزادی ہو، لیکن مخالف نکتہ نظر رکھنے والوں کی آوازوں اور سوچ کا گلا گھونٹ دیا جائے۔ حالت یہ ہے کہ ہمارے ہاں ہم جنس پرستی کی حمایت کرنے والا طبقہ بھی پیدا ہو چکا ہے۔ یہ ٹولہ ایک ایک قدم آگے بڑھ کر اپنی جگہ بنا رہا ہے ۔ یعنی نا کوئی اس معاملے پر بات کرئے ، نا لیونگ ریلیشن کی حوصلہ شکنی کرئے۔ اگر ہم مذہبی انتہا پسندوں پر تنقید کر سکتے ہیں تو لبرل شدت پسندوں پر بھی تنقید کی جا سکتی ہے۔ پتہ نہیں کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں۔ آج کہہ رہے ہیں کہ ایک جج کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ اخلاقی بھاشن دے۔ یہاں کوئی مولوی یہ بات کہہ دے تو وہ برا۔ کوئی استاد کوئی بات کہہ دے تو وہ تنگ نظر، کوئی دانشور کسی بات کی حمایت کر دے تو وہ مطالعہ پاکستان کی پیداوار۔ سچ یہ ہے کہ ایک مخصوص طبقہ یہاں صرف اپنی بات کہنا اور منوانا چاہتا ہے۔ دھونس سے قدامت اور روایت پرست طبقے پر اپنی رائے مسلط کرنا چاہتا ہے۔ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم سب شرعی اور غیر شرعی کی بحث سے نکل جائیں؟۔ ہم اپنے بچوں کو اخلاقی حدود قیود کی تمیز نا سکھائیں؟۔ ہم ان کو اچھے اور برے میں فرق نا سمجھائیں؟۔ خدارا اس ملک پر اور اس کے نوجوانوں پر رحم کریں۔ اگر آپ نے مذہب اور اخلاقیات پر بات کرنے والوں پر سنگ باری کی روایت ڈال دی تو پھر ہر کوئی مذہب کی بات کرنے اور سماجی اخلاقیات کا حوالہ دینے سے پہلے سو مرتبہ سوچے گا۔ 

مزیدخبریں