موجودہ دور میں جہاں اختلافات اور نظریات کی کثرت ہے وہاں بعض باتیں ہمیں غور و فکر کی دعوت بھی دیتی ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے سے سوشل میڈیا پر گردش کرتا حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے منسوب یہ قول ممکن ہے آپ نے بھی پڑھا ہو کہ ’’جس پر احسان کرو اس کے شر سے بچو۔‘‘ عام گفتگو میں مختلف لوگ اس قول پر اپنی اپنی آراء پیش کرتے نظر آتے ہیں ۔ سچی بات ہے حضرت علی ؓ سے منسوب یہ قول میں نے آج سے کوئی چار پانچ برس پہلے کسی کی زبانی سنا تو مجھے اس پر بڑی حیرت ہوئی۔ بادیٔ النظر میں یہ قول عجیب سا لگتا ہے کہ جیسے اس میںاحسان کرنے والے کو ایک طرح سے ڈرایا جارہا ہوکہ’’جس پر احسان کرو اُس کے شر سے ڈرو‘‘۔میرے جیسا ایک آدمی جب یہ قول سنتا یا پڑھتا ہے تو وہ فوراً اس سے یہ مطلب کشید کرتا ہے کہ کسی پر احسان کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ جب کہ سورہ بقرہ میں اللہ تعالیٰ کا یہ واضح فرمان ہے کہ’’سلوک اور احسان کرو اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے‘‘۔یہ قول اگر دنیا کے کسی بڑے سے بڑے دانشور سے بھی منسوب ہوتا تو میں ایک لمحے میں بغیر کسی حیل و حجت کے اسے بالکل رد کردیتا ۔مگر یہ قول جس اعلیٰ ہستی سے منسوب ہے اُن کے علم و فضل،حکمت و دانش، فضلیت اور سچائی پریقین کسی بھی مسلمان کے ایمان کا بنیادی جزو ہے۔ مگر اس قول کو سن کر ایک عجیب سی اُلجھن میرے دل میں پیدا ہوئی جس نے مجھے اس قول کی اصل حقیقت جاننے کے لئے اس کی کھوج کرنے پر مجبور کیا۔ اس حوالے سے میں نے اپنے جاننے والے چند علمائے دین اور دانشوروں کے سامنے اپنی الجھن کو سوال کی شکل میں رکھا۔ اپنے اس سوال کے ساتھ میں نے بڑے ادب و احترام سے ڈرتے ڈرتے ان کے سامنے یہ دلیل بھی رکھی کہ انسانوں کا ایک دوسرے کے ساتھ احسان کرنے اور احسان مند ہونے کا معاملہ محض آج یا چند برس کی بات تو نہیں ہے۔ اس کی تو بہت پرانی اور لمبی چوڑی تاریخ ہے جس میں عام دنیا دار انسانوں کے ساتھ پیروں
پیغمبروں اور اُن کے قریبی رفقاء جیسی اعلیٰ اور پاک ہستیاں بھی آتی ہیں جنہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ احسان کیا اور جن پر احسان کیا گیا۔ عام انسانوں اور دنیا داروں کی حد تک تو یہ دنیا احسان فراموشی کے واقعات سے بھری پڑی ہے جس میں بڑے بڑے تاریخی کرداروں کے نام بھی شامل ہیں جنہوں نے موقع غنیمت جان کر اپنے محسن کو ہی ڈس لیا ہو۔مگر اس کے باوجود اس قول کو ہر کسی پر منطبق کرنا قطعی مناسب قرار نہیں دیا جاسکتا۔ میرے اس سوال پر مجھے جتنے بھی جواب ملے اُن سب کا لب لباب کچھ اس قسم کاتھاکہ احسان کرنے والا غالب ہوتا ہے اور احسان وصول کرنے والا مغلوب۔ جب کوئی شخص مغلوب ہوتا ہے تو اس کی نظریں نیچی ہوجاتی ہیںاور وہ نہ چاہتے ہوئے بھی کسی ایسے موقع کی تلاش میں رہتا کہ اس مغلوبیت اور احسان مندی کی حالت سے باہر آجائے۔یہی اُس کا شر ہے جس سے بچنا ضروری ہے اور جس کی طرف حضرت علیؓ نے اشارہ کیا ہے۔ ممکن ہے کسی مخصوص تناظر میں اس جواب یا دلیل میں کسی قسم کا کوئی وزن ہو مگرصاف بات ہے مجموعی طور پر مجھے اس قسم کے جواب سے بالکل تسلی نہ ہوئی اور میں نے اس سلسلے میں اپنی جستجو جاری رکھی۔اسی دوران ایک روز میرے سامنے میاں محمد بخشؒ کا یہ شہرہ آفاق پنجابی شعر ’’اصلاں نال جے نیکی کریئے نَسلاں تیک نئیں بُھلدے/بد نَسلاں نال نیکی کرئیے پُٹھیاں چالاں چلدے‘‘ سامنے آگیا۔ جس کامطلب ہے کہ اگر کسی اعلیٰ اور نسلی شخص کے ساتھ نیکی کی جائے تو اس کی آئندہ نسلیں بھی اس کو یاد رکھتی ہیں لیکن اگر کسی بد نسل یعنی کم ذات کے ساتھ نیکی یا احسان کیا جائے تو وہ اپنے ظرف کے مطابق اس کا ضرور بُرا بدلہ دے گا۔ مطلب یہ کہ ہر انسان کے عمل اور ردعمل میں اس کی فطرت، اس کی تربیت اور اس کا ظرف بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ جس پر احسان کیا جائے وہ ہی کم ظرف ہو بعض صورتوں میں احسان کرنے والا بھی کم ظرف ہوسکتا ہے۔ وہ اعلیٰ ظرف لوگ جو زندگی میں مخلصی اور دیانتداری کے اصولوں پر چلتے ہیںوہ اپنے ساتھ کیے جانے والے احسانات کا ہمیشہ پاس رکھتے ہیں اور نسلوں تک ان کی قدر کرتے ہیں۔اس کی بے شمار مثالیں ہمارے ارد گرد کے معاشرے سے بھی دی جاسکتی ہیں جہاں اعلیٰ ظرف لوگوں کی کئی کئی نسلیں اپنے بزرگوں سے احسان کرنے والے محسنوں کو یاد رکھتی ہیں اور احسان کرنے والوں کی نسلوں کی بھی شکرگزار رہتی ہیں۔ دوسری طرف ہمارے درمیان احسان کرنے والوں اور جن پر احسان کیا گیا ہو کی تفریق کے بغیربے شمار ایسے کم ظرف لوگ بھی موجودہیںجو دینی و معاشرتی قدروں اور اعلیٰ اخلاقی روایات سے بالکل بے بہرہ ہیں۔ اگر ان بے شرموں کے ساتھ کسی نیکی یا احسان کا معاملہ کیا جائے تو ان کی کم ظرفی اور بد فطرتی کے باعث بہت ممکن ہے کہ وہ اس احسان کا بدلہ شر کی صورت میں دیں۔اس کی بہترین مثال بچھو اور کسی نہر کنارے بیٹھے اُن بزرگ کی وہ مشہورکہانی ہے جس میں انہوں نے جب ایک بچھو کو پانی میں بہتے دیکھا تو اسے ہاتھ سے پکڑ کر باہر نکالا۔بچھو کو ہاتھ لگانے کی دیر تھی کہ اس نے بزرگ کو ڈنک دے مارا۔بزرگ نے تکلیف سے ہاتھ جھٹکا جس سے بچھو دوبارہ پانی میں گر گیا۔ بزرگ نے اسے پانی میں بہنے سے بچانے کے لئے ایک بار پھر آگے بڑھ کر ہاتھ سے اٹھایا تو بچھو نے پھر حسب ِعادت ڈنک دے مارا اور پانی میں گرگیا۔بزرگ نے اسے پھر روکنے کی کوشش کی تو پاس موجود کسی شخص نے کہا’’ آپ اسے کیوں روک رہے ہیں جب کہ وہ آپ کو بار بار ڈنک مار رہا ہے۔بزرگ گویا ہوئے’’بچھو اپنی فطرت کے مطابق ڈنگ مار رہا ہے اور میں اللہ کے حکم کے مطابق اسے بچا رہا ہوں۔اگر وہ غلط کام نہیں چھوڑ رہا تو میں صحیح کام کیوں چھوڑوں‘‘۔ میرے خیال میں میری اب تک اس ساری گفتگو کا جو اصل مقصدہے وہ آپ کو یہ بتانا ہے کہ حضرت علیؓ سے منسوب یہ قول کہ’’جس پر احسان کرو اُس کے شر سے ڈرو‘‘ کسی بھی پہلو سے مکمل نہیں لگتا۔میرے خیال میں مکمل قول اس طرح ہوسکتا ہے ’’ اگر کسی کم ظرف پر احسان کرو تو اس کے شر سے ڈرو‘‘۔
احسان اور شر کا معاملہ!
09:16 AM, 1 Dec, 2025