اس میں کوئی شک نہیں کہ تحریک ِ پاکستان ہی پاکستان بننے کا حقیقی سبب تھا گو کہ اس میں بیرونی عوامل کو بھی کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا لیکن یہ کتنے لوگ جانتے تھے کہ تحریک پاکستان ایک کبھی نہ ختم ہونے والی تحریک بن جائے گی اور جو ملک ہمارے بزرگ بنانے جا رہے تھے وہ ’’تحریکوں‘‘ کے حوالے سے دنیا کا سب سے خودکیفل ملک ہو گا۔ بنگالیوں کی زبان کی تحریک سے شروع ہونے والی تحریک اپنے عروج و زوال کی منازل طے کرتی ہوئی اتنی پھلدار ثابت ہوئی کہ ایک جماعت دو دو تحریکیں چلا رہی ہے۔ مسلم لیگ ن ایک طرف اپنی بقا کی تحریک چلا رہی ہے تو دوسری طرف پاکستان میں خوشحالی کی تحریک چلانے کی دعویدار ہے۔ پیپلز پارٹی صدر بچائو تحریک کے ساتھ ساتھ سندھ بچائو میں بھی مصروف ہے۔ مولانا فضل رہنما ایک طرف اسلام بچائو تحریک چلا رہے ہیں اوردوسری طرف ’’اقتدر دلائو تحریک‘‘ کے بھی روح رواں ہیں۔ جماعت اسلامی ایک طرف عوامی مسائل کی تحریک چلانے کا اعلان کر رہی ہے تو دوسری طرف اقتدار سے باہر رہنے پر بھی سراپا احتجاج ہے۔ کوئی زیر زمین ’’عزت بچائو تحریک‘‘ کو سپورٹ کر رہا ہے تو کوئی ’’عزت بنائو تحریک‘‘ کے گن گا رہا ہے لیکن سب سے دلچسپ ’’تحریک انصاف‘‘ چلا رہی ہے جو صرف پاکستان ہی نہیں دنیا کی تحریکوں میں اچھوتی تحریک ہے۔ ایک ایسی تحریک جس کا کوئی بیانیہ ہی نہیں، چند دن پہلے تک تو عمران نیازی کے صاحبزادوں قاسم اور سلمان نے پہلے ابا جی کو آزاد کرانا تھا اور پھر ابا جی نے پوری پاکستانی قوم سے روشناس کرانا تھا لیکن جیسا کہ میں نے چند دن پہلے لکھا تھا کہ عمران نیازی کسی بیانیے کو آسمان کی بلندی تک لے جاتا ہے اور پھر یکلخت اپنے بیانیے سے انحراف کر جاتا ہے اور اُس کی خوش قسمتی یہ ہے کہ اللہ نے اُسے ایسی ہی ڈفر سیکنڈکلاس سیکنڈ لیڈر شپ دے رکھی ہے جس کی جرأت ہی نہیں کہ وہ عمران نیازی سے سوال کر سکیں ’’جناب! آخر آپ چاہتے کیا ہیں؟‘‘۔ وہی عمران نیازی جو دو نہیں ایک پاکستان کے نعرے پر پاکستان میں آیا تھا اب خود ہی ایک نہیں دو تحریکیں چلا رہا ہے۔ امریکہ اگر عمران نیازی کی رہائی کا وعدہ بھی کر لے تو قاسم اور سلمان کبھی پاکستان نہیں آئیں گے۔ ہم لوگوں کی یادداشتیں بہت کمزور ہیں کہ ابھی کل کی بات ہے جب عمران نیازی نے بطور وزیر اعظم کہا تھا ’’پاکستان میرے بچوں کیلئے غیر محفوظ سرزمین ہے۔‘‘ جو شخص وزیر اعظم ہو کر پاکستان کو غیر محفوظ مقام سمجھتا ہے وہ اپنے بچوں کو جیل میں بیٹھ کر پاکستان بلائے گا؟ انتہائی عجیب و غریب بات ہے اور اُس سے زیادہ عجیب و غریب اس پر یقین کرنیوالے ہیں۔
5 اگست کو عمران نیازی نے ملک بھر میں احتجاج کی کال دے رکھی ہے لیکن نہ جانے اُسے یہ مشورہ کس نے دیا ہے جبکہ 5 اگست وہی دن ہے جب عمران نیازی کے وزیر اعظم ہوتے ہوئے بھارت نے اپنی آئینی دفعات ختم کر کے کشمیر کو ریاست ہندوستان میں ضم کر لیا تھا اور پاکستان میں کسی نے اونچی سانس بھی نہیں لی تھی۔ عمران نیازی کے سارے دور حکومت میں بھارتی وزیر اعظم نے ہر وہ کام کیا جو ایک ایٹمی پاور کے خلاف ممکن تھا لیکن پاکستانی وزیر اعظم فلور آف دا ہاؤس کھڑے ہو کر بزدلوں کی طرح اپنے ہمنوائوں کے ساتھ پھیکی تقریریں کرتا رہا۔ کشمیر پاکستان کیلئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اور اب تک بھارت کشمیر میں 42 لاکھ سے زائد ہندو بسا چکا ہے تاکہ جب کبھی استصواب رائے کا بگل بجے تو ہندو آبادی فراخ دلی سے بھارت کے حق میں اپنا فیصلہ سنا سکے۔ جماعت اسلامی 5 اگست کو یکجہتی کشمیر منانے جا رہی ہے اور یقینا جماعت اسلامی ایک منظم جماعت ہے جو چاروں صوبوں میں احتجاج کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے سو اب سمجھنے والی بات یہ ہے کہ 5 اگست کا جماعت اسلامی کا احتجاج واقعی کشمیر کیلئے ہے یا عمران نیازی کی بچی کھچی تحریک ِ انصاف کی مدد کیلئے پاکستان کی سٹرکوں پرکیا جا رہا ہے۔ بہتر تو یہ ہے کہ مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی بھی اس میں شامل ہو جائے تاکہ یہ احتجاج بجائے عمران نیازی کی رہائی کے، کشمیر کیلئے سمجھا جائے اور پرانے زخم بھی ایک بار ہرے کر لیے جائیں۔ ویسے آنے والے چند دن میں عمران نیازی اور فیض حمید کا بوریا بستر ابھی سمیٹ دیا جائے گا کیونکہ ایک بات تو سیدھی ہے کہ فیض حمید کو سزا دیئے بغیر عمران نیازی کی سزا کا کوئی جواز نہیں بنتا اور نہ ہی 9 مئی کے سزا یافتگان مجرم تسلیم کیے جائیں گے ان تمام مجرموں کا ’’کھرا‘‘ فیض حمید کی طرف ہی جاتا ہے جس نے عمران نیازی کے ہر رستے کو ہموار کیا۔ آج بھی عام پاکستانی کی یہی رائے ہے کہ فیض حمید کو سزا نہیں ہو سکتی لیکن میں سمجھتا ہوں کہ وہ وقت آ چکا ہے کہ ہمیں پاکستان کے دشمنوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتنا ہو گی۔ بھارت اور اسرائیل کے ایجنٹ بلوچستان میں ہی نہیں پاکستان بھر میں دندناتے پھر رہے ہیں اُن کے رابطے اور انوسٹمنٹ سب کچھ پاکستان کے سامنے ہیں۔ امریکی اور اسرائیل ہمدردی، پاک بھارت اور ایران اسرائیل جنگ میں بھی کھل کر سامنے آئی جس سے ایک بات تو ثابت ہے کہ عمران نیازی کا پھیلایا ہوا گند صرف تحریک انصاف میں ہی نہیں، بہت سے پردہ نشیں وہ بھی ہیں جو کبھی نہ کبھی پاکستان سے کسی نہ کسی جرم میں بھاگے اور اب وہ پاکستان سے باہر ویل سیٹل ہیں۔ تحریک انصاف ٹریڈرز ونگ کے مرکزی صدر حاجی میاں طاہر نے 5 اگست کے حوالے سے مجھے تحریک انصاف پنجاب کی چیف آرگنائز عالیہ حمزہ کی صدارت میں اجلاس کی تصاویر بھجوائیں جو میرے لیے حیران کن تھیںکہ اگر وہ اجلاس لاہور ٹریڈرز ونگ کا بھی تھا تو وہاں تاجروں کا کوئی نمائندہ نہیں بیٹھا تھا البتہ داتا گنج بخش ٹائون کے کچھ سیاسی ورکرز اور ڈاکٹر یاسمین راشد کے چند کار خاص ہی موجود تھے۔ ان حالات میں کونسا احتجاج اور کیسے شٹر ڈائون؟ عمران نیازی نے تحریک انصاف بنائی تھی لیکن اُس کا اپنا انصاف سے دور دور کا بھی کوئی تعلق نہیں البتہ نا انصافیوں کی ایک مکمل تاریخ کے کئی والیوم اُس پر لکھے جا سکتے ہیں۔ وہ اپنی بساط لپیٹ رہا ہے لیکن افسوس کہ وہ ساتھی جو تحریک انصاف کے دنوں میں انتہائی دانا سمجھے جاتے تھے وہ اسے سیاسی لڑائی سمجھتے ہیں یا مذہبی؟ یہ میں آج تک نہیں سمجھ پایا۔ 5 اگست کے بعد کے پی کے میں بھی نیازی اینڈ کمپنی اپنے انجام کو پہنچ جائے گی کہ ابھی تک اُسے صرف مولانا فضل الرحمان نے روک رکھا تھا اور وہ آخر ی تحریک ہو گی!
ایک پاکستان دو تحریکیں
09:13 AM, 1 Aug, 2025