شرپسند عناصر ریاست سے نہ ٹکرائیں ورنہ ایکشن لینگے :وزیر اعظم عمران خان
31 اکتوبر 2018 (20:05) 2018-10-31

اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ نبی کے عشق کے بغیر ایمان مکمل نہیں‘آسیہ بی بی کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین کے مطابق اور آئین قرآن و سنت کے مطابق ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے پر چھوٹے سے طبقے نے جس طرح کا ردعمل دیا ہے اور سپریم کورٹ کے ججوں اور فوج کےخلاف جو زبان استعمال کی گئی اس وجہ سے میں آپ سے بات کرنے پر مجبور ہوا ‘فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کے ججوں بارے کہنا کہ وہ واجب القتل ہیں اور کہنا آرمی چیف غیرمسلم ہیں، فوجی جنرلز ان کی بغاوت کر دیں، یہ اسلام دوستی نہیں ملک دشمنی ہے‘پاکستان دنیا کی تاریخ کا واحد ملک ہے جو مدینہ کی ریاست کے بعد اسلام کے نام پر بنا ہے‘ اسلام کے نام پر بننے کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کا کوئی قانون قرآن و سنت کےخلاف نہیں ہو سکتا‘ہم کسی صورت بھی نبی کریم کی شان میں گستاخی نہیں دیکھ سکتے مگر احتجاجاً سڑکیں بلاک کرنے سے عوام کا نقصان ہو رہا ہے‘قوم سے اپیل کرتا ہوں معاملے پر اپنی سیاست چمکانے والے افراد آپ کو اکسا رہے ہیں، آپ کے بہکاوے میں نہ آئیں کیونکہ یہ اسلام خدمت نہیں کر رہے بلکہ اپنا ووٹ بینک بنا رہے ہیں‘میں ان عناصر سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ ریاست سے مت ٹکرائیں اور اپنی سیاست چمکانے کیلئے اس ملک کو نقصان نہ پہنچائیں ‘اگر ایسا ہوا تو ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرے گی‘ ہم ٹریفک نہیں رکنے دیں گے، کوئی توڑ پھوڑ نہیں ہونے دیں گے۔ وہ بدھ کو قوم سے خطاب کر رہے تھے۔

وزیر اعظم عمران خان نے آسیہ بی بی کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو آئین اور قرآن و سنت کے مطابق قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چھوٹے سے طبقے نے جس طرح کا ردعمل دیا ہے اس سے نقصان ملک و قوم کا ہو رہا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میں ان عناصر سے اپیل کرتا ہوں کہ اپنی سیاست چمکانے کی خاطر ملک کو نقصان نہ پہنچانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا کچھ ہوا تو ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرے گی اور کوئی ٹریفک نہیں رکنے دے گی اور توڑ پھوڑ نہیں ہونے دے گی۔

قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر ایک چھوٹے سے طبقے نے جس طرح کا ردعمل دیا ہے اور سپریم کورٹ کے ججوں اور فوج کے خلاف جو زبان استعمال کی گئی ہے اس وجہ سے میں آپ سے بات کرنے پر مجبور ہوا ہوں۔ پاکستان دنیا کی تاریخ کا واحد ملک ہے جو مدینہ کی ریاست کے بعد اسلام کے نام پر بنا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے گستاخانہ خاکوں پر ہالینڈ کے سفیر اور وزیرخارجہ سے بات کی اور گستاخانہ خاکوں کا سلسلہ فوری طور پر رکوایا، ہمارے وزیرخارجہ نے اقوام متحدہ میں بھی پہلی بار اس معاملے کو اٹھایا۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم صرف باتیں نہیں کرتے بلکہ عملی طورپر بھی کام کر کے دکھایا، ہم اپنے نبی کی شان میں کسی قسم کی گستاخی نہیں دیکھ سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں اور میری کابینہ نے ایک دن چھٹی نہیں کی، مشکل وقت ضرور ہے مگر پاکستان مدینے کے اصولوں پر چل کر ہی عظیم ملک بنے گا، ہم نے ملک کو فلاحی ریاست نہیں بنایا تو پھر کوئی مستقبل نہیں ہوگا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم نے اس حکومت میں وہ کام کیا جو عملی طورپر کسی نے نہیں کیا، حکومت مسلسل اپنے ملک اور غریب عوام کو مسائل سے نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ اسلام کے نام پر بننے کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کا کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں ہو سکتا۔وزیراعظم نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ججوں نے فیصلہ آئین کے مطابق دیا ہے اور پاکستان کا آئین قرآن و سنت کے مطابق ہے لیکن اس فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کے ججوں کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ واجب القتل ہیں اور یہ کہنا کہ آرمی چیف غیرمسلم ہیں، فوجی جنرلز ان کی بغاوت کر دیں، یہ اسلام دوستی نہیں بلکہ ملک دشمنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نبی کریم سے عشق کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہو سکتا اور ہم کسی صورت بھی نبی کریم? کی شان میں گستاخی نہیں دیکھ سکتے مگر احتجاجاً سڑکیں بلاک کرنے سے عوام کا نقصان ہو رہا ہے۔ میں قوم سے یہ اپیل کرتا ہوں کہ اس معاملے پر اپنی سیاست چمکانے والے افراد آپ کو اکسا رہے ہیں، آپ نے ان کی باتوں میں نہیں آنا کیونکہ یہ اسلام خدمت نہیں کر رہے بلکہ اپنا ووٹ بینک بنا رہے ہیں۔میں ان عناصر سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ ریاست سے مت ٹکرائیں اور اپنی سیاست چمکانے کیلئے اس ملک کو نقصان نہ پہنچائیں لیکن اگر ایسا ہوا تو میں واضح کر دوں کہ ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرے گی، ہم ٹریفک نہیں رکنے دیں گے، کوئی توڑ پھوڑ نہیں ہونے دیں گے۔


ای پیپر