burnt alive,Bangladesh,Holy Quran,mosque,imam accused,blasphemy
سورس:   https://pxhere.com/en/photo/1091440
31 اکتوبر 2020 (21:30) 2020-10-31

ڈھاکہ :قرآن پاک کی توہین کرنے کا الزام لگاتے ہوئے بنگلہ دیش کی عوام نے ایک شخص کو زند ہ جلا دیا۔ یہ شخص مقامی کالج میں لائبریرین تھا اور یہ مسجد میں اس اطلاع کی تصدیق کرنے آیا تھا کہ کیا یہاں پر دہشت گردوں نے اسلحہ تو نہیں چھپا رکھا۔ جب اس نے اس الماری کی تلاشی لینے کی کوشش کی جس میں قرآن پاک اور دیگر مقدس اوراق تھے تو امام مسجد نے ان پر توہین مذہب کا الزام لگا دیا۔

تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش کے ضلع لال منیر ہٹ کی ایک مسجد میں دو لوگ دہشت گردوں کی طرف سے چھپائے جانے والے اسلحہ کی تلاش میں مسجد میں داخل ہوئے ۔ ان کے خیال میں اس مسجد میں دہشت گردوں کا آنا جانا ہے اور انہوں نے یہاں پر اسلحہ چھپایا ہوا ہے۔ اس دوران ان افراد کی امام مسجد کیساتھ تلخی بھی ہوئی۔ جب ان افراد نے تلاشی لیتے ہوئے ا لماری کو کھولا جس میں قرآن پاک اور دیگر مقدس اوراق تھے تو امام مسجد نے شور مچا دیا کہ انہوں نے قرآن پاک کی بے حرمتی کی ہے۔

امام مسجد کے شور مچانے پر گائوں کے لوگوں نے ان افراد کو پکڑ کر ایک کمرے میں بند کر دیا ۔ اس دوران گائوں کے درجنوں افراد اکٹھے ہو چکے تھے جنہوں نے اس شخص کو کمرے میں سے نکالا اور مارتے ہوئے قریبی میدان میں لے جا کر زندہ جلا دیا۔ پولیس جب وقوعہ پر پہنچی تو اس شخص کی لاش جل کر خاک ہو چکی تھی۔ 

بنگلہ دیشی پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق اس سارے عمل کے دوران لوگ اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہوئے۔ اس واقعہ کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔ہلاک ہونے والے شخص کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ قریبی علاقے رنگ پور کے کالج میں لائبریرین تھا۔ 


ای پیپر