ایگری ٹورازم انیشیٹو

09:13 AM, 1 Aug, 2025

صنعت و حرفت کی طرف تیزی سے قدم بڑھانے کے باوجود آج بھی ہمارا ملک بنیادی طور پر زرعی ملک ہے۔ زراعت کو ہمارے ملک کے معاشی اور معاشرتی ڈھانچے میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔ جب تک ہم زراعت کی طرف خاطر خواہ توجہ نہیں دیں گے اس وقت تک معاشی ترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔ در حقیقت ہمیں اگر ترقی کرنا ہے تو ہمیں اپنے اسی سیکٹر پر توجہ دینا ہو گی۔ اسی کی بہتری سے کسان کی معاشی حالت بہتر ہو سکتی ہے اس کی غربت میں کمی آ سکتی ہے۔ ہمارے کسان سال بھر محنت مشقت میں مصروف رہتے ہیں لیکن ان کی آمدنی کا انحصار اچھے موسم، اچھی فصل اور اچھی فروخت پر ہوتا ہے۔ آمدنی کا یہ خوشگوار تجربہ سال میں ایک یا دو بار ہوتا ہے لیکن اس کے اخراجات ہفتہ وار بنیاد پر ہیں جس کو سال بھر برقرار رکھنا بہت مشکل ہے کیونکہ آمدنی کافی نہیں ہے۔
ایسے میں روایتی زراعت کو پائیداری اضافے کے لیے نئے تجربات کی ضرورت ہے۔ زراعت میں سیاحت ایک ایسا تجربہ ہے جس سے ہفتہ وار آمدنی پیدا ہو گی جو فارم کے ہفتہ وار اخراجات کا معاوضہ بن سکتی ہے۔ چھوٹے فارمز پر ثقافتی اور زرعی نمائش بچوں کے لیے تفریح، دیسی کھانے، ساگ مکئی کی روٹی، مسی روٹی، مکھن، چاٹی کی لسی، گنے کے رس کی کھیر ، تانگے کی سیر، گڑ میلہ، ہارس شو،فارمر بازار، ایگری وزٹ وغیرہ وغیرہ لگائے جا سکتے ہیں۔ جہاں لوگ سیر تفریح کی خاطر آئیں گے اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہو گا۔ نیز اس کا مقصد یہ موقع بھی فراہم کرنا ہے کہ روزمرہ کی شہری زندگی سے دور دیہات کے پرسکون ماحول میں تفریح کے ساتھ اپنا وقت گزاریں۔
نان ریذیڈنٹ پاکستانیز واشنگٹن ڈی سی گروپ پاکستان میں انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ایگرو ٹورازم کے قیام کے لیے امریکہ اور پاکستان کے درمیان مشترکہ منصوبہ بنا رہے ہیں جس کے لیے اکتوبر 2025ء میں پاکستان میں ایگری ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن آف پاکستان کے اشتراک سے لاہور میں سافٹ لانچنگ کی جا رہی ہے۔ جس کا مقصد کسانوں کو بااختیار بنانا اور زراعت کو آنے والی نسلوں کے لیے ایک پائیدار اور منافع بخش منصوبہ بنانا ہے۔ نان ریذیڈنٹ پاکستانیز واشنگٹن ڈی سی کے روحِ رواں شہاب قرنی نے امریکہ اور پاکستان کے سٹیک ہولڈرز کے ساتھ ایک انیشیٹو لیا ہے۔ جس کا مقصد پاکستان میں زرعی سیاحت کے لیے ایک بین الاقوامی ادارہ بنا کر پاکستان میں ایگرو ٹورازم کے شعبے کو فروغ دیا جائے۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو یہ سکیم موقع فراہم کرے گی کہ وہ اس میں شامل ہوں۔ امریکی تعاون سے پاکستان میں زرعی کاشتکاری کا شعبہ جنوبی اور وسطی ایشیا کے خطے کو پورا کرنے 
کی بڑی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایگری ٹورازم کارپوریشن آف پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسرجناب طارق تنویر پاکستان میںایگری ٹورازم کے بانی ہیں ،جو گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے زائد عرصہ سے پاکستان میں ایگری ٹورازم، کچن گارڈننگ کو فروغ دینے میں سرگرمِ عمل ہیں۔ عالمی سطح پر طارق تنویر صاحب انٹرنیشنل ٹورازم کانفرنسوں میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ ان کی خدمات کے صلے میں انہیں گورنر ایوارڈ اور نیشنل ٹورازم ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ 
انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ایگرو ٹورازم کے قیام کا مقصدزراعت کو کسانوں کے لیے ایک پائیدار اور معاشی طور پر قابلِ عمل شعبے میں تبدیل کرنا ہے۔ اس حوالے سے ایگری فیلڈ فیسٹیولز، ٹریننگ ورکشاپس، سیمینارز، نیشنل ایگری ٹورازم کانفرنسز کا انعقاد کیا جائے گا۔ زرعی سیاحت کو فروغ دینے سے باغات اور کھیت کھلیانوں کی سیر و سیاحت سے یقینا ہماری دھرتی کے باسیوں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ شہروں سے دیہات میں پیسہ جائے گا۔ شہر کے باسی ایسی صحت مند تفریح سے روشناس ہوں گے جو سیر و تفریح کے ساتھ ساتھ ان کی معلومات اور تجربے میں اضافے کا سبب بنے گی۔ اس کا سب سے زیادہ فائدہ شہروں کو ہو گا، ایگری ٹورازم سے ہریالی دیہات سے شہروں کی جانب منتقل ہو گی کیونکہ لوگ جب کسی کھیت کھلیان کی سیر و تفریح کر کے واپس دھویں سے بھرے ہوئے شہروں کو لوٹیں گے تو یقینا ان کے دل میں درختوں اور کھیتوں سے محبت پیدا ہو گی اور کچھ نہیں تو کم سے کم وہ اپنے ارد گرد درخت اور پودے ضرور لگانا چاہیں گے۔ 
نان ریذیڈنٹ پاکستانی واشنگٹن ڈی سی اور ایگری ٹورازم کارپوریشن آف پاکستان کا پاکستان میں انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ایگرو ٹورازم کے قیام کا مقصد کسانوں کی تربیت کی جا سکے۔ ضلع کی سطح پر ایگری ٹورازم کے مراکز قائم کئے جائیں جہاں سے مقامی باغات و کھیت کھلیان کے مالکان کو اس بات کی مکمل تربیت و معلومات فراہم کی جائیں کہ وہ کس طرح اپنے فارم ہاؤس کو ایگری ٹورازم فارم ہاؤس بنا کر اضافی آمدنی کما سکتے ہیں۔ زرعی سیاحت میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے نئے نئے آئیڈیاز پر بھی کام کیا جائے گا کیونکہ زرعی سیاحت محض کھیل، تفریح یا سیر سپاٹا نہیں بلکہ یہ ملکی ترقی کا اہم ترین باب ہے۔
شہاب قرنی کا مزید کہنا تھا کہ ملکی ترقی کے ساتھ ساتھ زرعی سیاحت سے بہت سے سماجی مسائل بھی حل کیے جا سکتے ہیں جس میں سرِ فہرست دیہی آبادی کی شہروں کی طرف نقل مکانی کا مسئلہ ہے۔زرعی زمین شہری آبادیوں کا حصہ بن رہی ہے شہروں کی آبادی بڑھنے کی وجہ دیہی علاقے کے لوگوں کی شہروں میں منتقلی ہے۔ جب دیہاتوں میں زراعت ختم ہو رہی ہوتی ہے تو لوگ اپنے روزگار کے لیے شہروں کا رخ کرتے ہیں تو وہاں کی آبادی میں اضافہ ہو جاتا ہے ہر شہر کے ارد گرد سو سو کلو میٹر تک شہر بڑے ہو گئے ہیں جو کہ ایگریکلچر کی بہترین زمین کو کھا گئے ہیں ایسے میں جب زرعی زمین اتنی تیزی سے ختم کر دی جائے گی تو اتنی بڑی آبادی کو کون خوراک مہیا کرے گا۔ ایک اور سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ انتہائی غیر معیاری خوراک لوگوں تک پہنچتی ہے، جس میں غیر معیاری طریقے سے تیار کیا ہوا دودھ اور غیر صحت مند گوشت سرِ فہرست ہیں، غیر معیاری مسالے اور نجانے کیا کیا شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر معیاری طریقے سے کاشت کی جانے والی سبزیاں جو کیمیکل سے تیار کی جاتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہمارے لوگ غیر صحت مند زندگی گزار رہے ہیں چالیس سال کی عمر کے بعد عام طور پر لوگ شوگر، بلڈ پریشر اور کئی طرح کی ذہنی دباؤ کی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ غیر ضروری کیمیکل اور پیسٹی سائٹ کا استعمال خوراک کو مضر بنا رہا ہے۔ ایسے چھو ٹے فارم ہاؤسز پر کیمیکل اور پیسٹی سائٹ سے پاک اپنے ذاتی استعمال کے لیے سبزیاں کاشت کی جا سکتی ہیں۔ ایگری ٹورازم فارم ہاؤسز کی حکمتِ عملی سے کسان کی آمدنی بڑھے گی تو ملکی معیشت پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے، ساتھ ہی اسے خالص خوراک بھی میسر آئے گی۔

مزیدخبریں