لوکل باڈیز۔ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی 
31 اکتوبر 2018 2018-10-31

لوکل باڈیز یا مقامی حکومت کو حکمرانی کا تیسرا زینہ (3rd Tier)کہا جاتا ہے اس سلسلے میں پہلا درجہ وفاقی حکومت کا ہوتا ہے جو پارلیمیمنٹ کے ذریعے وجود میں آتی ہے دوسرا نمبر صوبائی حکومت کا ہے۔ دنیا بھر میں بہتر طرز حکمرانی کا تصور مقامی حکومت کی مضبوطی سے جڑا ہوا ہے کیونکہ اس کا تعلق براہ راست عوام کے ساتھ مربوط ہے۔ مقامی حکومت کو بائی پاس کر کے آپ سسٹم میں بہتری کا تصور نہیں کر سکتے مگر بدقسمتی سے ہمارے جمہوری ڈھانچے میں سیاسی پارٹیاں اور برسراقتدار منتخب حکومتیں ہمیشہ مقامی حکومت کو اس کا جائز مقام دینے میں ہچکچاہٹ کا شکار رہی ہیں یہ دلچسپ امر ہے کہ غیر منتخب حکومتوں کے دور میں لوکل باڈیز کو اہمیت دی جاتی ہے جس کی کئی ایک سیاسی وجوہات ہیں ۔

پاکستان تحریک انصاف نے اپنی سیاسی جدوجہد کے دوران ہمیشہ حکومتوں اور بلدیاتی اداروں کے مضبوط بنانے کی بات کی اب یہ پارٹی حکومت میں آ چکی ہے اور عوام اور سول سوسائٹی وزیر اعظم سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں کہ اقتدار کی نچلیسطح تک منتقلی اور لوکل باڈیز کو بااختیار بنانے کا وعدہ کب پورا ہو گا۔ 3 ستمبر کو ایک انگریزی روزنامہ ڈان میں یہ خبر چھپی کہ وزیر اعظم نے ایک خصوصی اجلاس میں جس میں کابینہ وزراء کے علاوہ تین صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور وفاقی سیکرٹری بھی موجود تھے اس موقع پر ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی جسے نئے لوکل باڈی سٹرکچر وضع کرنے کا ٹاسک دیا گیا اور کہا گیا کہ یہ کمیٹی ایک ہفتے کے اندر اپنی سفارشات پیش کرے گی جن کو پنجاب اور کے پی کے میں جہاں پی ٹی آئی کی حکومتیں ہیں اسمبلی سے منظور کروا کر نافذ کر دیا جائے گا اسی طرح بلوچستان حکومت سے مشاورت کے بعد وہاں بھی یہ ہو جائے گا اور آخر میں سندھ حکومت کو بھی یہ کرنا پڑے گا مگر اس واقعہ کو دو ماہ ہو چکے ہیں اور ابھی تک اس کمیٹی کے ارکان کے نام اور ان کی سفارشات کی سرکاری سطح پر تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ عمران خان چاہتے ہیں کہ ضلعی حکومت کا سربراہ یعنی سٹی میئر یا ناظم براہ راست عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آئے اور دوسرا ان کی خواہش ہے کہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کی خاطر ضلعی حکومت سے بھی ایک قدم آگے جا کر تحصیل میئر یا تحصیل ناظم کو با اختیار بنایا جائے اور ضلعی سربراہ کی حیثیت سرپرستی یا سپروائزری کی حد تک ہو۔ 

اس ہفتے لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں ’’پنجاب میں لوکل گورنمنٹ کا مستقبل‘‘ کے عنوان سے ایک مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں سول سوسائٹی اداروں، گورننس کے ماہرین ، منتخب لوگ گورنمنٹ نمائندوں ، میڈیا اور تمام سیاسی جماعتوں کے ارکان جن میں خواتین بھی شامل تھیں شریک ہوئے۔ اس مشاورتی اجلاس کی میزبانی معروف سماجی تنظیم سنگت ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن (SDF) نے کی جس میں پنجاب کے تمام اضلاع سے شرکاء کو دعوت دی گئی تھی۔ سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان کنور دلشاد اس موقع پر مہمان خصوصی تھے۔ محترم کنور دلشاد نیشنل ڈیموکریٹک فاؤنڈیشن (NDF) کے بانی ہیں جو بہتر طرز حکمرانی کے لئے اسلام آباد میں ایک موثر تھنک ٹینک کے طور پر کام کر رہی ہے۔

پروگرام دو حصوں میں مشتمل تھا جس میں ایک حصے میں مہمان خصوصی کنور دلشاد اور سنگت فاؤنڈیشن کے بانی اور سربراہ زاہد اسلام نے اظہار خیال کیا اور لوکل گورنمنٹ کا جائزہ اور بنیادی ایشوز اور سفارشات پر بات کی جبکہ دوسرے محصے میں پنجاب بھر سے آئے ہوئے مندوبین کی تجاویز اور آراء کے لئے سب کو اظہار خیال کرنے کی دعوت دی گئی۔ سنگت فاؤنڈیشن ان تمام سفارشات کو حتمی شکل دے کر صوبائی وزیر بلدیات ، وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر اعظم کو ارسال کرے گی تا کہ نئی قانون سازی میں ان پر غور و فکر کیا جا سکے۔ 

محترم کنور دلشاد صاحب نے قیام پاکستان لے کر اب تک مقامی حکومتوں کے سفر کی مختصر روداد پیش کی اور کئی تاریخی وقاعات کے حوالے دیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایوب خان کے دور میں ضلعی حکومتیں فعال کردار ادا کر رہی تھیں انہوں نے 50 اور 60 کی دہائی کے مال روڈ لاہور کا نقشہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ رات کو گلی محلوں میں روشنی کا انتظام کیا جاتا تھا اور بلدیہ والے تیل سے جلنے والے چراغوں کا اہتمام کرتے تھے رات کے وقت سڑکوں کو دھونے کا بندوبست کیا جاتا تھا۔ کنور دلشاد نے اپنی یاداشت پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 1956ء میں دیہات سدھار کے نام سے ایک تنظیم کام کر رہی تھی جس میں رضا کارانہ کام کرنے والوں میں ایک نام ملک معراج خالد کا ہے جو بعد میں نگران وزیر اعظم بنے۔ اس طرح کے لوگوں کی خدمات کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو، ایوب خان کے مقامی حکومتی کے تصور کے آرکیٹیکٹ تھے مگر جب وہ خود اقتدار میں آئے تو انہوں نے اپنے ہی دیئے ہوئے نظام کی بساط لپیٹ دی۔ کنور دلشاد نے کہا کہ سسٹم خراب نہیں ہوتا نیت خراب ہوتی ہے۔

کنور دلشاد نے جنرل پرویز مشرف کے دور کے لوکل گورنمنٹ سٹرکچر کی حمایت کرتے ہوئے کہا اس پر جنرل تنویر نقوی نے بہت محنت اور عرق ریزی سے کام کیا۔ انہوں نے دنیا بھر کے لوکل گورنمنٹ سسٹم کے مطالعہ کے بعد یہ نظام تشکیل دیا تھا تا کہ بلدیاتی نظام کا حقیقی تجربہ کیا جا سکے البتہ اس کو سمجھنے میں کئی جگہ پر عوام نے غیر حقیقی توقعات وابستہ کر لیں کہ ضلع کا ڈپٹی کمشنر گھر کے دروازے پر کھڑا ہو گا ایسا ممکن نہیں ہوتا۔ اس نظام کی اچھی چیزوں کو جاری رہنا چاہئے تھا۔

ان کا خیال ہے کہ اگر ہم نے باہر کی دنیا سے سسٹم Adopt کرنا ہے تو اس کے لئے انڈونیشیا کا لوکل گورنمنٹ بہترین نظام ہے جو ہمارے حالات کے مطابقت بھی رکھتا ہے کیونکہ وہ مسلمان ملک ہے اور ایشیاء کے اندر علاقائی طور پر بھی قریب تر ہے اس کے برعکس انگلینڈ کا نظام ہمارے معاشرتی و ثقافتی مائنڈ سیٹ سے دور ہے۔ مثال کے طور پر ڈسٹرکٹ میئر یا ناظم کو اگر براہ راست عوام کے ووٹوں سے منتخب کرنے کا قانون بن گیا تو اس میں بہت سی خرابیاں ہیں۔ آپ سب جانتے ہیں کہ قومی اسمبلی کے ایک حلقہ سے الیکشن لڑنے کے لئے کم از کم 10 کروڑ روپیہ درکار ہوتا ہے جس میں 5 کروڑ تک تو پارٹی ٹکٹ کے لئے ڈونیشن پر ہی خرچ ہو جاتا ہے۔ اب لاہور جیسے ضلع میں جہاں قومی اسمبلی کے 14 حلقوں میں مشتمل آپ میئر کا حلقہ انتخاب بنائیں گے تو اس کا انجام کیا ہو گا۔ اس حساب سے ایک کروڑ سے زیادہ آبادی والے شہر میں روایتی الیکشن جینے کے لئے ایک ارب روپیہ درکار ہو گا جو کہ غیر منطقی ہے ان کی رائے یہ تھی کہ سسلم کے اندر رہتے ہوئے مناسب اقدامات کئے جا سکتے ہیں تا کہ آئین کی دفعہ 32 اور 140A کی روح کے مطابق مقامی حکومت مضبوط بنیادوں پر استوار ہو سکے۔ 

سنگت فاؤنڈیشن کے سربراہ محترم زاہد اسلام صاحب نے کہا کہ ہمارے ہاں صوبائی حکومت کا کنٹرول زیادہ ہے اور مقامی حکومت خود مختار نہیں ہے۔ بجٹ کے حصول کے لئے بھی مقامی حکومت صوبے کی محتاج ہے۔ ٹیکسوں کا نفاذ اور وصولی بھی لوکل گورنمنٹ کی پہنچ سے باہر ہے انتظامی خود مختاری کا فقدان ہے ملک بھر میں 60 ہزار کونسلرز ہیں جو متفق ہیں کہ ان کے پاس نہ اختیارات ہیں نہ وسائل ہیں اور نہ ہی فیصلہ سازی کی آزادی ہے۔ ان حالات میں اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی ناممکن ہے۔ حالیہ لوکل گورنمنٹ سسٹم کسی بھی صوبہ میں عام شہریوں کو مقامی حکمرانی میں شریک کار بنانے سے قاصر ہے بلکہ انہیں اپنی طرف متوجہ کرنے میں بھی دلچسپی نہیں رکھتا۔ اسی طرح مقامی حکومت کی تشکیل اور طریقہ انتخاب پر بھی نظرثانی کی ضرورت ہے کیونکہ آبادی مختلف خطوط پر منقسم ہے۔ ہر کونسلر کو ایک معینہ حلقہ انتخاب ملنا چاہئے اسی طرح سربراہان کا انتخاب بھی براہ راست ہونا چاہئے۔

زاہد اسلام نے کہا کہ موجودہ نظام کو یکسر تبدیل کرنے کی بجائے اس میں تبدیلیاں لائی جائیں منتخب کونسلرز کے اختیارات میں اضافہ کیا جائے۔ متوازی اداروں اور متلقہ کمپنیوں کے مقامی حکومت کے تحت کیا جائے۔ترقیاتی اداروں کو بیورو کریسی کے چنگل سے آزاد کر کے مقامی حکومت کے ماتحت لایا جائے لوکل گورنمنٹ سسٹم کا دورانیہ 3 سال کر دیا جائے۔

آخر میں زاہد اسلام کی طرف سے کچھ قراردادیں پیش کی گئیں۔ جنہیں حاضرین نے متفقہ طور پر منظور کرتے ہوئے اسے حکومت کے سامنے مطالبات کی شکل دیدی کہ بلدیاتی اداروں کے منجمد فنڈ بحال کئے جائیں آئین کی دفعہ 140A کے تحت نئے سسٹم پر debate کروائی جائے لوکل گورنمنٹ پر حکومت اپنا موقف عوام کے سامنے لائے۔ لوکل کونسلز کو بااختیار بنائیں ان میں نمائندگی میں اضافہ کیا جائے خواتین اور خصوصی افراد کی نمائندگی بڑھائی جائے۔


ای پیپر