آزاد ملک کی غلام زبان
31 اکتوبر 2018 2018-10-31

قوموں کے عروج و زوال پر اگر ایک نظر دوڑائیں تو اس میں اُن کی زبان کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ زبان کسی قوم کی تہذ ہب، ثقافت اور تاریخ کی امین ہوتی ہے اور زبان اس امانت کو ایک نسل سے لے کر دوسری نسل تک منتقل کرنے کا کا م اس قوم کے افراد کے شانوں پر کھڑے ہوکر فخر سے کرتی ہے۔ ایک طرف وہ آنے والی نسلوں کو اُن کے آباء کے کارنامے ، شان وشوکت اور جاہ و جلال دکھاتی ہے تو دوسری طرف انہیں ان کی تاریخ میں کی جانے والی بہت سی اغلاط بتاتے ہوئے آنے والے وقتوں کے لیے مناسب حکمت عملی بنانے میں بھی معاون ہوتی ہے۔یوں زبان قوموں کی تاریخ کے ذریعے اُن کے مستقبل کو سنوارتی ہے۔ہم کیا ہیں ، ہم کیا تھے اگر کوئی زبان سچ بتائے گی تو وہ ہماری زبان ہماری اپنی زبان ہوگی ، ہماری زبان میں لکھی ، پڑھی اور بولی گئی تحریر ہوگی اور اگر یہی بات ہم زبان ِ غیر سے معلوم کریں گے تو وہ ہمیں سچ نہیں کچھ اور ہی بتائے گی وہ ہمیں وہ بتائے گی جو اس کی قوم چاہتی ہوگی کہ ہم کیا سنیں یا پڑھیں ، جس میں اس کی قوم کا مفاد مقدم ہوگا ،لہذا ہماری اپنی زبان ہی ہمارے مفاد تو ترجیحی دے گی اور ہمیں ایمانداری کے ساتھ تاریخی حقائق سے آگاہ کرئے گی اور مستقبل کے لیے بہتر لائحہ عمل تشکیل دینے میں کرے گی کیونکہ وہ اپنی ہوگی ۔اپنا تو اپنا ہی ہوتا ہے۔ وہ ہمیں ماضی سے مستقبل کے سفر پر لے کر جاتی ہے۔کسی قوم کی زبان اُس قوم کی آن ، بان اور شان ہوا کرتی ہے۔ اقوامِ دنیا اپنی اپنی زبانوں سے پہچانی جاتی ہیں۔ جس طرح ہم اپنے تاریخ کے عظیم رہنماؤں اور لیڈروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اُن کی عزت پر حرف نہیں آنے دیتے اوراُن کی قدر کرتے ہوئے عزت کا مقام دیتے ہیں بالکل اسی طرح دنیا کی عظیم قومیں اپنی زبان کا احترام کرتی ہیں اور اُس کی عزت اور ناموس پے مرمٹتی ہیں۔

محبت بھی ہے غیرو ں سے ثقافت بھی ہے غیروں کی

زبان غیر کو اپنا کے تمھیں لگتا ہے کہ تم !۔۔۔ تم ہو

دُنیا میں آپ کو بہت سی ایسی مثالیں ملیں گی کہ جہاں اقوام کی اپنی زبان سے دوری اُن کی غلامی کا باعث بنی اور زبان سے قربت آزادی کی نوید بن کر آئی۔جرمنی کو ہی لے لیجیے جرمن مفکرین نے پہلی جنگ عظیم میں اپنی کی شکست کی بڑی وجہ اپنی زبان سے دوری کو ہی گردانا ہے۔اس وقت سلیبس میں موجودبی ۔ایس سی کی انگریزی کی کتاب میں ایک سبق لاسٹ لیسن (Last Lession)کے نام سے ہے ۔جس میں جرمن استاد شکست کی وجہ اپنی قوم کی قومی زبان سے دوری گردانتا ہے اور آزادی کی پہلی شرط قومی زبان سے لگاؤ کو ٹھہراتا ہے۔

عزیزانِ وطن ہماری قومی زبان اُردو ہے مگر آج تک ہم اپنی قومی زبان کو سرکاری زبان کی حیثیت سے تسلیم ہی نہ کر سکے ۔وجہ نامعلوم۔اس کے پس پشت قوتیں نامعلوم۔اگر ہم تحریکِ پاکستان کو دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ کانگریس سے مسلمانوں کی دوری اور مخالفت کی بنیادی وجہ ’’اُردو ہندی‘‘ تنازعہ تھا۔اُردو زبان ۱۸۴۹ء میں سکھ دور کے اختتام پر پنجاب کے دفاتر اور عدالتوں میں رائج کی گئی ۔ ہندو ہندوستان میں ہندی زبان کو قومی اور سرکاری زبان بنانا چاہتے تھے اور اردو کو ختم کرنا چاہتے تھے جب یہ بات مسلمانانِ برصغیرکو معلوم ہوئی تو انہوں نے کانگریس کے خلاف محاذ جنگ کھول دیا اور ایک ایسے الگ وطن کا مطالبہ کردیا جس کی سرکاری اور قومی زبان اُردو ہوگی۔

بات یہاں ختم ہوجاتی تو پھر بھی ٹھیک تھا مگر قیام پاکستان کے بعد سقوط ڈھاکہ پاکستان کے سینے پر ایک ایسا داغ کہ جس کے نشان آج بھی ویسے ہی ترو تازہ ہیں جیسے کہ سقوط ڈھاکہ کے روز تھے۔اس سانحہ کی بڑی وجہ بھی اردو کو واحد قومی زبان ماننے سے انکار اور اردو کے ساتھ بنگالی زبان کو بھی قومی زبان گرداننا تھا ۔1970 میں مشرقی پاکستان میں ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلرڈاکٹر سید سجاد حسین مرحوم و مغفور لسانی تحریک کے بارے انگریزی میں تحریر کیا تھا ۔یہ مضمون نوائے وقت کے 16دسمبر 2009کے شمارے میں ’’مشرقی پاکستان ‘‘کے عنوان شائع ہوچکا ہے۔اس کا آخری پیرا کچھ یوں ہے

’’مصنف بسنت چڑجی ایک پیشن گوئی کرتا ہے وہ کہتا ہے بنگالی کو ایک ہتھیار کے طور پر پاکستان کے خلاف استعمال کیا جاچکا ہے اور یہ کہ بطور ایک سیاسی ہتھیار اس کی ضرورت پوری ہوگئی، وہ حیران کن پشین گوئی کرتا ہے کہ اگر بنگالی مسلمان بنگلہ دیش کو ایک خود مختار مملکت کے طور پر قائم رکھنا چاہتے ہیں تو ان کی سیاسی بقاء کی ضرورتیں ایک دن انہیں مجبور کردیں گی کہ وہ اردو کو اپنے ملک کی سرکاری زبان کے طور پر اپنالیں۔‘‘ چلیں یہ بات تو الگ ہے مگر اپنے وطن عزیز میں ہم نے اردو کے ساتھ کسی اور زبان کو قومی زبان ماننے سے انکار کر کے اپنے وطن کے دو حصے کروانا تو گوارا کیامگر افسوس آج تک اپنی قومی زبان کو سرکاری زبان نا بنا سکے۔ یہ کون سی دانش مندی ہے یہ کہاں کا شعور ہے کہ جس زبان کے نام پر ملک لیا جس کے نام پر ملک کو دو لخت کروادیا اُس زبان کو آج تک سرکاری زبان ہی نہیں مان رہے۔

غیر ممکن ہے کہ حالات کی گتھی سلجھے

اہل دانش نے بہت سوچ کے الجھائی ہے

اگر ہم آئینی طور پر دیکھیں تو یہاں پر بھی ہم کو بہت سے اقدامات نظر آئیں گے مگر وہ تمام اقدامات صرف اور صرف پارلیمنٹ ہاؤس ، سینٹ ، سپریم کورٹ اور اعلیٰ احکام کی فائیلوں تک ہی محدود ہیں ۔ عملی طور پر آپ کو اگر کچھ نظر آئے گا تو بس انگریزی زبان کا بول بالا اور اِ سی زبان کی غلامی۔

۱۹۷۳ء کےء آئین میں یہ بات واضح طور پر درج ہے کہ مطابق ۱۴ اگست ۱۹۸۸ ء تک پاکستان میں نفاذِ اُردوکا کام ہر لحاظ سے مکمل ہوجانا چاہیے۔مگر یہ ایک دیوانے کا خواب بن گیا۔پاکستان میں لاقانونیت کا دور دورا ہے کہ آئین کی دفعہ ۲۵۱ کی ذیلی شق(۱) کے مطابق پاکستان کی قومی زبان اردو ہے اور اس دستور کے نافذ ہونے کے(۱۴۔ اگست ۱۹۷۳)پندرہ برس کے اندر اندر اس کو سرکاری و دیگر اغراض کے لیے استعمال کرنے کے انتظامات کیے جانے چاہے تھے۔آج تک آنے والی تمام صوبائی اور قومی حکومتیں آئین پاکستان کی خلاف ورزی کی مرتکب ہورہی ہیں کیونکہ تمام وسائل اور ذرائع میسر ہونے کے باوجود آج تک یہ کام نہ ہوسکا۔اُردو زبان کو سرکاری زبان بنانے کے حق میں پنجاب اسمبلی کی قرار داد مورخہ یکم اکتوبر 1997ء میں پاس ہوئی۔اس کے علاوہ ۸۔ ستمبر۲۰۱۵ء کوسپریم کورٹ میں جسٹس ناصر الملک نے یہ حکم دیا کہ فی الفور اردو زبان کو ملک کی سرکاری زبان کے طور پر نافذ کیا جائے۔مگر یہاں قانون کی کون سنتا ہے ۔ذاتی مسائل ہوں تو ہمارے سیاستدان دھرنے بھی دے لیتے ہیں اور ایک دوسرے کو غداروں کی اعزازی ڈگریاں بھی بانٹ دیتے ہیں مگر جب بات قومی زبان کو بطور سرکاری زبان لاگو کرنے کی بات آتی ہے سارے چُپ سادھ لیتے ہیں ۔ 

جب ہمارے بچے انگریزی زبان میں رٹا لگاتے ہیں تو وہ بس نمبرلینے کے لیے پڑھتے ہیں اسی وجہ سے ہمارے ملک میں ایجادات کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے ہم صرف رٹی رٹائی باتوں کو پیپر پر چھاپ دیتے ہیں ۔مگر جب یہ سب کچھ ہماری اپنی زبان میں موجود ہوگا تو بلاشبہ ہم ایجادات کرنے کے قابل ہوجائیں گئے اور ہر بات پر اقوام غیر کی طرف دیکھنا چھوڑ دیں گئے۔حرف آخر یہی ہے کہ اپنی زبان سب کو سمجھ میں آتی ہے ،اپنی زبان میں تعلیم حاصل کرنا آسان ہوتا ہے،اپنی زبان میں دئیے گئے احکامات پر عمل درآمد آسان ہوتا ہے۔اپنی زبان ذیادہ اثر پزیر ہوتی ہے۔لہذا ہمیں اپنی قومی زبان کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے سب کو مل کر اس کے بطور سرکاری زبان رائج ہونے میں حائل روکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا۔تاکہ ہم بھی اُس ترقی کی طرف سفر کا آغاز کردیں جس کا انتظار کرتے ہوئے ہمیں71سال بیت گئے ہیں۔


ای پیپر