مذاکرات کی میز یا جنگ کا میدان: حتمی فیصلہ کہاں ہو گا؟

09:06 AM, 1 Apr, 2026

ایران، امریکہ اسرائیل جنگ آگے بڑھتی چلی جا رہی ہے، اس کی ہولناکی ہر آنے والے دن میں اور بھی واضح ہوتی چلی جا رہی ہے۔ جنگ کا دائرہ کار پھیل رہا ہے۔ ایران نے یہ جنگ شروع نہیں کی۔ یہ جنگ اسرائیل کی شروع کردہ ہے لیکن اس نے بڑی مہارت کے ساتھ اس جنگ کو ایران امریکہ جنگ بنا دیا ہے۔ یہ اسرائیل کی کامیابی ہے۔ ریاست اسرائیل کا قیام برطانیہ عظمیٰ کی مہربانی، سفارتی حمایت اور عملی معاونت کے باعث ممکن ہوا تھا۔ اس کے بعد اس کی بڑھوتی و حفاظت کی ذمہ داری امریکہ بہادر نے لے لی تھی اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ یہ جنگ ایران نے شروع نہیں کی لیکن اسے پھیلانے میں اس نے مہارت دکھائی ہے۔ ایران نے جس طرح مزاحمت و مقاومت شروع کی اور جاری رکھی وہ حیران کن بھی ہے اور مثالی بھی۔ ایران ایک عرصے سے عالمی اقتصادی پابندیوں کا شکار ہے، اس کی معیشت ہی نہیں سیاست بھی مضمحل ہو چکی ہے۔ پابندیوں نے اس کے کس بل نکال دیئے ہیں۔ اس کے باوجود وہ دو ایٹمی طاقتوں کی جنگی مشینری کے سامنے جس طرح ثابت قدمی کے ساتھ کھڑا ہے، وہ مثالی ہے۔ دنیا یہ جنگ رکوانے کی سرتوڑ کوشش کر رہی ہے۔ امریکہ میں رائے عامہ پر اثرانداز ہونے والے ادارے، شخصیات ٹرمپ کی جنگی جنونیت کے خلاف برسر پیکار ہیں۔ عوام مظاہرے بھی کر رہے ہیں۔ اسرائیل میں بھی نیتن یاہو کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔ عالمی سطح پر بھی امریکی صدر کی جنگی حکمت عملی کی پذیرائی نہیں ہے۔ اس حوالے سے پاکستان صف اول میں نظر آرہا ہے۔ عرب ممالک کے حکمران ہوں یا اقوام مغرب کے ذمہ داران سب پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ جنگ بندی کے لئے کچھ کیا جائے گا۔ امریکی صدر پاکستان کے وزیراعظم کا ٹویٹ، ری ٹویٹ کرتا ہے۔ ایرانی صدر پاکستان کے بارے میں پیغام اردو زبان میں جاری کر کے پاکستان کی حکومت اور عوام کے ساتھ محبت و تشکر کا اظہار کرتا ہے۔ پاکستان کی سفارتکاری عروج پر ہے۔ ترکی، مصر اور سعودی عرب کے وزراءخارجہ کی اسلام آباد میں موجودگی اور جنگ رکوانے کی کاوشیں ، پاکستان کے قد کاٹھ میں اضافہ کر رہی ہیں۔ یہ سب کچھ درست اور قابل ستائش ہے۔ ہمارے وزیرخارجہ اسحاق ڈار امن پروگرام کے سلسلے میں چین روانہ ہو چکے ہیں۔ پاکستان اس جنگ میں بھی فرنٹ لائن سٹیٹ بن چکا ہے لیکن اس بار جنگ رکوانے کے لئے اقوام عالم امن کی پرچارک ہیں۔ سارے ملک اس جنگ کے منفی اثرات کا شکار ہیں۔ تیل کی عالمی مارکیٹ میں گرماگرمی ہے۔ ایوی ایشن انڈسٹری میں بھی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ عالمی سٹاک مارکیٹیں گڑ بڑا چکی ہیں۔ سونے کی قیمت میں عدم استحکام پیدا ہو گیا ہے۔ رئیل سٹیٹ کی مارکیٹ سرد بازاری کا شکار نظر آرہی ہے۔ عالمی معاشیات شدید دباﺅ کا شکار ہے۔ امریکہ و اسرائیل کی جنگ جویانہ پالیسیوں کے باعث خطہ عدم تحفظ کا شکار ہو چکا ہے۔ اسرائیل کے قیام کے روز اول سے ہی خطے میں کشیدگی کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ اسرائیل اپنے جغرافیہ کو گریٹر اسرائیل کے نقشے کے مطابق وسعت د ے رہا ہے۔ اسرائیل دنیا کا واحد ملک ہے جس کا مستقل جغرافیہ ہی نہیں ہے۔ وہ 1948ءمیں اپنے قیام سے لے کر اب تک پھیل رہا ہے اور اسے اپنے اعمال کے لئے امریکہ کی مکمل سرپرستی حاصل ہے، اس سے پہلے برطانیہ عظمیٰ اس کی سرپرستی کرتا رہا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل کو کسی ملک کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ایران نے اسرائیل کے ناقابل تسخیر ہونے کے تاثر کا خاتمہ کر دیا ہے۔ اسرائیلی تباہی کا مزا چکھ رہے ہیں، ان کے شب و روز بنکروں میں گزر رہے ہیں۔ ایرانی ڈروزنز اور میزائلز اسرائیلیوں پر قیامت بن کر برس رہے ہیں۔ آئرن ڈوم کا پتہ نہیں کہاں کھو گیا ہے۔ خلیج میں آتش و آہن کا کھیل جاری ہے۔ مشرق وسطیٰ میں تمام تیرہ امریکی اڈے غیرفعال ہو چکے۔ امریکہ فوجی اور امریکی شہری جہاں جہاں بھی ہیں، ایران کی طرف سے حملوں کے باعث خطرات کا شکار ہیں۔ ایرانی میزائلوں کی درست ٹارگٹ کو ہٹ کرنے کی صلاحیت حیران کن حد تک بڑھ چکی ہے۔ 
فریقین اب ایک دوسرے کے بجلی گھروں اور پانی صاف کرنے کے پلانٹوں کو برباد کرنے کا اعلان کر رہے ہیں۔ تیل کے کنویں پہلے بھی نشانے پر آچکے ہیں۔ امریکہ زمینی جنگ لڑنے کی تیاری کر چکا ہے۔ اس کے میرینز مختلف مقامات سے ، مطلوبہ میدان جنگ کی طرف منتقل کئے جا رہے ہیں۔ امریکہ بڑے خطرناک اور خوفناک بمبار جہاز ایران کے قریب مقامات پر لا رہا ہے۔ جنگ خطرناک مراحل میں داخل ہو رہی ہے۔ ہم جنگ بندی کے لئے کی جانے والی سفارتی کاوشوں کو بھی دیکھ رہے ہیں۔ فریقین اپنی اپنی شرائط پاکستان کے حوالے کرتے ہیں۔ پاکستان فریقین تک پہنچاتے ہیں جو اپنا اپنا جواب پاکستان کو دیتے ہیں، اس طرح بالواسطہ مذاکرات ہو رہے ہیں۔ فریقین جنگی تیاریاں کر رہے ہیں۔ ایک دوسرے کو للکار بھی رہے ہیں۔ بمباری، میزائل باری اور ڈرون باری بھی جاری ہے۔ بالوسطہ مذاکرات بھی ہو رہے ہیں۔ تباہی و بربادی اور امن براری، دونوں ساتھ ساتھ جاری ہیں، ابھی دونوں نتیجہ خیز نہیں ہیں۔ امن مذاکرات کامیاب ہوتے نظر آرہے ہیں اور نہ ہی جنگ فیصلہ کن ہو رہی ہے۔
تاریخ کے مطابق مذاکرات کے فیصلے میدان جنگ میں ہوتے ہیں۔ امن کا فیصلہ جنگ کے ذریعے ہی ہوتا ہے۔ جب میدان جنگ میں کسی بھی ایک فریق کی فتح اور دوسرے کی شکست کا فیصلہ ہو جاتا ہے تو پھر فیصلہ، مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر لکھا جاتا ہے، یہی تاریخ ہے۔ پاکستان میں مذاکرات کی سٹیج سجی ہوئی ہے۔ فریقین بالواسطہ امن کے لئے کوشاں نظر آرہے ہیں۔ ایک دوسرے کو شرائط پیش کی جا رہی ہیں۔ ضامن کے طور پر چین کو بیچ میں لانے کے لئے اسحاق ڈار چین روانہ ہو چکے ہیں۔ گزشتہ روز صدر پاکستان آصف علی زرداری کا اچانک بغیر اطلاع کے چینی سفارتخانے چلے جانا اسی سلسلے کی کڑی نظر آرہی ہے۔ امن کی باتیں جاری ہیں، جاری رہیں گی۔ اصل فیصلہ میدان جنگ میں ہونے جا رہا ہے۔ فریقین جنگ کی شدت بڑھاتے چلے جا رہے ہیں۔ ایک دوسرے کے سویلین ٹھکانوں کو بھی نشانے پر لیا جا رہا ہے۔ سردست ایران کا پلڑہ بھاری نظر آرہا ہے۔ ایران نے عالمی معیشت کے ایک پوائنٹ، آبنائے ہرمز کو ایسے دبوچ رکھا ہے جیسے کسی کی گردن پر پاﺅں رکھ دیا گیا ہو۔ ایرانی میزائل و ڈرونز نے امریکی و اسرائیلی ٹھکانوں کو نشانے پر رکھا ہوا ہے۔ امریکی اور اسرائیلی طیارے و میزائل ایرانی اہداف پر مسلسل تباہی نازل کر رہے ہیں۔ امریکی عظمت خاک میں ملتی نظر آ رہی ہے۔ تاریخ بن رہی ہے۔ تاریخ بدل رہی ہے۔ میدان جنگ میں تاریخ لکھی جا رہی ہے، اس کا حتمی باب، مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر لکھا جائے گا لیکن جب ایک فریق مکمل فاتح اور دوسرے کو شکست ہو چکی ہو گی۔ میدان جنگ کا حتمی فیصلہ ہی مذاکرات کی میز پر لکھا جائے گا۔ ابھی تھوڑا انتظار کرنا ہو گا۔

مزیدخبریں