9 مئی کے ملزمان کو سزائیں۔ ظلم یا انجام

09:13 AM, 1 Aug, 2025

9 مئی 2023 کو پاکستان کی تاریخ کا ایک افسوسناک دن تصور کیا جاتا ہے، جب چند شرپسند عناصر نے سیاسی اختلافات کے نام پر ملکی سالمیت اور ریاستی اداروں کی عزت پر حملہ کیا اور پوری دنیا میں قومی وقار کو مجروح کیا۔ اس روز نہ صرف فوجی تنصیبات پر حملے کیے گئے بلکہ قومی یادگاروں اور شہدا کے مجسموں اور ان کی یادگاروں کی بیحرمتی کی گئی۔ ان شر پسند کارروائیوں نے ریاست کی رٹ، قانون کی بالادستی، قومی یکجہتی اور ملکی وقار کو شدید نقصان پہنچایا۔
ایسے پس منظر میں جب عدالتوں نے اس واقعے میں ملوث ملزمان کے خلاف قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے فیصلے سنانا شروع کیے تو چند قلم نگار انہیں ظلم سے تشبیہ دے رہے ہیں۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی ملزم کو اس کے جرم کی سزا دینا ظلم کہلاتا ہے؟ حقیقت میں تو یہ قانون و انصاف کی بالا دستی، ریاستی سالمیت کے تحفظ اور ایک مہذب معاشرے کی تشکیل کی جانب ایک مضبوط قدم ہے۔ ان عدالتی فیصلوں سے واضح پیغام گیا ہے کہ پاکستان میں ریاست اور اس کے قانون سے کوئی بالاتر نہیں، چاہے وہ کسی بھی سیاسی جماعت، تنظیم یا طبقے سے تعلق رکھتا ہو۔
عدالتوں نے شواہد اور گواہوں کی روشنی میں جو فیصلے سنائے ہیں وہ انصاف پر مبنی اور غیر جانبدار ہیں۔ ان فیصلوں نے نہ صرف شہدا کے وارثان سمیت دیگر متاثرین کے زخموں پر مرہم رکھا ہے بلکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ایک مثال بھی قائم کی ہے۔ جہاں ملزمان کی سزاؤں میں قید اور جرمانے شامل ہیں وہیں بعض مقدمات میں یہ سزائیں انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کے تحت سنائی گئی ہیں، جو اس امر کا ثبوت ہیں کہ ریاست اپنے اداروں، عوام اور املاک کے تحفظ کے لیے کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
مہذب دنیا میں ریاست کی رٹ اور قانون کی حکمرانی کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ کسی بھی جمہوری یا فلاحی ریاست کی بنیاد اس اصول پر رکھی جاتی ہے کہ تمام شہری برابر ہیں اور کوئی فرد، گروہ یا جماعت مروجہ قوانین سے بالاتر نہیں اور جب کبھی عوامی یا نجی املاک پر حملہ ہوتا ہے، یا ریاستی اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، تو قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری طور پر کارروائی کرتے ہیں اور عدلیہ ایسے ملزمان کو عبرتناک سزائیں دیتی ہے تاکہ دوسروں کے لیے ایک مثال قائم ہو۔ اس ضمن میں چند مثالیں:
٭ امریکہ میں کیپیٹل ہل پر 6 جنوری 2021 کو حملہ ہوا تو ملوث افراد کے خلاف نہایت سخت کارروائی کی گئی۔ سیکڑوں گرفتاریاں ہوئیں، طویل قید کی سزائیں سنائی گئیں اور بعض کو دہشت گردی کے مقدمات میں سزائیں دی گئیں۔
٭ فرانس میں اگر کوئی شخص ریاستی ادارے یا پولیس پر حملہ کرتا ہے تو فوری طور پر نہ صرف گرفتار کیا جاتا ہے بلکہ عدالت سخت سزائیں سناتی ہے، جن میں مالی جرمانے، قید اور بعض اوقات تاحیات نااہلی جیسے فیصلے شامل ہوتے ہیں۔
٭ برطانیہ میں 2024 میں ہوئے ہنگاموں اور ان میں ملوث ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا بلکہ ان کے خلاف 10 سے پندرہ دنوں میں عدالتی فیصلے سنا کر انہیں نشان عبرت بنا دیا گیا۔
٭ چین میں ریاستی املاک یا سکیورٹی اداروں پر حملہ انتہائی سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے اور ملوث افراد کو سنگین سزائیں، حتیٰ کہ سزائے موت بھی دی جاتی ہے۔
ان معاشروں میں ریاست کی رٹ کا تصور نہایت واضح اور مستحکم ہے، اور کوئی بھی شہری قانون کو چیلنج کرنے کی ہمت نہیں کرتا۔ اسی وجہ سے وہاں امن و امان کا نظام مؤثر اور مضبوط ہے۔سرکاری املاک کسی بھی ریاست کا قومی اثاثہ ہوتی ہیں، جنہیں عوام کے ٹیکس سے تعمیر کیا جاتا ہے۔ ان پر حملہ صرف عمارتوں کا نقصان نہیں بلکہ ریاست کی خودمختاری پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں ایسے جرائم پر سزائیں سخت ہوتی ہیں۔ کیونکہ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا درحقیقت ملکی معیشت کو نقصان پہنچانا ہے۔ عوامی اعتماد کو مجروح اور ریاستی اداروں کی ساکھ کو متاثر کرنا ہے۔اسی وجہ سے پاکستان میں 9 مئی کے واقعات میں ملوث جن شرپسند عناصر کو عدالتی فیصلوں میں سزا دی گئی ہے، وہ نہایت قابلِ تحسین اقدام ہے۔ ان فیصلوں سے پوری دنیا میں یہ پیغام گیا ہے کہ ملک دشمن عناصر، چاہے وہ اندرونی ہوں یا بیرونی، ریاست کے نظم و ضبط کو چیلنج نہیں کر سکتے اور جو کوشش کرے گا اس کا انجام جیل کی سلاخیں ہو گا۔
یاد رہے کہ کسی بھی ریاست کی بقا اور سلامتی کے لیے ضروری ہے کہ اس کی رٹ قائم ہو۔ جب حکومت اپنی رٹ کھو دیتی ہے تو انتشار، بدامنی اور انارکی پھیلتی ہے۔ 9 مئی کے واقعات کے بعد ریاست نے جس انداز میں کارروائی کی اور عدلیہ نے جس تیزی اور انصاف پسندی سے فیصلے سنائے، وہ اس امر کا اظہار ہے کہ حکومت کسی صورت بلیک میلنگ، دہشت گردی، یا جتھہ گردی کو قبول نہیں کرے گی۔عدالتی فیصلے صرف سزا دینے کے لیے نہیں ہوتے بلکہ وہ ایک نظریہ، ایک معیار اور ایک پیغام ہوتے ہیں۔ ان فیصلوں نے یہ واضح کر دیا کہ سیاسی اختلاف کا مطلب قومی اداروں کی توہین نہیں۔ آزادی اظہار کا مطلب بلوہ اور بدامنی نہیں اور جمہوریت کا مطلب ریاستی قوانین سے انکار نہیں۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں، جہاں سیاسی کشمکش بعض اوقات قومی یکجہتی کو متاثر کرتی ہے، وہاں ایسے فیصلے ناگزیر تھے تاکہ آئندہ کوئی فرد یا گروہ ریاستی اداروں کو کمزور کرنے کی جرأت نہ کرے۔ یقینا 9 مئی کے واقعات پر عدالتی فیصلے ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے انصاف، قانون اور ریاستی اداروں کے تحفظ کا بول بالا کیا ہے۔ یہ فیصلے صرف سزا نہیں، سبق بھی ہیں ان تمام عناصر کے لیے جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ قانون کو چیلنج کر سکتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ایک مستحکم، مہذب اور ترقی یافتہ ملک بنے، تو ہمیں ان فیصلوں کی قدر کرنا ہو گی۔ ملزمان، گروہ یا جتھے چاہے جتنے بھی طاقتور کیوں نا ہوں، ملکی قوانین کی بالادستی اور عدلیہ کے فیصلوں کے بلا رو رعایت نفاذ کو ہر حال میں مقدم رکھنا ہو گا۔

مزیدخبریں