مسقط میں چار روز ۔۔۔(آخری قسط)
31 اکتوبر 2018 2018-10-31

جغرافیہ کی کتابوں میں پڑھایا جاتا ہے کہ پاکستان کے چار ہمسایہ ممالک ہیں۔ لیکن پاکستان کا ایک اور ہمسایہ بھی ہے۔ پانچواں ہمسایہ۔ یہ ہمسایہ عمان، گوادر سے صرف 202 ناٹیکل میل دور ہے۔ سلالہ سے گوادر تک صرف آدھے گھنٹے کی فلائٹ سے پہنچا جا سکتا ہے۔ سلالہ سے گوادر کیلئے فیری سروس کر دی جائے تو چند گھنٹے کے سمندری سفر کے ذریعے آنا جانا ممکن ہے۔ فیری سروس فی الحال ایک خواب ہے۔ جس کے تعبیر پانے کیلئے سفیر پاکستان علی جاوید کوشاں ہیں۔ سکیورٹی اور دیگرجزیات طے کر لی جائیں تو دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ دوستی کے مزید گہرے رشتوں میں بندھ جائینگے۔ عمان کی آبادی تقریباً48 لاکھ کے قریب ہے۔ جس کا گروتھ ریٹ تقریباًچارفیصدہے۔ پاکستان کیلئے عمان کی کیا اہمیت ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی کل آبادی میں تین لاکھ شہری پاکستانی نڑاد ہیں۔ عمان واحد ملک ہے جس کی باقاعدہ سینیٹ کے طرز پر مجلس دعوی اور ایوان زیریں کی طرز پر مجلس شوری موجودہے۔ جس کی فی کس آمدنی16,036 امریکی ڈالر ہے۔ اومانی کرنسی خطے ہی کی نہیں بلکہ دنیا کی چند مضبوط ترین کرنسیوں میں سے ایک ہے۔ پاؤنڈ،ڈالر،کو یتی دینا ر کے برابر۔ اومان جانے کیلئے حسب استطاعت چند عمانی ریال خریدنے کیلئے کرنسی ڈیلر کے پاس گئے تو پاکستانی تین سو چالیس روپیوں کے برابر ایک عمانی ریال ملتا ہے۔ یہ شرح تبادلہ عمان ریال کی مضبوطی کے ساتھ ساتھ ہماری کرنسی کی دن بدن بے توقیری کامنہ بولتا ثبوت ہے۔ عمان کی ٹوٹل فارن ٹریڈ تقریبا 28 بلین ڈالر ہے۔ جس میں پاکستان کا حصہ اوٹ کے منہ میں زیرے کے برابر کے مترادف ہے۔اتنا قریبی ہمسایہ ملک جس کے ساتھ صدیوں پرانے تہذیبی،تمدنی،تاریخی، دینی رشتے قائم ہیں۔ اس کے ساتھ تجارت کی شرح اتنی کم؟ یقینی طور پرہم سے کہیں نہ کہیں غلطی ہو رہی ہے۔ ہمہ وقت مستعد متحرک اور طویل سفارتی تجربے کے حامل علی جاوید سفیر پاکستان کا بس نہیں چلتا کہ وہ اس تجارت کو آسمان کی بلندیوں تک لے جائیں۔ لیکن یہ صرف سفیر کی سطح کا معاملہ نہیں بلکہ فیصلہ سازوں کو آگے بڑھنا ہو گا۔ اس حوالے سے با اثر پاکستانی تاجروں جو کہ مسقط میں کامیاب بزنس کر رہے ہیں کی خدما ت لی جا سکتی ہیں۔ تجارت کا ذکر چھوڑا تو فوری طور پر میاں ریاض کا ہنس مکھ اور ملنسار چہرہ نگاہوں کے سامنے گھوم گیا۔ میاں ریاض سے مسقط آمد کی پہلی شام ہی امیر حمزہ کے توسط سے ملاقات ہو گئی۔ میاں ریاض نے چالیس برس قبل امارات اور مسقط میں بزنس شروع کیا۔تعمیراتی میٹریل کے کاروبار میں ہیں۔ چالیس برس بعد وہ مسقط میں پاکستانی کمیونٹی کی ریڑھ کی ہڈ?ی ہیں۔ کاروبار ان کی اولین ترجیح ہے۔لیکن مہمان نوازی ان کا جنون۔ تواضع کا اتنا شوق ہے کہ مہمان کو راہ چلتے ڈحونڈ کر کھینچ کر کسی شاندار ریسٹورنٹ میں لے جا کر کھانا کھلانا فرض اولین سمجھتے ہیں۔ پکے لاہوری اور اللہ کے عاجز بندے ہیں۔ پاکستان کلب کے بانی صدر بھی ہی۔ ان کی کمپنی میں 200 سے زائد پاکستان و دیگر ممالک کے افراد کام 

کرتے ہیں۔میاں ریاض کئی کمپنیوں کے مالک ہیں۔ تین سو سے زائد اشیا ے کی تجارت کے کام میں ہاتھ ڈالا ہے۔ حال ہی میں مسقط کے اہم تجارتی منطقے میں ہوم مارٹ کا تجربہ کیا ہے۔ چھ منزلہ اس پلازہ میں گھر کی تعمیر، سجاوٹ ضرورت کے متعلق ہر چھوٹی سے لیکر بڑی آئٹم تک دستیا ب ہے۔ اللہ اس کاروبار میں ترقی دے۔ ایسے ہی چند پاکستانیوں پر مشتمل ایڈوائزری بورڈ تشکیل دیدیا جائے جو نہ صرف اومان بلکہ دیگر خلیجی ملکوں کے ساتھ تجارتی تعلقات میں مزید اضافہ کرسکتا ہے۔ پاکستان اور عمان کی باہمی تجارت 741.195 ملین امریکی ڈالر کی ہے۔ جس میں پاکستان ایکسپورٹس کا حجم 85.185 بلین امریکی ڈالر کے برابر ہے۔ پاکستان عمان کو جو مصنوعات ایکسپورٹ کر تا ہے ان میں چاول، حلال گوشت، فروٹس، بیڈ شیٹس وغیر ہ ہیں۔ ایکسپورٹ کا دامن انتہائی تنگ ہے۔ عمان عوام کی قوت مزید خرید کو سامنے رکھا جائے تو یہ حجم بہت کم ہے۔ فیصلہ ساز آؤٹ آف باکس حل تلاش کرنے کی جانب توجہ دی جائے تو درجنوں ایسی مصنوعات موجود ہیں جن کی بر آمد سے فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ بس صرف عمل کی دیر ہے۔ کشادہ دل، عمانی حکومت محض پہلا قدم اٹھانے کی منتظر ہے۔ اگر صرف ٹورازم کا شعبہ ہی لے لیا جائے تو اس میں امکانات کی ایک وسیع دنیا موجود ہے۔ سیاحت کے ذکر سے اس دورے کی ایک اور دریافت عزت مآب حاتم طائی یادآگئے۔ جو صرف نام کے ہی نہیں بلکہ عملی طور پر بھی حاتم طائی ثانی ہیں۔ اعلی حسب و نصب کے قبائلی سردار لیکن زمانہ جدید کے تقاضوں سے سے ہم آہنگ۔حاتم طائی الروبہ میڈیا گروپ کے چیف ایگزیکٹو کے طور پر بڑے میڈیا ٹائیکون ہیں۔ ایک اعلیٰ درجہ کے مفکر، مورخ ہیں۔ ایک ایسے تھنک ٹینک کے بانی اور روح رواں ہیں جس میں عصری تقاضوں کا ادراک رکھنے والے ریسرچ سکالر شامل ہیں۔ محترم حاتم طائی سے ایک گھنٹے طویل ملاقات نے ذہن کی کئی بند کھڑکیاں کھول دی۔ حاتم طائی ایک موبائل لائبریری کے روح رواں بھی ہیں۔عمانی نوجوان کو تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر سکھانے کے حامی ہیں۔ میڈیا کے ساتھ وابستہ ہونے کی بنا پر سمجھتے ہیں کہ اس کا سکوپ دن بدن سکڑ رہا ہے۔ لہٰذا ریڈیو اورسوشل میڈیا پر توجہ دے رہے ہیں۔ نوجوانوں کو سیاحت کے متعلق تربیت بھی فراہم کر رہے ہیں۔ عزت مآب سلطان قابوس کی عمان کونسل کے رکن ہیں۔ حکومت کے کسی فیصلہ ساز کو فرصت ملے تو پاکستان کی محبت میں سر شار اس حاتم وقت کو دعوت دے۔ نہ جانے کتنے بند دروازے کھل جائیں گے۔ کوئی دستک تو دے۔ چار روزہ قیام کے دوران ملاقاتوں کا سلسلہ تو بہت طویل ہے۔ ہر ملا قات ایک طویل داستان۔بولا گیا سنا گیا ہر لفظ اہم ہے۔ لیکن چند ملاقاتیں اہم ترین ہیں۔ شیخ عبداللہ سالمی وزیر اوقاف و مذہبی امور حاکم وقت کے قریب ترین مشیر ہیں۔ ان کے ساتھ ملاقات آف دی ریکارڈہے۔ عالم اسلام کو در پیش مسائل خطہ عرب کی صورتحال، عالمی سیاست کی بساط پر تبدیلیاں اس مدبر متحمل اعلیٰ عہدیدار کے ساتھ بیٹھ کر یوں لگا کہ تجزیے اور معلومات کا خزانہ ہے۔ بس اس میں سے ہمارا حصہ اتنا ہی ہے۔پاکستان کا کوئی تھنک کبھی زحمت کرے اور ان سے ملا قات کر لے۔ بہت سی پیچیدہ گتھیاں سلجھ جائینگی۔ اور پھر مفتی اعظم عمان سے ظہرانے پر ملاقت، سادہ اطوار،معمر مفتی اعظم شیخ احمد الخلیل حکمران کے بعد پروٹوکول کے لحاظ سے اہم ترین شخصیت ہیں۔ ان کا دیا ہوا فتوی حرف آخر ہے۔ مفتی صاحب اپنے ہاتھوں سے لحم مندی کھلاتے رہے۔ عالم اسلام کا دور ا ن کی آنکھوں اورچہرے سے عیاں ہوتا ہے۔ برطانیہ اور عمان کے درمیان ماضی کے انتہائی گہرے رشتے ہیں۔ کئی صدیوں پر مشتمل ان رشتوں کی انتہائی پیچیدہ تاریخ ہے۔ لیکن زندہ قومیں اس تاریخ کو یاد ہی نہیں رکھتی بلکہ محفوظ بھی رکھتی ہیں۔نیشنل ریکارڈاینڈآرکائیوز ادارے نے عمان کی تاریخ کا ایک ایک ورق اپنی نئی نسل تک پہنچانے کا عزم کیا ہوا۔ اس دوروزہ کانفرنس کے ذریعے دونوں ممالک کی تاریخ سے آگاہی حاصل ہوئی۔ سفر وسیلہ ظفر ہوتا ہے۔ کانفرنس میں شرکت کا موقع نہ ملتا تو کیسے معلوم ہوتا کہ بحرہ عرب کے کنارے بستی اس قوم نے اپنی آزادی کو کیسے محفوظ کیا۔عمان کے خواب پرست اہل صحافت ایشیائی صحافیوں کی تنظیم سازی کا خواب دل میں بسائے ہوئے ہیں۔ برادرم الجوہری اس خواب کی تعبیر کیلئے کوشاں ہیں۔ ا ن کے ساتھ مقدور بھر مدد اور معاونت کا وعدہ کر رکھا ہے۔اللہ اس وعدے پورا اترنے کی توفیق عطا فرمائے۔ 

پاکستان اور عمان کے درمیان خون کا رشتہ نہایت عجیب اور منفرد ہے۔ ہمارا معاشی مستقبل گوادر 28 ستمبر 1958 کو پاکستا ن کے حصہ میں آیا۔ اس ملک کی ایک تہائی آبادی کا تعلق نسلی طور پر پاک سر زمین سے ہے۔ کوئی ایسا فیصلہ ساز ہے۔جو ایسی ہی کسی کا نفرنس کا اہتمام گوادر، کوئٹہ، اسلام آباد میں کرے۔کوئی ہے۔


ای پیپر