خواتین اور بچوں کے خلاف بڑھتے جرائم، لمحہ فکریہ

09:16 AM, 1 Dec, 2025

خواتین اور بچوں کے خلاف ملک بھر میں بڑھتے ہوئے جرائم لمہ فکریہ ہے۔ خواتین اور بچوں پر تشدد کے واقعات میں اصافہ نظام عدل کی کمزوریوں اور سماجی رویوں کا شاخسانہ ہے۔ ایس ایس ڈی او کی تازہ ترین رپورٹ میں جو اعداد و شمار منظر عام پر آئے ہیں وہ پریشان کن ہیں۔ رواں برس کی پہلی ششماہی میں وفاقی دارالحکومت میں خواتین کے خلاف تشدد کے 373 کیسز رپورٹ ہوئے، مگر ایک بھی ملزم سزا نہ پا سکا۔ شہر اقتدار میں یہ بھی بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم بڑھ رہا ہے۔ رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران سندھ میں خواتین پر تشدد کے 3505 واقعات ہوئے۔ تاہم ان میں سے صرف 0.6 فیصد مقدمات میں ہی سزا سنائی جا سکی۔ یعنی اوسطاً 23 خواتین تشدد کا نشانہ بنیں جبکہ 16 خواتین روزانہ اغوا کی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق سندھ میں سب سے زیادہ خواتین کے اغوا کے واقعات سامنے آئے ہیں جن کی تعداد 2439 ہے۔ زیادتی کے 331، جسمانی تشدد کے 329، غیرت کے نام پر قتل کے 201 اور ہراسانی کے 205 واقعات رپورٹ ہوئے۔ پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد کا یہ ٹرینڈ خطرناک صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے۔
دوسری جانب رپورٹ کے مطابق پنجاب میں 2025 کے پہلے چھ ماہ میں خواتین پر تشدد کے 15 ہزار سے زائد کیسز پولیس کو رپورٹ ہوئے یعنی روزانہ اوسطاً 85 خواتین تشدد کا شکار ہوئیں۔ ابھی اس رپورٹ میں پنجاب کے بہت سے اضلاع کا ڈیٹا شامل نہیں۔ فیکٹ شیٹ کے مطابق ان جرائم میں اوسطاً روزانہ 9 خواتین کے ساتھ زیادتی، 51 خواتین اغوا جبکہ 24 خواتین گھریلو تشدد کا شکار ہوئیں۔ خواتین کے ساتھ زیادتی اور تشدد کا بڑھتا ہوا رجحان نظام عدل اور سماجی رویوں کی بھیانک تصویر پیش کر رہا ہے۔ ایس ایس ڈی او نے اپنی رپورٹ میں پولیس پر الزام عائد کیا کہ پولیس مکمل معلومات فراہم نہیں کرتی اور ڈیٹا چھپاتی ہے۔ جس کی وجہ سے ڈس انفارمیشن ہوتی ہے۔
پنجاب میں زیادتی کے 340، اغوا کے 3018 اور گھریلو تشدد کے 2115 کیس رپورٹ ہوئے جبکہ غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں بھی لاہور سرفہرست ہے۔ پنجاب کے دیگر اضلاع میں ملتان، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، قصور، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور ننکانہ صاحب شامل ہیں۔ خواتین کی ٹریفکنگ کے جرائم میں مظفرگڑھ اور پاکپتن سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع ہیں۔ ہمارے معاشرے میں فرسودہ روایات، سماجی دباؤ کی وجہ سے خواتین پر تشدد اور زیادتی کے زیادہ تر کیسز رپورٹ ہی نہیں کیے جاتے اس پر مزید ظلم تحفظ فراہم کرنے والے ادارے کرتے ہیں جو اپنی نااہلی چھپانے کیلئے صحیح اعداد و شمار عوام تک نہیں پہنچنے دیتے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بہاولنگر، بہاولپور، چکوال، چنیوٹ، ڈیرہ غازیخان، فیصل آباد، حافظ آباد، نارووال، رحیم یار خان، راجن پور، راولپنڈی، ساہیوال اور سرگودھا سمیت متعدد اضلاع نے پنجاب انفارمیشن کمیشن کی واضح ہدایات کے باوجود تنظیم کو رائٹ ٹو انفارمیشن قانون کے تحت مطلوبہ ڈیٹا فراہم نہیں کیا، جو کہ جرائم کے ریکارڈ کی شفافیت اور درستی پر شک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔ قانون کے محافظ جب خود قانون کا احترام نہیں کریں گے تو عوام بھلا کیا کریں گے۔
جنوری تا جون 2025 میں بچوں پر تشدد کے 5 ہزار 97 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ تاہم سزا کی شرح انتہائی کم ہے۔ شہر اقتدار میں بھی بچے غیر محفوظ ہیں۔2025  کی پہلی ششماہی میں اسلام آباد میں بچوں پر تشدد کے 276 کیس رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ صرف 7 مقدمات میں سزائیں ہوئی۔ پنجاب میں رپورٹنگ میں بہتری آئی ہے۔ جبکہ خیبر پختونخوا پولیس نے بھی سرکاری ہدایات کے باوجود تنظیم کو ڈیٹا فراہم نہیں کیا۔ پنجاب میں اسی عرصے کے دوران بچوں پر تشدد کے 4 ہزار 150 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے اور صرف 12 مقدمات میں سزا سنائی گئی ہے۔ سزا کی یہ شرح 1 فیصد سے بھی کم ہے۔ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پنجاب میں بچوں اور خواتین کے تحفظ کا نظام کس قدر مضبوط ہے۔
ملک ہارڈ سٹیٹ بننے کی جانب رواں دواں ہے مگر بچوں اور خواتین کو تحفظ حاصل نہیں۔ حسان نیازی نے جیل سے اپنی 70 سالہ ماں پر ریاستی تشدد کا نشانہ بنانے پر انتہائی دل سوز خط لکھا ہے۔ انہوں نے خط میں اپنی ماں کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے لکھا کہ ریاست کی جانب سے آپ پر جسمانی تشدد میرے دل پر گہرا زخم چھوڑ گیا ہے۔ میری ماں جس سے میں دنیا میں سب سے زیادہ محبت کرتا ہوں، کو سڑک پر گھسیٹا گیا، بالوں سے کھینچا گیا اور تقریباً بے ہوش کر دیا گیا۔ میری 70سالہ ماں کے ساتھ ایسا بدترین سلوک میرے لیے تکلیف دہ ہے۔ حسان نیازی نے اپنی ماں کی جرأت اور بہادری کو بھی سلام پیش کیا۔ عورت ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کے روپ میں معاشرے کی ایک اہم فرد ہے مگر افسوس کے چار دیواری کے اندر اور باہر عورت تشدد اور جنسی خوف و ہراس کا شکار ہے۔ ہر شہری کو تحفظ دینا ریاست کا فرض اور ذمہ داری ہے۔
جزا اور سزا کا قانون معاشرے میں جرائم کی روک تھام کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ معاشرے عدل کے مضبوط نظام کے بغیر پروان نہیں چڑھ سکتے۔ کسی بھی ملک میں عدالتیں عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرتی ہیں اور اگر ریاست یا اس کا کوئی ادارہ ظلم و زیادتی کرے تو عدالت ہی ڈھال کا کردار ادا کرتی ہے۔ 26 ویں اور 27 ویں ترمیم کے ذریعے اس ڈھال کو کمزور کر دیا گیا ہے۔ اب ایسے میں عام شہری کس کا در کھٹکھٹائے۔

مزیدخبریں