پاکستان ایک نئے دور میں داخل ہوچکا!
31 اکتوبر 2018 2018-10-31

اس وقت حزب اختلاف بڑی فعال دکھائی دیتی ہے مقصد اس کا یہ ہے کہ حکومت کو جلدازجلد رخصت کردیا جائے کیونکہ وہ عوام کی خدمت کرنے کے اہل نہیں ملک چلانے کے قابل نہیں اور ان کے پاس کوئی تجربہ نہیں مگر وہ یہ نہیں کہتی کہ یہ پہلی حکومت ہے جو ملکی سرمایے پر ہاتھ صاف کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لارہی ہے یا ایسی خواہش رکھتی ہے وہ وہی کچھ عوام کے سامنے رکھ رہی ہے جو اس کے مفاد میں ہے مگر وہ (حزب اختلاف) اس پہلو کو نظرانداز کررہی ہے کہ آج کے عوام ماضی کی نسبت کہیں زیادہ باخبر، باشعور اور بیدار۔ ہیں اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ پی ٹی آئی کو اقتدار میں نہ لاتے اور پچھلی حکومتوں کے خلاف احتجاج نہ کرتے لہٰذا جو حزب اختلاف کے سیاسی رہنما جن میں مولانا فضل الرحمن پیش پیش ہیں اب آصف علی زرداری بھی ساتھ ہوچلے ہیں کسی خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ وہ جو کہیں گے لوگ اسے من وعن تسلیم کرلیں گے اور پھر دمادم مست قلندر کا آغاز ہوجائے گا۔ ؟ایسا ہونا ہوتا تو ان کی جماعتیں سکڑ نہ گئی ہوتیں۔ اور انہیں کم نشستیں نہ ملتیں لہٰذا وہ عوام سے یہ توقع نہ رکھیں کہ وہ ان کے کہنے پر سڑکوں پر آجائیں گے اور ملکی نظام حکومت پر اثرانداز ہونے کی کوشش کریں گے۔؟ وہ جانتے ہیں کہ حزب اختلاف کی بعض شخصیات ۔۔۔ نے عوام کی دولت کو یرغمال بناکر بیرون ممالک منتقل کیا علاوہ ازیں اسے ذاتی استعمال میں کچھ اس طرح سے لایا گیا کہ مغربی ملکوں کی حکومتیں حیران رہ گئیں یوں ملک پر قرضے اس قدر چڑھادیئے کہ اب انہیں اتارنا انتہائی مشکل ہورہا ہے جس کے لیے موجودہ حکومت کبھی ایک دوست ملک کا ترلا کرتی ہے۔ تو کبھی دوسرے کا۔ اس کا مگر مذاق اڑایا جارہا ہے عمران خان کو بھکاری کہا جارہا ہے جبکہ وہ وطن عزیز کی خاطر روزوشب جاگ رہا ہے آنسو بہارہا ہے کہ کسی طرح وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہوجائے عوام کو درپیش مسائل سے چھٹکارا مل جائے اور ہمارا ملک اتنی ترقی کرلے کہ اسے قرضوں کی ضرورت نہ پڑے بلکہ وہ غریب ملکوں کو قرضے دے۔ مگر حزب اختلاف کو اس کی یہ روش یہ ادا اور یہ طرز سیاست پسند نہیں وہ یہی گردان الاپے جارہی ہے کہ یہ حکومت جعلی ہے سوال یہ ہے کہ اگر آپ لوگوں کی حکومت اصلی تھی تو اس نے ریاستی اداروں، ملک کی معیشت، اجتماعی سوچ تھانوں، پٹوار خانوں، درسگاہوں اور شفاخانوں کے ساتھ کیا سلوک کیا کہ وہ یکسر تبدیل ہو گئے جس سے سماجی قدریں شکست وریخت سے دوچار ہوگئیں۔ عام آدمی کا 

مزاج بگڑ گیا ۔ یہ تو عمران خان ہی ہے جو مایوس اور بے سمت چلنے والوں کو ایک ایسے راستے پر گامزن کرنے کے لیے سامنے آگیا اور انہیں امید دلائی کہ وہ ایک قوم بن کر جوجئیں گے ان کے لیے آسانیوں، راحتوں اور آسائشوں کے در وا ہوں گے وہ گھبرائیں نہیں، ہاں انہیں مختصر عرصے کے لیے کچھ مشکلات کا ضرور سامنا کرنا پڑے گا مگر اس کے بعد نئے سورج کی کرنیں ان کا ماتھا چوم رہی ہوں گی بہاریں ان کا استقبال کرنے کے لیے منتظر ہوں گی۔ اب جب وہ ایک خوشحال اور فلاح کا راستہ اختیار کرچکا ہے اور دھیرے دھیرے اس نے منزل مقصود کی جانب بڑھنا شروع کردیا ہے تو لوگوں کو غلام بناکر رکھنے والے ذہنوں میں ’’تشویش‘‘ پیدا ہونے لگی ہے کہ اگر وزیراعظم عمران خان عوام کو انصاف فراہم کرنے میں کامیاب اور ان کی زندگی میں ایک نیا رنگ شامل کرکے سرخرو ہوجاتا ہے تو وہ قصہ ماضی بن کر رہ جائیں گے پھر انہیں ان جائیدادوں اور دولت سے بھی محروم ہونا پڑ جائے تو ان کی حالت خرابی کے آخری درجے تک پہنچ جائے گی جس کے نتیجے میں ان کے منہ سے آہیں اور سسکیاں ہی نکلیں گی لہٰذا کیوں نہ ایک ساتھ مل کر موجودہ حکومت کو فارغ کردیا جائے۔ ؟

مشکل ہے ناممکن ہے اس حکومت کو گرانا۔ کہ ان گرانے والوں کے پیچھے قانون ۔۔۔ موجود ہوگا جو انہیں ایسی کسی حرکت سے روکے گا وہ پوچھے گا کہ بتاؤ تمہارے پاس بغیر محنت کے ڈھیروں دولت کہاں سے آئی اگرچہ وہ اب بھی پوچھ رہا ہے مگر یہ تو چند ایک ہیں ابھی اس کا دائرہ وسیع ہونا ہے جوں جوں یہ حزب اختلاف اپنا کام تیز کرے گی قانونی تحریک بھی شدید ہوتی جائے گی پھر سوال ملک کی بقاوسلامتی کا ہے اگر کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو ہم کہاں ہوں گے اس خیال سے خوف کی لہرجسم میں برق کی مانند دوڑ جاتی ہے مگر یہ لوگ حکومت مخالف صرف اور صرف اپنے ’’کارناموں‘‘ پر پردہ ڈالنے کے لیے میدان میں اترے ہیں۔ آصف علی زرداری اور ان کے جگر گوشے بلاول زرداری سے کوئی پوچھے کہ آپ لوگ عوام کو اب تک کیا دے سکے ہیں سندھی عوام کو کوئی سہولت ، کوئی آسائش ، کوئی تعلیم کوئی صحت اور کوئی انصاف ملا۔ نہیں بالکل نہیں ان پر جاگیرداروڈیرے اور سائیں اسی طرح ستم ڈھارہے ہیں جس طرح پہلے ڈھارہے تھے ان کے چہرے اداس غمگین اور مایوس ہیں انہیں نجی جیلوں اور ٹارچر سیلوں میں اب بھی رکھا جاتا ہے انہیں بے بس اور مجبور کردیا گیا ہے مگر دونوں سیاسی رہنما جمہوریت کے لیے شور مچارہے ہیں۔ پیسے کی خوردبرد کے سوال پر سیخ پا ہوجاتے ہیں۔ آخر کب تک وہ منہ بند رکھیں گے انہیں بتانا ہوگا کہ کھربوں روپے ملک سے باہر کیسے گئے کیوں گئے؟

خیر احتساب کا عمل آگے بڑھ رہا ہے اور ان کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے لہٰذا لب ہلانے پڑیں گے ایسا نہیں بھی ہوتا ثبوت حاصل کرکے ان کے سامنے ڈھیر کردیئے جائیں گے جنہیں دیکھ کر رخ نہیں پھیرا جاسکے گا۔ بس یہی وہ عوامل ہیں جو حزب اختلاف کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کررہے ہیں مگر عوام کی تعداد مٹھی بھر ہوگی زیادہ ترجماعتوں کے عہدیداروان ہوں گے۔ مگر شاید اس کی نوبت نہ آئے کیونکہ جیسا کہ میں نے اوپر عرض کیا کہ قانون کا سایہ ساتھ ساتھ ہوگا لہٰذا وہ انہیں کسی ’’دوسری طرف‘‘ لے جاسکتا ہے ۔بہرحال احتجاج اور شورمچانے سے حکومت نہیں روک سکتی یہ ہرکسی کا بنیادی حق ہے مگر بات سوچنے کی ہے کہ اس وقت جب ملک درست سمت محوسفر ہے ایسا کرنا سراسر غلط نہیں ؟چاہیے تویہ تھا کہ سب مل کر عوام کو تپتے صحرا سے باہر نکالتے مگر اس کے بجائے ذاتی مفادات کے لیے لنگوٹ کس لیے گئے۔ ؟

اس طرح گلو خلاصی ہوتی تو ریاستی ادارے کسی سیاسی رہنما پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت ہی نہ کرتے انہیں علم ہوتا کہ لوگ واویلا کریں گے تو انہیں پسپائی اختیار کرنا پڑے گی۔ ایسا نہیں ہونے والا۔ جو ہونا ہے ہوکر رہے گا پھر جب یہ کہا جاتا ہے کہ وہ دودھ کے نہائے ہوئے ہیں تو ڈرکس بات کا دھڑکا کیوں۔ ؟آئیے کٹہرے میں اور کھڑے ہوکر اطمینان سے جواب دیجئے۔ مگر نہیں جناب !دال میں کالا ہی کالا ہے لہٰذا ترکیبیں سوچی جارہی ہیں بچنے کی۔ حیرت یہ ہے کہ کس طرح دونوں بڑی جماعتیں ایک دوسرے کو لعن طعن کرتی رہی ہیں اور اب پس زنداں جانے کے خوف سے متحد ہوگئی ہیں۔ چلیے عوام بھی دیکھ رہے ہیں اور عقابی نگاہیں بھی۔ کہ جمہوریت کے نام پر ملکی و عوامی مفادات سے چشم پوشی اختیار کرنے والے اب ایک بار پھر لوگوں کو بیوقوف بنانے چلے ہیں جوکہ ممکن نہیں رہا اب وہ دور بیت گیا۔ وقت آگے بڑھتا ہے پیچھے کی طرف کبھی نہیں پلٹتا ۔ لہٰذا عمران خان وزیراعظم عزم اہمیت کے ساتھ آئندہ پانچ برس حکمرانی کرے گا وہ بدعنوانی کو ختم کرے گا اور خوشحالی لائے گا عوام صبر سے کام لیں انہیں چند ماہ گزرنے کے بعد اس بات کا احساس ہوجائے گا کہ وہ ایک نئے دور میں داخل ہوچکے ہیں جہاں زندگی آسائشوں کے درمیان اٹھکیلیاں کررہی ہے !


ای پیپر