”میرے وطن تیری دنیا میں آئیں گے ایک دن“
31 اکتوبر 2019 2019-10-31

کشمیر کے ساتھ، پاکستانیوں کی محبت، صرف حضرت قائداعظم ؒ کے کہنے پر ہی نہیں ہے ، بلکہ ان سے محبت صرف اور صرف مسلمان ہونے کے ناطے ہے، شاہ رگ تو پون صدی سے بند ہے، تو کیا ہم سب اللہ تعالیٰ کے فضل سے زندہ وپائندہ نہیں ؟ مودی نے پانی توکب کا بند کررکھا ہے، دھمکی اب دی ہے ایک ایسا نکتہ جو ہم مسلمانوں کے دل میں آجائے، تو وہ کبھی نہ خوف محسوس کریں نہ کبھی غمگین ہوں، اور یہی اللہ تعالیٰ کے دوستوں کی نشانی ہے، اور اللہ تعالیٰ کا دوست وہ ہوتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کے رسول پاک کی شریعت مطاہرہ پہ عمل پیرا ہو، اور خلاف اسلام نہ کوئی کام کرے، اور نہ ہی پسند کرے ۔قارئین کرام، ایک ایسا نقطہ جو میرے ذہن میں اٹک کر رہ گیا ہے ، کہ خداتعالیٰ کا فرمان ہے، کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ تو کسی کے ساتھ زیادتی پسند نہیں فرماتا، اور یہ کہ اگر کوئی مثبت بات رونما ہو جائے، تو وہ من جانب اللہ ہوتی ہے اور اگر آپ کو، کوئی گزند پہنچے ، یا کوئی نقصان ہو جائے ، تو وہ انسان کی اپنی غلطی، کوتاہی اور گناہ کی وجہ سے ہوتا ہے۔

اگر کلمہ حق کی اجازت ہو، تو آزاد کشمیر پہ دوسری بار تاریخی زلزلہ، اور پھر اس کے بعد یکے بعد دیگرے آفٹر شاکس ہمارے کن گناہوں کی نشاندہی کرتے ہیں، اسی طرح دوسرے کشمیر کے حصے مقبوضہ کشمیر میں انسانوں کو جیتے جی زندہ درگور کردینا کیا یہ بھی منفی اعمال کا نتیجہ نظر نہیں آتا۔ پچھلی دفعہ جب زلزلہ آیا تھا، اور اس کی وجوہات کا پتہ چلانے کی کوشش کی گئی تھی، تو وہ زمینی حقائق اتنے چشم کشا ہونے کے باوجود ذمہ داران نے نہ جانے کیوں اپنی آنکھیں موند لیں۔

بقول مظفرعلی شاہ صاحب

عجیب گھاﺅ مجھے لگا ہے

سبھی رتوں میں ہرارہا ہے

کہیں سےآتی ہیں پھر صدائیں

گھرا ہے کوئی بلا رہا ہے

تمام موسم گراں ہے جاں پر

مزاج اتنا بگڑ گیا ہے

قارئین میں وجوہات ابتری کشمیر کا عبقری نسخہ آپ کو سناتا ہوں، اسے پڑھ کر شاید آپ کو کچھ سمجھ آجائے، کہ مسلمان اس کو نہیں کہتے کہ جس کا نام محمد نواز ہو، یا محمد جمیل، عمران احمد، فیصل یا فیاض ہو، مسلمان تو اس کو کہتے ہیں کہ جس کی نشست وبرخاست مسلمانوں جیسی، اور گفتار و کردار نمازیوں جیسا ہو۔ میں آپ کو ایک وقت کے سلطان جو کشمیر کاسلطان تو نہیں تھا، مگر حالات کشمیر اور آب وہوا کشمیر سے ملتی جلتی ضرور تھی، یعنی افغانستان، اچانک ذہن میں ایک اور بھی بات آگئی کہ ذرا آپ کو بھی سوچنے کی زحمت دوں کہ کیا وجہ ہے دیکھتے ہی دیکھتے، لبنان، افغانستان ،عراق ، شام، تیونس ، مراکش، مصر اور کسی حدتک پاکستان کیوں تباہ وبرباد ہوگیا کہ اس کے ہم عمر چین، سنگاپور اور دیگر ممالک تو اقتصادی اور معاشی طورپر تو بام عروج پہ پہنچ گئے، اور ہم ابھی تک پولیو کے ٹیکے لگوانے کی عمرتک پہنچے ہیں۔ برصغیر کے بارے میں مفکر پاکستان کی سوچ وفکر کتنی مناسب ہے۔ اقبال ؒ فرماتے ہیں کہ

ہند کے شاعر وصورت گروافسانہ نویس

آہ بے چاروں کے اعصاب پہ عورت ہے سوار

میں اشاروں، کنایوں میں تو آپ کو سمجھانے کی کوشش کررہا ہوں، کہ کشمیر کے سابقہ تباہ کن زلزلے کی وجوہات، اور عتاب الٰہی کی وجوہات کیا تھیں؟ اس لیے ابمیں بھی روایتی منافقت سے کام لیتے ہوئے، آپ کو ایک تاریخی واقعہ سناتا ہوں، تاکہ آپ کو بھی سمجھ آجائے اور میں بھی ان دو قوتوں کے عقل عیار سے بچ جاﺅں، جن کے بارے میں مشہور ہے، کہ تاریخ پاکستان میں عسکری اور سیاسی قیادت اس طرح سے ایک صفحے پہ ہیں، کہ بقول سید مظفر شاہ

کشید کرنا محال اس کو

وہ اس طرح سے ملا ہوا ہے

قارئین ، آپ یہ واقعہ سن لیں کہ ایک رات سلطان محمود غزنوی باوجود کوشش کے سو نہیں سکا، اس نے خیال کیا کہ ضرور کوئی مظلوم آہ وفریاد کررہا ہے اور اس کی یہ آہ وفغان مجھے سونے نہیں دے رہی، چنانچہ وہ بستر سے اٹھ کھڑا ہوا، اور محل سے بھی باہر نکل آیا، اور غزنی کے بازاروں میں گھومنا شروع کردیا، ایک مسجد کے اندر سے اس نے فریاد کی آواز سنی، مسجدمیں داخل ہوا، تو دیکھا کہ ایک شخص اللہ تعالیٰ کی جناب میں رو رو کے دعا کررہا تھا ،کہ خدایا مجھے اس ظالم کے پنجے سے محفوظ رکھ۔

سلطان محمود غزنوی نے آگے بڑھ کر اس آدمی کے کندھے پہ ہاتھ رکھا، اور کہا تیری فریاد میں نے بھی سن لی ہے، جس نے میری نیند حرام کردی ہے، مجھے بتا کہ وہ ظالم کون ہے، جس نے تجھے یہ دکھ دیا ہے، اس شخص نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا، کہ بادشاہ وقت اس کے پاس کھڑا تھا، اس نے اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا، جس نے خود سلطان کو اس کے پاس بھیج دیا تھا، ورنہ دربار تک تو اس کی رسائی ممکن ہی نہیں تھی۔

اس شخص نے بادشاہ سے شکایت کی کہ دربار کا ایک امیر میری بیوی کی عصمت دری کے درپے ہے، مجھے اس شخص کی دست برد سے بچایا جائے، جیسے مودی نے کشمیری عورتوں کی عصمت دری کی اجازت دی ہے ۔سلطان نے اسے اپنی انگوٹھی دی، اور کہا آئندہ جب وہ تیرے گھر آئے، تو سیدھا میرے گھر آجانا، دربان کو یہ انگوٹھی دکھانا، وہ فوراً اطلاع کردے گا۔ ایک رات وہ شخص سلطان کے پاس پہنچ گیا، دربان نے وہ انگوٹھی اندر پہنچائی تو بادشاہ فوراً شمشیر بدست باہر آگیا، اور اس شخص کے ساتھ اس کے گھر پہنچ گیا، وہ ظالم ایک کمرے میں سورہا تھا، سلطان نے کہا کہ اندر جاکر چراغ گل کردو ، اس کے بعد سلطان اندر گیا، اور ایک ہی وار میں اس کا سرتن سے جدا کردیا، پھر جب چراغ جلوایا ، تو فوراً الحمد للہ کہا۔ اور کھانا کھانے کی بھی فرمائش کردی، وہ شخص یہ سب کچھ دیکھ کر حیران رہ گیا تو بادشاہ بولا کہ مجھے خدشہ درپیش تھا کہ کہیں یہ میرا بیٹا نہ ہو، اور محبت پدری مجھے سزا دینے میں رکاوٹ نہ بن جائے اس لیے میں نے چراغ گل کرایا، اور کھانا اس لیے منگوایا کہ جب تم نے مجھ سے شکایت کی تھی، میں نے قسم کھائی تھی کہ جب تک اس ظالم کو سزا نہ دے دوں گا ، کھانے کو ہاتھ نہیں لگاﺅں گا۔

قارئین اب آپ کہیں یہ نہ سوچنا شروع کردینا کہ آپ تو کہہ رہے تھے ، کہ میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے ایک دن، اور قصہ شروع کردیا مرزا صاحباں کا تو حضور عرض یہ ہے کہ ایسی باتیں ، اشاروں کنایوں میں کی جاتی ہیں سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کی طرح نازیبا اشارہ کرکے اور آنکھیں مار کے نہیں کرسکتے آخر اخلاق و شرافت بھی کوئی چیز ہے، ورنہ میںزبان زدعام مراد سعید اور عائشہ گلا لئی کا ذکر نہ چھیڑ دیتا ۔

قارئین آپ کے مسیج کے لیے رابطہ نمبر بعد ظہر:0300-4383224


ای پیپر