جرمنی میں سابق نرس کا ہسپتال میں ایک سو مریضوں کو قتل کرنے کا انکشاف 
31 اکتوبر 2018 (17:24) 2018-10-31

برلن: جرمنی میں ایک سابق نرس نے اعتراف کیا ہے کہ انھوں نے اپنے زیرِ نگرانی ایک سو مریضوں کو قتل کیا تھا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق 41 سالہ نیلز ہوگل نے یہ اعتراف اپنے خلاف شروع ہونے والے نئے مقدمے کے آغاز پر کیا۔ حکام کا کہنا تھا کہ وہ دو مختلف ہسپتالوں میں اپنی زیرِ نگرانی مریضوں کو مہلک مقدار میں ادویات دیتے تھے۔استغاثہ کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد مریضوں پر پہلے حملہ کرنا اور پھر ان کی سانسیں بحال کر کے اپنے ساتھیوں کو متاثر کرنا تھا۔نیلز ہوگال پہلے ہی اپنی زیرِ نگرانی چھ اموات کی وجہ سے عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق حکام نے الزام لگایا کہ نیلز نے اولڈن برگ میں 36 اور ڈلم ہورسٹ میں 64 مریضوں کو 1999 سے 2005 کے دوران قتل کیا۔جب جج نے ان سے پوچھا کہ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات درست ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ہاں تقریباً!یہ موجودہ مقدمہ تقریباً مئی کے مہینے تک جاری رہے گا۔ اس میں 130 لاشوں کے بقایا جات کا سائنسی معائنہ پیش کیا جانا ہے۔تفتیش کاروں کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے نیلز ہوگل نے اس سے بھی زیادہ لوگوں کو قتل کیا ہو تاہم ان کی لاشوں کو آخری رسومات کے دوران جلا دیا گیا تھا۔

مرنے والوں کے لواحقین کے نمائندے کرسچن ماربغ کا کہنا تھا کہ یہ ایک سکینڈل ہے کہ ایک قاتل کو اتنے عرصے بغیر کسی سرکاری نگرانی کے چھوڑ دیا گیا اور اس نے اتنے لوگوں کو مار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم کئی برسوں سے اس مقدمے کے لیے لڑ رہے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ ہوگل کو مزید 100 قتل کی سزا ملے گی


ای پیپر