اسلام آباد :پاکستان کے خود مختار عدالتی نظام کے خلاف حالیہ بین الاقوامی پروپیگنڈے اور سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے لیے بڑھتے ہوئے غیر ملکی دباؤ پر پاکستان کے قانونی ماہرین اور تجزیہ کاروں کی جانب سے سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔ اس حوالے سے دوٹوک موقف اپنایا گیا ہے کہ پاکستان ایک آزاد ریاست ہے جہاں فیصلے قانون کی بنیاد پر عدالتیں کرتی ہیں، نہ کہ غیر ملکی لابیئسٹ یا اخباری کالم۔برطانوی جریدے 'دی انڈیپنڈنٹ' میں انسانی حقوق کے وکیل ایرک لیوس کے حالیہ مضمون نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ تاہم، قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایرک لیوس کے دلائل قانونی حقائق کے بجائے محض ’سیاسی وکالت‘ پر مبنی ہیں۔ عمران خان کی حراست ’من مانی‘ نہیں بلکہ وہ پاکستانی قانون کے تحت مختلف مقدمات میں سزا یافتہ قیدی ہیں۔ عالمی سطح پر اسے ’سیاسی مظلومیت‘ بنا کر پیش کرنا پاکستان کے عدالتی ریکارڈ کو مسخ کرنے کی ایک شعوری کوشش ہے۔
رپورٹ میں اس بیانیے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا ہے کہ پاکستان کا استحکام کسی ایک شخصیت سے وابستہ ہے۔پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ ریاست اداروں سے چلتی ہے۔ حالیہ عرصے میں امریکہ اور ایران کے درمیان بیک چینل سفارت کاری اور علاقائی امن میں اسلام آباد کا کلیدی کردار اس بات کا ثبوت ہے کہ ملکی پالیسیاں افراد کے گرد نہیں گھومتیں۔
ماضی میں کوالالمپور سمٹ اور او آئی سی کے معاملات پر پیدا ہونے والے سفارتی تناؤ نے ثابت کیا تھا کہ انفرادی فیصلے ریاست کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں، جنہیں بعد ازاں اداروں نے حکمتِ عملی سے درست کیا۔
تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ یہ پروپیگنڈا کہ "کسی فرد کے خلاف قانونی کارروائی ملک میں عدم استحکام لائے گی"، دراصل ایک ’پریشر ٹیکٹک‘ ہے۔ پاکستان کے نظامِ عدل کو حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی مداخلت کے بغیر فیصلے کرے۔کسی فرد کی قانونی تقدیر کو ریاست کی بقا کا مسئلہ بنانا ایک ایسا عمل ہے جو جمہوری اقدار اور قانون کی بالادستی کو نقصان پہنچاتا ہے۔
پاکستان کی جانب سے عالمی برادری اور لابیئسٹس کو واضح پیغام دے دیا گیا ہے کہ خود مختار ریاستوں کے عدالتی فیصلے اخبارات کے ’اوپ ایڈز‘ (Op-eds) یا لابیئنگ کے ذریعے تبدیل نہیں کیے جا سکتے۔ انصاف کا ترازو صرف اور صرف عدالتوں میں موجود شواہد اور ملکی قانون کی بنیاد پر ہی جھکے گا۔
بیرونی لابیئنگ بمقابلہ قانون کی حکمرانی , پاکستانی عدالتوں پر اثر انداز ہونے کی کوششیں مسترد
12:50 PM, 1 Apr, 2026