مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے، جہاںامریکہ و اسرائیل کی نہ رکنے والی جارحیت اور ایران کی حالیہ جوابی کارروائیوں نے خطے کو ایک وسیع اور غیر یقینی جنگ کی دہلیز پر لا کھڑا کیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع ہونے والی عسکری مہم اب محض محدود جھڑپوں تک محدود نہیں رہی بلکہ ایک ایسی کشمکش میں تبدیل ہو چکی ہے جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور سفارتی تعلقات پر گہرے انداز میں مرتب ہو رہے ہیں۔
ایران نے جس شدت اور حکمت عملی کے ساتھ جواب دیا ہے، اس نے نہ صرف مخالف قوتوں کے اندازوں کو غلط ثابت کیا بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایران کے غیر معمولی عزم ، مستقل مزاجی اورمیزائل و ڈرون کی مہلک صلاحیت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ محض دفاعی پوزیشن میں نہیں بلکہ جارحانہ ردعمل دینے کی بھرپور اہلیت رکھتا ہے۔ اس جوابی لہر نے نہ صرف اسرائیلی دفاعی نظام کو ادھیڑ کر رکھ دیا ہے بلکہ امریکہ بہادر کو بھی اپنی حکمت عملی پر نظرثانی پر مجبور کیا ہے۔
ایران کی 87ویں جوابی لہر نے اس جنگ کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے، جہاں طاقت کا توازن، سفارتی حکمت عملی اور عالمی مفادات ایک پیچیدہ جال کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ سیز فائر کے امکانات موجود ضرور ہیں، مگر ان کے لیے سنجیدہ اور مخلصانہ سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے۔
حقیقت حال تو یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی عسکری برتری کے باوجود یہ جنگ اب ایک پیچیدہ دلدل میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ بیانات اور پالیسی اشارے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ واشنگٹن اس تنازع کو مکمل جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنا چاہتا ہے، مگر بیک وقت اپنی ساکھ اور اتحادیوں کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا چاہتا ہے۔ یہی تضاد امریکی پالیسی کو غیر واضح اور بعض اوقات متضاد بنا رہا ہے۔
موجودہ صورتحال میں دونوں جانب سے حملے اور جوابی حملے جاری ہیں، مگر یہ مکمل روایتی جنگ کی شکل اختیار نہیں کر سکے۔ ایران پراکسی گروپس کے ذریعے خطے میں دباو¿ بڑھا رہا ہے جبکہ اسرائیل محدود مگر ہدفی کارروائیاں کر رہا ہے۔ امریکہ کی براہِ راست شمولیت تاحال محدود ہے، تاہم اس کی عسکری موجودگی اور لاجسٹک سپورٹ اس جنگ کا ایک اہم عنصر بنی ہوئی ہے۔
اس جنگ کا سب سے خطرناک پہلو اس کا غیر متوازن اور غیر روایتی ہونا ہے، جہاں کوئی واضح محاذ یا جنگی لکیر موجود نہیں۔ یہ ایک ”شیڈو وار“ ہے، جس میں سائبر حملے، خفیہ آپریشنز، اور پراکسی جنگیں مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں۔ سیز فائر کے امکانات فی الحال کمزور مگر مکمل طور پر معدوم نہیں ہوئے۔
عالمی طاقتیں، خصوصاً یورپی ممالک، اس جنگ کو روکنے کے لیے سرگرم ہیں۔حالیہ دنوں میں پاکستان سمیت خطے کے اہم ممالک جن میں ترکی ، مصر اور سعودی عرب سرفہرست ہیں ایران اور امریکہ و اسرائیل اتحاد کے درمیان جنگ رکوانے کے لیے خاصے سرگرم نظر آتے ہیں تاہم تاحال دونوں متحارب قوتوں کے درمیان براہ راست مذاکرات کا انعقاد ممکن نہیں ہوسکا۔چونکہ اصل فیصلہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان ہی ہونا ہے۔اسلئے امریکہ صدر کی طرف سے اعلان شدہ ڈیڈ لائن اور اس کے سے قبل ان کے تہران کی جانب سے مطالبات پورا نہ ہونے کی صورت میں ایران میں فوجیں اتارنے کی واضح دھمکی کے باوجود تہران مرعوب نظر نہیں آتا ،ایران اس وقت ایک مضبوط پوزیشن میں خود کو دیکھ رہا ہے اور وہ کسی بھی کمزور معاہدے پر آمادہ نہیں۔ دوسری طرف امریکہ بھی فوری پسپائی اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں۔
یہ صورتحال ایک ”سٹرٹیجک سٹیل میٹ“ کی طرف اشارہ کرتی ہے، جہاں دونوں فریق جنگ کو بڑھانا نہیں چاہتے مگر پیچھے ہٹنے کو بھی تیار نہیں۔ ایسے میں سیز فائر کے لیے کسی تیسرے فریق کی مو¿ثر ثالثی ناگزیر ہو جاتی ہے۔
متعدد ممالک، خصوصاً خلیجی ریاستیں اور یورپی طاقتیں، اس تنازع میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ قطر، عمان اور ترکی جیسے ممالک پس پردہ سفارتی رابطے بحال رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان ممالک کی کوشش ہے کہ کسی نہ کسی طرح ایک عبوری سیز فائر حاصل کیا جائے تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔تاہم مسئلہ یہ ہے کہ دونوں مرکزی فریق ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرتے، اور یہی عدم اعتماد کسی بھی معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
پاکستان نے اس پورے بحران میں محتاط مگر فعال سفارت کاری کا مظاہرہ کیا ہے۔ پاکستان نے نہ صرف کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے بلکہ پس پردہ سفارتی کوششوں میں بھی حصہ لیا ہے۔ اسلام آباد اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی بڑی جنگ کے اثرات براہِ راست پاکستان کی معیشت اور داخلی سلامتی پر پڑ سکتے ہیں۔
پاکستان کے لیے ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ وہ ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو بھی برقرار رکھنا چاہتا ہے جبکہ امریکہ کے ساتھ بھی توازن قائم رکھنا اس کی مجبوری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کھل کر کسی ایک فریق کی حمایت کرنے کے بجائے ایک متوازن اور ثالثی پر مبنی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔
بھارت اس صورتحال کو ایک موقع کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ بھارت کی کوشش ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ اپنے دفاعی اور اسٹریٹیجک تعلقات کو مزید مضبوط کرے اور خود کو ایک ذمہ دار علاقائی طاقت کے طور پر پیش کرے۔ بھارت یہ بھی چاہتا ہے کہ عالمی توجہ مشرقِ وسطیٰ کی طرف مبذول رہے تاکہ وہ خطے میں اپنی پالیسیوں، خصوصاً کشمیر کے حوالے سے، کم دباو¿ کا سامنا کرے۔ مزید برآں، بھارت توانائی کے متبادل ذرائع تلاش کرنے اور خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران سے خود کو محفوظ رکھ سکے۔
اگر یہ جنگ مزید طول پکڑتی ہے تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گی۔ ایسے میں پاکستان جیسے ممالک کے لیے دانشمندانہ اور متوازن پالیسی اختیار کرنا ہی واحد راستہ ہے، جبکہ عالمی طاقتوں کو بھی اپنے مفادات سے بالاتر ہو کر امن کو ترجیح دینا ہوگی۔
ایران کی 87ویں جوابی لہر اور جنگ کا بدلتا منظرنامہ
09:02 AM, 1 Apr, 2026