لاہور کی جیت اسلام آباد کی شکست

09:13 AM, 1 Aug, 2025

قیام پاکستان کے اعلان سے چند ماہ قبل ہی بھارت سے ہجرت شروع ہو چکی تھی کچھ لوگوں کو خبر تھی کچھ کو اندازہ تھا کہ کون سے علاقے پاکستان میں شامل ہوں گے اور کون سے علاقے بھارت کی جھولی میں ڈال دیئے جائیں گے۔ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد حتمی اعلان کا انتظار کرتی رہی جب صورتحال واضح ہوئی تو انہوں نے رخت سفر باندھا اس کے ساتھ ہی بھارتی انتہاپسندوں نے قتل و غارت گری شروع کر دی۔ کچھ راستوں میں کٹ مرے جو بچ کر پاکستان پہنچے اس کی حالت ناگفتہ بہ تھی۔ پنجاب کی سرحد سے لاہور کی طرف آنے والوں میں زیادہ تعداد زراعت اور کاروبار سے وابستہ لوگوں کی تھی جبکہ کھوکھراپار کراچی کی طرف سے اور کشتیوں لانچوں کے ذریعے کراچی آنے والوں میں پڑھے لکھے افراد اور کاروبار سے وابستہ افراد کی تعداد برابر تھی۔ اس زمانے میں کراچی کو پاکستان کا دارالحکومت بنایا گیا تو مہاجر ہو کر کراچی پہنچنے والے پڑھے لکھے افراد کو بڑی تعداد میں نوکریاں ملیں۔ پاکستان ریلویز اور پاکستان پوسٹل سروسز میں نوے فیصد اسامیاں انہی پڑھے لکھے افراد کو ملیں جو واجبی تعلیم رکھتے تھے۔ اسی نسل نے اپنے بچوں کو پہلی فرصت میں سکول بھیجا یوں ان کی دوسری نسل تک تعلیم پہنچ گئی۔ کاروباری خاندانوں نے بھی اپنے بچوں کو سکولوں میں داخل کرایا۔ چند برس بعد کے سروے سامنے آئے تو تعلیم کے میدان میں کراچی دیگر شہروں کی نسبت آگے تھا جبکہ لاہور بھی اسی ڈگر پر چل رہا تھا مگر ایک قدم پیچھے، پنجاب اور خصوصاً لاہور پہنچنے والے مسلمان مہاجرین کی حالت زیادہ خراب تھی، انہیں سنبھلنے میں کافی وقت لگا۔ کراچی میں سرکاری نوکریوں اور بندرگاہ نے مہاجرین کو بہت سہارا دیا۔ لوگ جلد اپنے پائوں پر کھڑے ہو گئے۔ پیٹ میں روٹی پہنچے تو دماغ بہتر انداز میں کام کرتا ہے۔ کراچی نے کام شروع کیا اور پاکستان کو لیڈ کرنا شروع کیا۔ 1970ء تک یہ بات ثابت ہو چکی تھی کہ کوئی مشن یا تحریک کراچی سے شروع ہو گی اور لاہور پہنچ کر اپنے عروج کو پہنچے گی۔ زمانے کا ہر نیا فیشن کراچی سب سے پہلے پہنچتا تھا۔ اسے لاہور پہنچنے میں دو برس لگتے تھے۔ کراچی میں ایک خاص طرز کا لباس پہننے والی خاتون لاہور اپنے عزیز و اقارب سے ملنے آتی تو اسے انارکلی کی سیر ضرور کرائی جاتی۔ اس وقت وہ واحد بازار تھا جہاں دنیا کی ہر چیز مل جاتی تھی۔ گلبرگ ، ماڈل ٹائون، ڈیفنس کو کوئی نہ جانتا تھا، اس کے علاوہ ایک مال روڈ تھی جس کے دو رویہ لگے گھنے درخت عجیب بہار دکھاتے تھے۔ مال روڈ پر خال خال کاریں اور پیلی کالی ٹیکسیاں تھیں یا پھر سکوٹر نظر آتے تھے۔ موٹرسائیکل کی یلغار بھی نہ تھی۔ مجموعی طور پر مال روڈ انتہائی پرسکون سڑک تھی اور ٹھنڈی سڑک کے معیار پر پورا اترتی تھی۔ اشیائے ضرورت کی دکانیں تو یہاں بھی تھیں لیکن قیمتیں نسبتاً زیادہ تھیں لہٰذا انارکلی کی اہمیت عرصہ دراز تک برقرار رہی۔ بانو بازار کے طواف میں لفنگ پارٹیاں بھی انارکلی میں نظر آتی تھیں لیکن سامنے سے آتی کسی خاتون کے ساتھ صرف ’’ کھیہ کے گزر جانا‘‘ ہی انتہائے شوق تھا، اس کے علاوہ اور کچھ نہ تھا کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو شرارتاً جس کے ساتھ کھیہ کے گزرے پھر وہ زندگی بھر کیلئے اس کے پلے پڑ گئی۔ کراچی سے آئی مہمان کو انارکلی سے شاپنگ کیلئے لے جایا جاتا تو اسے کوئی کپڑا جوتا پسند نہ آتا، اس کا جواب ہوتا یہ پرانا فیشن ہے۔ ہم نے دو برس قبل اسے پہن کر پرانا کر دیا ہے، اب اسے کیا خریدنا۔
کراچی پڑھے لکھے دیدئہ بینا لوگوں کا شہر تھا جہاں سے اچھے کاموں کے ساتھ ساتھ کچھ الٹے کاموں کی ابتدا بھی ہوئی، ساٹھ کی دہائی میں پہلی مرتبہ انکشاف ہوا کہ مارکیٹ میں بکرے کے گوشت کے ساتھ کتے کا گوشت بھی فروخت ہو رہا ہے۔ پکڑ دھکڑ شروع ہوئی، خبریں اخباروں کی زینت بنیں تو شہر میں کہرام مچ گیا۔ سول سوسائٹی سراپا احتجاج بن گئی۔ اس وقت تک رشوت کا رواج نہ پڑا تھا۔ ٹریفک کانسٹیبل کی زیادہ سے زیادہ رشوت ایک سگریٹ ہوا کرتی تھی۔ کتے کا گوشت بیچنے والے گرفتار ہوئے۔ مقدمات چلے سر پر قرآن رکھ کر جھوٹی گواہی دینے والے گواہ دستیاب نہ ہوئے۔ ملزمان کو سزائے قید سنا دی گئی۔
لاہور میں کتے ذبح کر کے ان کا گوشت فروخت کرنے کا فیشن دس برس بعد پہنچا، یہاں بھی انتظامیہ اور پولیس حرکت میں آئی۔ ملزمان گرفتار ہوئے، سزائیں ان کا مقدر بنیں۔ مزید دس برس بعد کراچی ہی سے خبر آئی کہ ترقی کا ایک زینہ اور طے ہوا ہے، اب کتے کی بجائے گدھے ذبح ہوئے اور ان کا گوشت فروخت ہونے لگا ہے۔ زمانہ رشوت کا تھا، جھوٹی گواہیوں کا تھا، وکیل کرنے کے ساتھ ساتھ جج کرنے کا فلسفہ مارکیٹ میں آچکا تھا۔ ملزمان کی ضمانتیں ہو گئیں، ضمانت کو کیس ختم ہونے کا پہلا زینہ مان لیا گیا یوں اس کاروبار سے وابستہ افراد کی حوصلہ افزائی ہوئی اور فیشن لاہور تک پہنچ گیا۔ ملتان ، گوجرانوالہ، فیصل آباد اور لاہور پہلوانوں کے شہر تھے، خوش لباسی اور پاکیزگی کے ساتھ ساتھ خوش خوراکی ان کا نصف ایمان تھا۔ یہ بونگ سری پائے کی ترقی کا زمانہ تھا لہٰذا کراچی سے اٹھنے والی تحریک لاہور میں اپنے نکتہ انتہا کو پہنچی۔ جناب انور مقصود کے فرمان کے مطابق اہل لاہور کو جب دھوکے اور کھوتے کا پتہ چلتا ہے اس وقت تک وہ اسے کھا چکے ہوتے ہیں۔ بونگ اور سری پائے کلچر کے بعد کھوتا کڑاہی کلچر آیا اور گلی گلی پھیل گیا، کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ خوش خوراک لوگوں کے شہر میں انہیں کیا کیا کھلا دیا گیا آپ اس کا تصور نہیں کر سکتے۔ کھانے کے کاروبار سے وابستہ افراد نے حیرت انگیز ترقی کی ہے۔ لاہور کی ترقی سے گوجرانوالہ سب سے زیادہ متاثر ہوا جہاں چڑوں کے نام پر کوے کھلا دیئے گئے، کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ ہم نے سستا اور فوری انصاف لاہور میں دیکھا، گدھوں کی کھالیں اور گوشت کھلانے والے پکڑے گئے لیکن کسی کو سزائے قید نہ مل سکی اور کسی کے خلاف مضبوط مقدمہ دائر نہ کیا جا سکا۔ لاہور اس اعتبار سے وکٹری سٹینڈ پر پہلی پوزیشن پر کھڑا ہے۔ کراچی کا دوسرا جبکہ اسلام آباد کا تیسرا نمبر ہے۔ اسلام آباد نیا کھلاڑی ہے۔ یہ اس کا پہلا میچ تھا وہ رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہے۔ اسلام آباد کو شکست ہوئی ہے، لاہور کی جیت برقرار ہے، لہور لہور اے۔

مزیدخبریں