عمران خان کی مشکلات
31 اکتوبر 2018 2018-10-31

افسروں کی تعیناتی اور تبادلوں کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان پر تنقید و تشنیع کے بہت تیر برسائے جا رہے ہیں مگر کوئی انہیں در پیش مشکلات کا احساس و ادراک نہیں رکھتا۔۔۔ جناب عمران کو وزیراعظم کی حیثیت سے حکومت چلانے کے لیے جن حالات کا سامنا ہے ان سے عہدہ برا ہونے کے لیے یہ سب کچھ نہ کریں تو کدھر جائیں۔۔۔ حکومت ان کی ایم کیو ایم اور بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کی چار یا دس نشستوں کی پارلیمانی حمایت کے بل بوتے پر قائم ہے۔۔۔ ہوا کا ایک جھونکا بہت کچھ تلپٹ کر کے رکھ سکتا ہے۔۔۔ اس پر مستزاد پاکستان کا کا نام نہاد جمہوری اور پارلیمانی کلچر ہے۔۔۔ جہاں خود آپ کی اپنی پارٹی کے اندر فاروڈ بلاک بنتے اور وفاداریاں بدلتے دیر نہیں لگی۔۔۔ 2018ء کی انتخابی مہم کے دوران تحریک انصاف کے چیئرمین نے ایسے عناصر کی حمایت پر بہت تکیہ کیا تھا۔۔۔ جن کی آبائی و روایتی سیاست کا دستور ہی ہوا کا رخ دیکھ کر یا غائبی اشارہ پا کر پرانی جماعت سے ترک تعلق کر کے نئی کی آغوش میں جا بیٹھنا ہے۔۔۔ انہیں پہلے لوٹے کہا جاتا تھا عمران خان انتخابی مہم کے دوران انہیں ’’الیکٹ ایبلز‘‘ کا لباس فاخرہ پنایا گیا۔۔۔ یوں میڈیا کے ذریعے قابل قبول بنانے کی کوشش کی ۔۔۔ اگرچہ عوام کی اکثریت نے ان کے جانے پہچانے چہروں کو حقارت کے ساتھ مسترد کر دیا اس کے باوجود کئی لوٹ آئے۔۔۔ جناب عمران کے لیے اپنی وزارت عظمیٰ کو دوام بخشنے کی خاطر اپنی پارٹی کے اندر اور باہر ایسے تمام اراکین پارلیمنٹ کی حمایت کو یقینی بنائے رکھنا از بس ضروری ہے خاص طور وفاق اور سب سے بڑے صوبہ پنجاب کے اندر ان کی حکومت شاخ نازک پر آشیانہ بنائے بیٹھی ہے۔۔۔ ان حالات میں بیورو کریسی یا انتظامیہ کے پولیس جملہ افسران اور ان کے ماتحتوں کو ان اراکین پارلیمنٹ و اسمبلی کی مرضیات اور خواہشات کا تابع بنا کر نہ رکھا جائے تو کیا کیا جائے۔۔۔ ناقدین میں سے کسی کے پاس اس کے علاوہ حکومت کرنے کا کوئی فارمولا ہے تو وہ تو جا کر عمران خان کو بتا دے۔۔۔ ضرور غور کریں گے۔۔۔ بصورت دیگر انہیں افسران سرکار کو حکم دینا پڑتا ہے عزت کے ساتھ نوکری کرنی ہے تو اپنے اپنے علاقے میں ہماری جماعت یا حکومت سے اتحادی اراکین اسمبلی کی ہر بات کے آگے سر تسلیم خم کرو۔۔۔ ان کی سفارشات پر من و عن عمل کرو۔۔۔ ان کی جانب سے کوئی شکایت آنے نہ پائے۔۔۔ برطرف کر دیئے جاؤ گے یا فوراً تبادلہ کر کے کھڈے لائن لگا دیا جائے گا۔۔۔ حکومت کی شروعات ہوئیں تو راجن پور اور چکوال کے ڈپٹی کمشنروں نے شکایت کی مقامی ایم این اے اور ایم پی اے ان پر من مرضی کے پٹواریوں وغیرہ کی تعیناتی اور دیگر ذاتی کاموں کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔۔۔ فوراً ان کی سخت سرزنش کی گئی۔۔۔ تبدیل کر دیے گئے۔۔۔ جناب وزیراعظم نے اعلیٰ افسروں کا اجلاس منعقد کر کے انہیں سر عام تنبیہ کی آئندہ انہیں ایسی کوئی شکایت سننے میں آئی تو سخت نوٹس لوں گا بلکہ اپنے خاص انداز میں کہا چھوڑوں گا نہیں۔۔۔ اس کے باوجود پنجاب کے آئی جی محمد طاہر نے سروسز رولز کے تحت حکم سرکار پر عمل کرنے سے پہلو تہی کی ۔۔۔ عتاب کا شکار ہوئے۔۔۔ ردّعمل میں عمران خان کے آئیڈیل پولیس افسر ناصر درانی نے جن کی مثالیں دیتے خان موصوف تھکتے نہیں تھے۔۔۔ مستعفی ہو کر گھر چلے گئے۔۔۔ الیکشن کمیشن نے مداخلت کی کیونکہ ضمنی انتخابات سر پر کھڑے تھے۔۔۔ ان حالات میں کسی افسر کا تبادلہ نہیں کیا جا سکتا تھا۔۔۔ محمد طاہر خان کو ضمنی انتخابات کا مرحلہ مکمل ہوتے ہی عہدہ چھوڑ دینے کا حکم دے دیا گیا۔۔۔ پولیس کے اندر خاصی سراسیمگی پھیلی۔۔۔ 

پرواہ نہ کی گئی۔۔۔ اب تازہ واردات آئی جی اسلام آباد کے ساتھ ہوئی ہے جسے ایک وفاقی وزیر کا فون نہ سننے کی پاداش میں تبادلے کا حکم سننا پڑا۔۔۔ سپریم کورت نے فوراً مداخلت کی ۔۔۔ وزیراعظم کے زبانی حکم پر مبنی نوٹیفکیشن معطل کر دیا گیا۔۔۔ وزیر اطلاعات فواد چودھری بول اٹھے۔۔۔ وزیراعظم آئی جی کو معطل نہیں کر سکتا تو حکومت کیسے چلائے گا۔۔۔ سپریم کورٹ نے اگلے روز یعنی گزشتہ کل وزیر موصوف کو طلب کر لیا۔۔۔ فواد چودھری کے لہجے میں معذرت خواہانہ نرمی آ گئی۔۔۔ وفاقی وزیر اعظم سواتی جن کی شکایت پر آئی جی کی معطلی عمل میں آئی۔۔۔ ان کی اور موصوف کے غریب ترین ہمسایہ خاندان کے درمیان تنازعے کی حقیقت جاننے کے لیے جے آئی ٹی بنا دی۔۔۔ سواتی صاحب کو مخاطب ہو کر کہا گیا آپ پر آئین کے آرٹیکل 61(F) نااہلی کا اطلاق کیوں نہ کیا جائے۔۔۔ بنیادی سوال یہ بھی ہے اگر اراکین پارلیمنٹ و اسمبلی کی خوشنودی کی خاطر وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کے اشارہ ابرو پر بیورو کریسی کی اتھل پتھل جاری رہی تو ملک کے انتظامی امور کس حشر سے دو چار ہوں گے۔۔۔ اصل سوال مگر پھر وہی ہے عمران خان یہ سب کچھ نہ کریں تو مانگی تانگی چند نشستوں پر کھڑی یا لڑکھڑاتی حکومت کیسے چلائیں۔

اگرچہ کچھ بالغ نظر مبصرین کا خیال ہے پاکستان کی حکومت کو گھر بھیجنا مقصود ہو تو دوتہائی اکثریت والی کو جاتے دیر نہیں لگتی۔۔۔ مقتدر قوتوں کی اشیر باد پارلیمانی حمایت سے بھی کہیں زیادہ ضروری بلکہ امر لازم کا درجہ رکھتی ہے۔۔۔ لیکن اس بیچ میں مشکل یہ ہے کہ پاکستانی حکومت کے سویلین چہرے کو پس پردہ طاقتوں کی کتنی پشت پناہی حاصل ہو اسے جمہوری آرائش و زیبائش کے بغیر پاکستانی عوام اور دنیا کے سامنے پیش نہیں کیا جاسکتا۔۔۔ جو پارلیمان کے اندر عددی اکثریت کے بغیر ممکن نہیں خواہ ایک ووٹ کی ہو۔۔۔اس کی خاطر اگلے روز وزیراعلیٰ پنجاب نے چند افسروں کے ساتھ انٹرویو کرنے کے بعد ان میں سے چنیدہ افراد کو بلا کر واضح کرنا پڑا ’’آپ کو ہمارے صوبائی اراکین اسمبلی کو خوش رکھنا ہو گا۔۔۔ یہ ہمارے لیے بہت ضروری ہے۔۔۔ ان کی طرف سے آپ کے خلاف کوئی شکایت نہیں آنی چاہئے۔۔۔ اس کے برخلاف مستند خبر کے مطابق حزب اختلاف کے اراکین اسمبلی کے بارے میں ہدایات مختلف تھیں ’’انہیں افسر بن کر دکھائیں‘‘۔۔۔اس تناظر میں ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کا معاملہ بیچ میں لانا شاید مناسب ہو۔۔۔ اس بیچارے کو رات ایک بجے جس جرمِ عظیم کی پاداش میں برطرف کیا گیا اس میں کسی رکن اسمبلی یا پارلیمنٹ کو ناراض کرنے کی بجائے بلکہ وزیراعظم کی نئی اہلیہ محترمہ کے سابقہ شوہر اور ان کے بچوں کی ٹریفک کے قواعد کی خلاف ورزی پر روک ٹوک کا مسئلہ تھا۔۔۔ اس پر اس وقت کے آئی جی نے سپریم کورٹ جا کر معافی بھی مانگ لی۔۔۔ ان کاتبادلہ بھی دوسرے صوبے میں ہو گیا۔۔۔ وزیراعلیٰ کو عدالت عظمیٰ کے حضور پیش ہو کر تنبیہ سننا پڑی۔۔۔ لیکن معاملہ چونکہ جناب وزیراعظم کے گھر اور امور اور رشتہ داری کا تھا لہٰذا اڑھائی ماہ گزر چکے ہیں رضوان گوندل جیسے پولیس افسر کی جس کی امانت داری اور فرض شناسی کی ہر کوئی گواہی دیتا ہے نئی تعیناتی نہیں ہوئی نہ اس عرصے کی تنخواہ انہیں ملی ہے۔۔۔ مگر پنجاب میں انتظامی امور عجب بے یقینی کی کیفیت کا شکار ہیں۔۔۔ دو روز پہلے تھوک کے حساب سے افسران کا تبادلہ کیا گیا۔۔۔ بعد میں کئی ایک کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا گیا۔۔۔ کون چلا رہا ہے پنجاب کی حکومت اس کے بارے میں بھی باخبر حلقوں کی اطلاعات عجیب افراتفری کا پتا دیتی ہیں۔۔۔ مغلوں کے دور زوال کے کسی دربار کا نقشہ پیش کرتی ہیں۔۔۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار انتظامی اور سیاسی دونوں لحاظ سے کمزور شخصیت سمجھے جاتے ہیں، گورنر چودھری سرور کئی معاملات پر حاوی ہیں۔۔۔ سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پروزی الٰہی کا رسوخ بھی کم درجے کا نہیں۔۔۔ سینئر وزیر علیم خان کا اپنا طنطنہ ہے۔۔۔ پرسوں وزیراعظم عمران خان اسی مقصد کی خاطر لاہور پہنچے۔۔۔ صوبائی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کی ۔۔۔ احکام دیئے۔۔۔ واپس چلے گئے۔۔۔ صوبے کی اصل حکمرانی مگر کس کے پاس ہے ابہام باقی ہے۔۔۔ عمران خان کو ان حالات میں واقعی چومکھی لڑنی پڑ رہی ہے۔۔۔ ایک جانب مقتدر قوتیں ہیں جن کے نازک آبگینے پر ٹھیس نہیں آنے دینی۔۔۔ ورنہ ایسے گھیرے میں آ جائیں گے کہ سر کھجانے کی فرصت نہ ملے گی۔۔۔ دوسری جانب اراکین پارلیمنٹ کی وفاداری پر چاہے پوری کی پوری انتظامیہ لتاڑ کر رکھ دی جائے آنچ نہیں آنے دینی اور تیسری طرف اعلیٰ عدالتوں کا روزانہ کے حساب سے سامنا ہے۔۔۔ چوتھی جانب پٹرول اور گیس کے نرخوں میں بے پناہ اضافے کی وجہ سے عام آدمی کیا متوسط طبقے کے لوگوں کو جس ناقابل برداشت مہنگائی کا سامنا ہے وہ ان کی بے چینی میں اضافہ کر رہا ہے۔۔۔ اسی کے پیش نظر مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کی قیادت نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے اگر حکومت اگلے چھ ماہ تک اسی طرح رہی تو اسے گرانے کی خاطر انہیں کوئی تدبیر نہیں اختیار کرنا پڑے گی۔۔۔ وزیراعظم اور ان کے حواری اقتدار کے تمام تر نشے کے باوجود یقیناًصورت حال کے ان پہلوؤں سے بے خبر نہ ہوں گے۔۔۔ زرداری صاحب نے ان حالات میں بھی حکومت کو مشترکہ قومی امور پر تعاون کی پیشکش کر دی ہے۔۔۔ لیکن کیا روزانہ کے حساب سے نت نئے طوفانوں کی زد میں آنے والی حکومتی کشتی کو سنبھالا دے پائیں گے اس کا آنے والے حالات میں اندازہ ہو جائے گا۔


ای پیپر