اے آئی چیٹ بوٹس انسانی ہمدردی کی نقل میں حد سے زیادہ فعال:تحقیق

06:21 PM, 1 Apr, 2026

کیلیفورنیا: مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹس بظاہر کئی شعبوں میں مفید ثابت ہو رہے ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ذاتی معاملات یا رشتوں کے بارے میں مشورہ لینے کے لیے ان پر بھروسا کرنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ایک حالیہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس اب عام لوگوں کے لیے آسانی سے دستیاب ہیں اور وہ انسانی جذبات کی نقل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق یہ چیٹ بوٹس اکثر صارفین کی باتوں سے جلدی اتفاق کر لیتے ہیں، جس کے باعث وقت گزرنے کے ساتھ مسائل جنم لے سکتے ہیں۔

اس مطالعے میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ جب لوگ ذاتی اختلافات یا کسی معاملے میں رہنمائی چاہتے ہیں تو مصنوعی ذہانت کے نظام کس طرح ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔

تحقیق کے نتائج سے پتا چلا کہ یہ نظام اکثر حالات یا پس منظر کو مدنظر رکھنے کے بجائے صارف کے رویے کے مطابق جواب دیتے ہیں۔

مطالعے کے دوران 11 مختلف مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کا جائزہ لیا گیا، جس سے معلوم ہوا کہ یہ نظام انسانوں کے مقابلے میں تقریباً 49 فیصد زیادہ صارفین کے مؤقف یا اقدامات کی حمایت کرتے ہیں، چاہے سوالات دھوکہ دہی، غیر قانونی سرگرمیوں یا ممکنہ نقصان سے متعلق ہی کیوں نہ ہوں۔

ماہرین کے مطابق جب لوگ کسی تنازع یا مشکل صورتحال میں مصنوعی ذہانت سے مشورہ لیتے ہیں تو چیٹ بوٹس اکثر صارف کے جذبات یا مؤقف سے ہمدردی ظاہر کرتے ہوئے انہیں درست سمجھنے کا تاثر دیتے ہیں، جو بعض اوقات مسائل کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چیٹ بوٹس براہ راست صارف کو درست قرار نہیں دیتے، مگر نرم اور ہمدردانہ انداز بعض اوقات خطرناک طرزِ عمل کی حوصلہ افزائی کا سبب بن سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق بہت سے افراد مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس سے جذباتی طور پر وابستہ ہو جاتے ہیں اور انہیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کا طرزِ عمل درست ہے۔
 
 
 

مزیدخبریں