مسلم لیگ نواز کو جب بھی اقتدار ملا پاکستان لا تعداد بحرانوں میں گرا ہوا ملا۔ حکومت سنبھالنے کے پہلے سال مسلم لیگ نواز کو ہمیشہ ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ میاں نواز شریف تین مرتبہ وزیراعظم منتخب ہوئے، شہباز شریف وزیراعلیٰ پنجاب رہے اور اب دوسری مرتبہ وزیراعظم منتخب ہوئے ہیں ،حمزہ شہباز وزیر اعلیٰ پنجاب کچھ دنوں کے لیے رہے اب مریم نواز پنجاب کی وزیراعلیٰ ہیں۔ ہر دور میں اندرونی اور بیرونی سطح کے بحرانوںکا مسلم لیگ نوازکی حکومت کو سامنا کرنا پڑا۔یہ اللہ تعالیٰ کی شاید خاص کرم نوازی ہے مسلم لیگ(ن) نے ہر مرتبہ ملک کو بحرانوں سے نکالا،اب مسلم لیگ (ن) کی لیڈرشپ اس میں کامیاب ہورہی ہے۔ مسلم لیگ نون کی لیڈرشپ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے وہ بحرانوں سے بھاگنے کی بجائے ان کا حل تلاش کرنے میں لگ جاتی ہے۔ میاں نواز شریف نے بھی اسی سوچ اور ویژن کے تحت تین مرتبہ پاکستان کو بحرانوں سے بھی نکالا ،معاشی اور دفاعی طور پر ملک کومضبوط کیا۔ پھر وزیراعظم شہباز شریف آئے تو انہوں نے پہلے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا پھر پاکستان کی معیشت کو دوبارہ ٹریک پر لائے۔ سب سے بڑی شہباز شریف کی کامیابی ان کے وزیراعظم ہوتے ہوئے پاکستان نے بھارت کے خلاف تاریخی فتح حاصل کی۔ یہ کریڈٹ وزیراعظم شہباز شریف کا ہے جو ان سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ بھارت کے خلاف پاکستان کی ایسی جیت ہے جس کو آنے والی نسلیں بھی یاد رکھیں گی،ساتھ یہ نسلیں وزیراعظم شہبازشریف کو بھی فخریہ الفاظ میں شاید کریں گی۔ اس جنگ کی کامیاب حکمت عملی کا کریڈٹ چیف فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو جاتا ہے جبکہ سفارتی سطح پر پاکستان کا مقدمہ مضبوط انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرنا اسحاق ڈار کی بڑی سفارتی کامیابی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز لاہور میں پاک بزنس ایکسپریس ٹرین کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھی اس بات کا کھلے الفاظ میں ذکر کیا آپریشن بنیان مرصوص اور معرکہ حق کے دوران اللہ تعالیٰ نے قوم کو فتح مبین نصیب فرمائی اور پاک فوج نے دلیری اور مہارت کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کیا ۔پاکستان کی بری، بحری اور فضائیہ افواج نے بہادری ،مہارت اور جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے صرف پانچ گھنٹوں میں اپنے سے بڑے دشمن کو ناکوں چنے چبوائے۔ میں ایک ایک لمحے کا گواہ ہوں پاکستان نے بھارت کو جنگ میں تاریخی شکست دی ،یہ پاکستان کی سفارتی کامیابی کی زندہ مثال ہے۔ اس موقع پر وزیراعظم نے وزیر ریلوے حنیف عباسی چیئرمین ریلوے اور سی ای او ریلوے کی بھی تعریف کی۔ ایک سال میں ریلوے نے 93 ارب روپے کمائے ہیں یہ شاید پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ریلوے کا ہدف ہے۔ حنیف عباسی ایک سیاسی کارکن ہے ان کی سیاسی تربیت عوامی خدمت سے منسلک ہے۔ ریلوے کے وزیر بننے کے بعد انہوں نے ریلوے کو واقعی دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کر دیا ہے۔ یہاں ایک اور سب سے قابل ذکر بات ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز لاہور سے راولپنڈی تک بلٹ ٹرین چلانے کا منصوبہ شروع کرنا چاہتی ہیں ۔اس کے لیے باقاعدہ انہوں نے مریم اورنگزیب کو خصوصی ٹاسک بھی دیا ہے ۔اس حوالے سے وزیر ریلوے حنیف عباسی اور مریم اورنگزیب کی ایک میٹنگ ہوئی ہے جبکہ مریم اورنگزیب کی ریلوے حکام کے ساتھ بھی باقاعدہ میٹنگ ہو چکی ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے لاہور سے راولپنڈی تک پاکستان کی پہلی تیز ترین ’بلٹ ٹرین‘ چلانے کے فیصلے پر عملدرآمد کیلئے ورکنگ گروپ تشکیل دے دیا گیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب اور وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کی صدارت میں پہلا باقاعدہ اجلاس منعقد ہو چکا ہے، مریم اورنگزیب نے منصوبے کی فزیبلٹی، ٹائم لائن کی تیاری کے لیے صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان، مشیر وزیرعلیٰ پنجاب شاہد تارڑ، چیئرمین ریلوے اور سی ای او ریلوے پر مشتمل ورکنگ گروپ بنا دیا۔ اگر مسلم لیگ ن کی حکومت آنے والے تین سال میں اس بلٹ ٹرین کا منصوبہ مکمل کر لیتی ہے تو یہ یقینی طور پر آئندہ الیکشن میں ان کی پنجاب میں دوبارہ کامیابی کی ضمانت ہو گا کیونکہ یہ بلٹ ٹرین لاہور سے راولپنڈی صرف دو سے ڈھائی گھنٹے میں پہنچے گی۔ مسلم لیگ ن جب بھی اقتدار میں آتی ہے پاکستان دفاعی اور معاشی لحاظ سے مضبوط ترین ملک بنتا ہے اور پاکستان کے عوام بھی خوشحال زندگی گزارنا شروع کرتے ہیں۔ موجودہ حکومت کے لیے پہلا سال ہر لحاظ سے کافی مشکل تھا لیکن اب تیزی سے چیزوں میں بہتری نظر آنا شروع ہو چکی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف تیزی سے ریلیف پروجیکٹ شروع کر رہے ہیں، پنجاب میں تو مریم نواز عوام کی خدمت کے ریکارڈ قائم کر رہی ہیں۔ حکومت کے عوامی ریلیف کے منصوبوں کی آگاہی کے لیے اس وقت وفاقی وزیرا طلاعات عطا تارڑ اور زیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری بہترین انداز میں اپنی حکومت اور جماعت کی ترجمانی کر رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن کی یہ میڈیا ٹیم بہت پروفیشنل اور ذمہ دار ہے۔ اپنے مخالفین کی تضحیک کرنے اور ذاتی حملے کرنے کی بجائے اپنی حکومت کی کارکردگی پر زیادہ گفتگو کرتے ہیں۔ ایک اچھے حکومتی ترجمان کی یہی سب سے بڑی نشانی ہوتی ہے کہ وہ اپنے الفاظ کا چناؤ سوچ سمجھ کر کرتا ہے کیونکہ وہ ایک منتخب حکومت کی نمائندگی کر رہا ہوتا ہے۔ ماضی میں ہم نے دیکھا ہے کہ حکومتی ترجمان کردار کشی اور ذاتی حملے کرتے تھے جبکہ انکا کام اپنی حکومت کی کارکردگی بتانا تھا۔ شاید ماضی کے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے ایسے کوئی عوامی ریلیف کے منصوبے نہیں تھے جو عوام کے سامنے ان کی تفصیلات بیان کر سکتے جبکہ عطا تارڑ اور عظمیٰ بخاری کے پاس اپنی حکومت وفاق کی ہو یا پنجاب کی ہو ان کے عوامی مفاد کے منصوبوں کی تفصیلات اور معلومات عوام تک پہنچانے کے لیے ایک لمبی فہرست ہے۔ ان دونوں شخصیات کی سب سے بڑی کوالٹی یہ ہے کہ یہ دونوں میڈیا فرینڈلی ہیں۔ میاں نواز شریف نے عطا تارڑ اور عظمیٰ بخاری کا انتخاب بالکل درست کیا ہے۔ یہ وقت نے ثابت کر دیا۔
مسلم لیگ نواز بحرانوں کا حل اور ترقی کا سفر
09:16 AM, 1 Aug, 2025