واپسی کا سفر، افواہیں، آخری برسی

09:14 AM, 1 Dec, 2025

وطنی سیاست اعلانات، خطابات، تحفظات، مطالبات، خطرات، امکانات اور سینوں میں دبی خواہشات پر چل رہی ہے، استحکام، معاشی بحالی اور ترقی کیسے آئے گی۔ معاف کیجئے جمہوریت کی آڑ میں ملک کے خلاف اظہار رائے کی جتنی آزادی ہمارے پیارے ملک میں ہے دنیا کے کسی اور ملک میں نہیں۔ سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے ملک بھارت میں بھی اظہار رائے کے لیے کچھ قواعد و ضوابط موجود ہیں، حالیہ جنگ کے دوران پاکستان سے شرمناک شکست کے باوجود وہاں کے میڈیا بلکہ اپوزیشن جماعتوں نے بھی حد میں رہتے ہوئے تنقید کی۔ اپنا باوا آدم نرالا، جتنی جماعتیں اتنے بت، عوام خانہ دل میں پسندیدہ بت سجائے بیٹھے ہیں، ہم بحمدللہ مسلمان لیکن لات و منات کے پجاری کوئی ہمارے بت کے خلاف بات کرے تو اس کا سر کھول دیتے ہیں، گولیوں سے سینہ چھلنی کر دیتے ہیں، ٹی وی سکرین پر کنگفو کے دائو آزماتے ہیں اور غیرت کے نام پر جمہوریت کے متولی کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں ہمارے لکھاری تقسیم، الیکٹرانک میڈیا کے کھلاڑی منقسم، ایاک نعبُد کے نعرے لیکن اھدنا الصراط کی دعا سے گریز، نوجوان نسل کو زومبیز بنا دیا گیا، عقل و فہم سے بیگانہ ،حضرت علامہ نے بجا طور پر کہا تھا، ’’زبان سے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل، دل و نگاہ مسلمان نہیں تو کچھ بھی نہیں‘‘ سفید ریش والد نے بڑے دکھ سے اپنی جوان بیٹی کا فقرہ دہرایا، کاش میرا لیڈر میرا باپ ہوتا، پیر و مرشد ولی اللہ انبیاء کی طرح (نعوذ باللہ) اللہ کی تربیت کا دعویدار، گفتار کا غازی کردار سے عاری مگر مقبولیت کا گراف مبینہ طور پر بلند، دو سال سے جیل میں بند مگر اپنوں میں سر بلند، ہفتہ میں دو بار منگل اور جمعرات کو عشق کے مارے ’’دیدار‘‘ کرنے اڈیالہ جیل پہنچ جاتے ہیں، 4 نومبر سے 27 نومبر تک ریاست نے سختی دکھائی تو نوبت دھرنوں تک آ گئی، اس کے ساتھ ہی افواہوں کا بازار گرم ہو گیا، جھوٹ کی ابتدا افغانستان کی کالی پگڑیوں سے ہوئی۔ افغانستان ٹائمز نے خبر اڑائی کہ ملاقاتوں پر پابندی کا مقصد (اللہ نہ کرنے) خان کے قتل کو چھپانا ہے۔ بھارتی میڈیا سے ہوتی ہوئی بات چل نکلی کسی نے وفات کسی نے انتقال پر ملال کسی نے دور دراز جیل منتقلی کی خبریں چلائی، سب جھوٹ ثابت ہوئیں، جاوید چودھری نے انکشاف کیا کہ موسم کی تبدیلی سے بانی پی ٹی آئی کو وائرل کی شکایت ہوئی ٹھیک ہو گئے باقی سب زیب داستاں، جیل میں عیش کر رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ ’’عشق عمران‘‘ میں صوبہ بھول بیٹھے، کسی نے کہا وزیر اعلیٰ تو ’’بیٹھے ہیں رہگذر پر ہم کوئی ہمیں اٹھائے کیوں‘‘ گنگاتے ہوئے ’’مجاور‘‘ بن گئے۔ صوبہ کے لیے متبادل وزیر اعلیٰ نامزد کیا جائے جسے صوبہ چلانے کے لیے اڈیالہ جیل میں قائم پی ٹی آئی کے ’’ہیڈ کوارٹر‘‘ کی ہدایات درکار نہ ہوں، ملاقاتوں پر پابندی لگی۔ وزیر اعلیٰ اور تینوں بہنوں کو ’’روئے انور‘‘ کی زیارت نہ ہو سکی۔ تاخیر ہوئی تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا۔ ملاقاتیوں نے جیل کو ہیڈ کوارٹر بنا لیا تھا۔ ملاقات کے دوران ہدایات و احکامات جاری ہوتے غیر سیاسی بہنیں ان ہی ہدایات پر باہر آ کر سیاست کرتیں، غیر معروف وکلاء اور نعرے باز سیاں اپنی سیاست چمکاتے، محترمہ علیمہ خان اپنی بہنوں کے ہمراہ اور وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی آٹھ بار ’’آستانے‘‘ پر حاضر ہوئے، اذن باریابی نہ ملا۔ آخری بار دھرنا دے دیا گویا ’’بیٹھے ہیں رہگزر پہ ہم کوئی ہمیں اٹھائے کیوں‘‘ پولیس نے گھیر لیا لیکن لاٹھی چارج کی بجائے چائے بسکٹوں سے تواضع کی۔ شدید سردی سے بچنے کے لیے کمبل پیش کیے۔ جواب میں اچکزئی کی ناگوار باتیں اور علامہ پلس راجہ صاحب کے شہادت شہادت سعادت سعادت کے نعرے سننا پڑے سورج طلوع ہوتے ہی 14 افراد کے ’’لشکر جرار‘‘ کی واپسی ہو گئی، جاتے جاتے نوخیز وزیر اعلیٰ نے کہا عوام کو ساتھ لے کر آئوں گا۔ 27 نومبر کو گزشتہ 27 نومبر کی یاد میں پشاور میں عظیم الشان جلسہ ہو گا۔ اس کے بعد واپس آئوں گا۔ 27 نومبر کی پہلی برسی جلسہ میں 15 سو افراد، ایک سیانے نے کہا، پہلی نہیں آخری برسی کیونکہ اس کے بعد بھائی لوگ عوام کو گھروں سے 
نہ نکال سکیں گے واپسی پر یاد آیا کہ بڑے خان صاحب (جنہیں پشتو نہ آنے کے باوجود خان کہا جاتا ہے) کے جیل میں طویل قیام، ناکام حکمت عملی، ریاست کی سختی سیاسی اقدامات اور پریشر ککر کے پریشر میں بتدریج کمی کے باعث مقبولیت کی واپسی کا سفر شروع ہو گیا۔ پی ٹی آئی کے جن لیڈروں کو سزائیں ہوئیں نا اہل ہوئے ان کی خالی نشستوں پر ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ (ن) نے کلین سویپ کیا۔ لاہور، فیصل آباد، ساہیوال، سرگردھا اور میانوالی کی سیٹوں پر (ن) لیگ کے امیدوار کامیاب ہوئے۔ پی ٹی آئی نے بظاہر الیکش کا بائیکاٹ کیا مگر آزاد امیدواروں کو میدان میں اتارا، قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی سیٹ سے محروم عمر ایوب نے خیبر پختونخوا کی اپنی نشست این اے 18 ہری پور پر اپنی اہلیہ شہر ناز کو کھڑا کیا۔ مقابل ن لیگ کے بابر نواز تھے۔ وزیر اعلیٰ آفریدی نے انتخابی مہم میں الیکشن کمیشن کو دھمکیاں دیں لیکن زبردست مقابلہ کے بعد بابر نواز ایک لاکھ 63 ہزار 9 سو 96 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ محترمہ شہر ناز کو ایک لاکھ 20 ہزار 2 سو 20 ووٹ ملے، سب سے بڑا اپ سیٹ، عمر ایوب اپنی 65 سالہ پرانی خاندانی نشست کھو بیٹھے یاروں نے اسے خان کی مقبولیت میں کمی قرار دیا۔ تاہم اس کی بنیادی وجہ وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز کی عوام کو سہولتیں دینے اور مختلف شعبوں میں خدمات بنی۔ محترمہ نے اپنی شبانہ روز محنت کے بل بوتے پر پی ٹی آئی سے پنجاب چھین لیا۔ ان کامیابیوں کی وجہ سے ن لیگ کو اکثریت حاصل ہو گئی، بدخواہوں نے کہنا شروع کر دیا کہ ن لیگ کو اب پیپلز پارٹی کی ضرورت نہیں رہی، کچھ نے دونوں پارٹیوں میں اختلافات کو ہوا دینے کے لیے ڈھائی ڈھائی سالہ اقتدار کی حمایت میں زور لگایا لیکن فضول، یہ فارمولا ابتدا میں رد کر دیا گیا تھا۔ کچھ نے بے پر کی اڑائی کہ پی پی اپوزیشن میں مولانا اور تحریک انصاف کے ساتھ بیٹھے گی لیکن طے ہے کہ پی پی اتحاد نہیں چھوڑے گی۔ 27 ویں ترمیم کے بعد بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں عدلیہ کی سمت درست ہوئی فوج میں نئی تقرریاں تعیناتیاں ہوں گی 27 ویں ترمیم سے فیلڈنگ سیٹ ہو گئی28 ویں ترمیم ہو گی لیکن کوئی جلدی نہیں، ضمنی الیکشن سے پی ٹی آئی کو دھچکا لگا ہے۔ لیکن بے دم نہیں ہوئی، پھر وہی سوال عوام کو مہنگائی سے نجات مل جائے تو یہی کمپنی آئندہ دس سال تک چلتی رہے گی۔

مزیدخبریں