سپریم کورٹ کا جو حکم ہوتا ہے لاگو ہوتا ہے: فواد چوہدری
31 اکتوبر 2018 (14:00) 2018-10-31

اسلام آباد:وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر پسند نا پسند کی بات نہیں ‘ سپریم کورٹ کا جو حکم ہوتا ہے وہ لاگو ہوتا ہے ‘ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ حکومت چلانا منتخب حکومت کا ہی کام ہوتا ہے ‘چیف جسٹس کو بتایا ہے کہ میرا بیان سپریم کورٹ کے متعلق نہیں بیورو کریسی سے متعلق تھا‘ چیف جسٹس اور دیگر جسٹس صاحبان قابل احترام ہیں ‘ میں خود عدالت میں پیش ہوتا رہتا ہوں‘ ملک کی پالیسی میں بہتری وزیر اعظم کا کام ہوتا ہے ‘سب کو پتہ ہے کہ عدلیہ اور حکومت کا کیا اختیار ہوتا ہے ‘ سب سے بڑا اختیار آئین کا ہوتا ہے ‘ہماری حکومت آئین کے مطابق ہی چلے گی‘ مولانا فضل الرحمن کو دن میں تارے اور رات کو طیارے نظر آ رہے ہیں‘ مولانا صاحب لگے رہیں شاید اگلے 15سالوں میں کامیابی مل جائے‘اعظم سواتی کی جائیداد سے متعلق علم نہیں ‘ہم 5سال کے پی میں بھی رہے ہیں وہاں کوئی تبادلہ نہیں ہوا‘ پولیس کے اوپر کوئی سیاسی دباؤ نہیں نہ ہی سیاسی مداخلت ہے ۔

  سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر پسند نا پسند کی بات نہیں ہےسپریم کورٹ کا جو حکم ہوتا ہے وہ لاگو ہوتا ہے ‘ ریاست میں سپریم کورٹ کا ادارہ بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے ‘ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ حکومت چلانا منتخب حکومت کا ہی کام ہوتا ہے ‘ میں نے اپنا موقف چیف جسٹس کے سامنے رکھا اور بتایا کہ میرا بیان سپریم کورٹ کے متعلق نہیں تھا۔ میرا بیان بیورو کریسی کے چند ایک کے متعلق تھا۔ چیف جسٹس اور دیگر جسٹس صاحبان قابل احترام ہیں ‘ میں خود عدالت میں پیش ہوتا رہتا ہوں۔ ملک کی پالیسی میں بہتری وزیر اعظم کا کام ہوتا ہے ۔ آئین اور قانون اعلیٰ ہوتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ سب کو پتہ ہے کہ عدلیہ اور حکومت کا کیا اختیار ہوتا ہے ۔ سب سے بڑا اختیار آئین کا ہوتا ہے ۔ ہم آئین کے مطابق چلیں گے۔ ہماری حکومت آئین کے مطابق ہی چلے گی۔ مولانا فضل الرحمن کی اے پی سی چل رہی ہے ۔ انہیں دن میں تارے اور رات کو طیارے نظر آ رہے ہیں۔ مولانا صاحب کی اے پی سی ڈھیلی ہی نکلی ہے ۔ مولانا صاحب کو لگے رہنے دیں شاید اگلے پندرہ سالوں میں کامیابی مل جائے۔ مجھے اعظم سواتی کی جائیداد سے متعلق کچھ پتہ نہیں ہے ۔ اعظم سواتی صاف ستھرے آدمی ہیں۔ ہم پانچ سال کے پی میں بھی رہے ہیں وہاں کوئی تبادلہ نہیں ہوا۔ پولیس کے اوپر کوئی سیاسی دباؤ نہیں نہ ہی سیاسی مداخلت ہے ۔ 


ای پیپر