Khalid Minhas, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
31 May 2021 (11:17) 2021-05-31

 اسد طو ر پر حملہ کے بعد سوشل میڈیا پر ایک جنگ جاری ہے۔ ایک طبقہ اسے ان عناصر کو سبق سکھانے کا طریقہ سمجھ رہا ہے جو اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بات کر رہے ہیں دوسرے لفظوں میں اس طبقے نے اس بات کو تسلیم کر لیا ہے کہ اسد طور پر ہونے والے حملے میں آئی ایس آئی ملوث ہے دوسرا طبقہ وہ ہے جو اسد طور پر ہونے والے حملے کی مذمت کر رہا ہے اور اسے آزادی اظہار رائے پر حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔یہ معاملہ اس وقت خراب ہوا جب اس حملے کے اگلے روز اسلام آباد میںہونے والے احتجاجی جلسے میں تقاریر کی گئیں اور منزے جہانگیر اور حامد میر کی تقریروں نے سوشل میڈیا پر آ گ لگا دی۔ خاص طور پر حامد میر کی تقریر نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس بندوق اور توپ نہیں ہے کہ ہم آپ کے گھر میں گھس سکیں لیکن ہم آپ کے گھر کی باتیں لوگوں تک پہنچائیں گے کہ کس کی بیوی نے کس کے کہنے پر کیوں گولی ماری؟اس تقریر کے بعد سوشل میڈیا پر یہ ٹرینڈ چل پڑا کہ حامد میر کو گرفتار کرو۔وہ لوگ اس مہم میں خاص طور پر بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے تھے جن کا اتا پتہ کسی کو معلوم نہیں۔ واقفان حال یہ بھی جانتے ہیں کہ اس طرح کے ٹرینڈ کون ، کیسے اور کہاں سے چلتے ہیں۔

حامد میر سمیت جس نے بھی فوج کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے ان کے خلاف قانونی کارروائی سے کسی نے نہیں روکا۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ غلط کہہ رہے ہیں تو پھر چلائیں ان کے خلاف مقدمہ۔ عدالت کے سامنے ثبوت پیش کریں اور انہیں پھانسی پر لٹکا دیں لیکن جو یہ ٹرینڈ چلا رہے ہیں وہ اصل میں اس بات کو سپورٹ کر رہے ہیں کہ فوج اور آئی ایس آئی ففتھ جنریشن وار لڑ رہی ہے اور ایسے عناصر کے خلاف اس قسم کی کارروائیاں جائز ہیں۔ جو بھی بولے گا اسے اسی طرح کے سلوک کا سامنا کرنا پڑے گا۔یہ طبقہ حامد میر سے بھی زیادہ فوج اور آئی ایس آئی کو بدنام کرنے کا سبب بن رہا ہے اور ان کے ٹرینڈز کو دیکھ کر ہی ملک دشمن عناصر کو یہ پروپیگنڈہ کرنے کا موقع مل رہا ہے کہ وہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ صحافیو ںکی آواز کو دبایا جا رہا ہے اور بنیادی انسانی حقوق پامال کیے جار ہے ہیں۔اس طبقے نے اسد طور کے خلاف ہونے والی کارروائی کو فوج اور آئی 

ایس آئی کے کھاتے میں ڈال دیا اور اس با ت پر خوشی کا اظہار کیا کہ جو کیا گیا وہ درست ہے۔ یہ ہیں وہ نادان دوست جن کو علم ہی نہیں کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں اور اس کا مفہوم کیا ہے۔ میں شروع سے کہہ رہا ہو ںکہ فوج پاکستان کی سرحدو ںکا ایک محافظ ادارہ ہے اور جو لوگ فوج اور آئی ایس آئی کا نام لے کر گھرو ںمیں گھس کر صحافیوں پرحملے کر رہے ہیں ان کو پکڑ کر سامنے لایا جائے۔غیر جانبدارکمیشن بنا کر حقائق کو سامنے لا کر اس پروپیگنڈ ے کو ختم کیا جانا ضروری ہے۔ آئی ایس آئی نے وزارت اطلاعات کی وساطت سے جو بیان جاری کیا ہے اس میں اسد طور پر ہونے والے حملے سے مکمل لا تعلقی کا اعلان کر دیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں حملہ آوروں کے چہرے بخوبی دیکھے جا سکتے ہیں ان کو جلد گرفتار کر کے اصل ملزمان تک پہنچا جائے گا۔

اسد طور پر ہونے والے اس حملے کی تفتیش میں غیر جانبداری کو ملحوظ خاطر رہنا چاہیے اور اس کی مکمل تحقیقات ہونی بہت ضرور ی ہیں ورنہ دنیا میں یہ تاثر مضبوط ہوتا جائے گا کہ ریاست ان لوگوں کو ٹارگٹ کر رہی ہے جو ان کی پالیسیوں سے اختلاف رکھتے ہیں۔ یہ کیس آسانی کے ساتھ حل کیا جا سکتا ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہے۔ اس واردات کے دوران ٹیلی فون استعمال ہوئے ، جیو فینسنگ کے ذریعے پتہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس وقت کے دوران اس علاقے میں کو ن کون سے فون چل رہے تھے اور کون کہاں سے بات کر رہا تھا۔جب کیس کسی منطقی انجام تک نہیں پہنچتا یااسے لٹکایا جاتا ہے تو پھر معاملہ مشکوک ہوتا ہے۔حامد میر پر حملہ ہوا، ابصار عالم کو نشانہ بنایا گیا ، مطیع اللہ جان کو اغوا کیا گیا، اظہار الحق واحد کو پابند سلاسل کیا گیا، کئی صحافیوں کا قتل کر دیا گیا ۔ ان پر حملہ کرنے والے کون تھے کہاں سے آئے تھے ابھی تک کچھ معلوم ہو سکا ہے۔اپنے دامن پر لگنے والے الزامات کو صرف غیر جانبدارانہ طریقے سے ہونے والی تفتیش سے دھویا جا سکتا ہے۔دوسری صور ت میں یہ تاثر مضبوط ہوتا جائے گا کہ یہ ادارے ایسی کارروائیوں میں ملو ث ہیں اور کوئی بھی ذی شعور اس قسم کی کارروائیوں کی حمایت نہیں کر سکتا۔ایک ایسے وقت میں جب آئی ایس آئی نے خود کو اس واقعہ سے لاتعلق قرار دے کر جلد تفتیش کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تو جلد از جلد اس کی تفتیش مکمل کی جائے۔

پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں پر صحافی محفوظ نہیں ہیں۔عالمی درجہ بندی میں پاکستان 180میں سے 145ویں نمبر پر ہے۔ ہر سال رپورٹرز ود آئوٹ بارڈرز پریس فریڈم انڈیکس جاری کرتی ہے اور یہ تازہ رینکنگ 2021کی ہے۔اسد طور کے ساتھ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب جرنلسٹ پروٹیکشن بل بھی پاس ہو چکا ہے۔ اب ذرا ایک اور پہلو کا بھی جائزہ لیتے ہیں اور اس کو بھی سمجھنے کی کوشش کر تے ہیں۔ جب بھی اسلام آباد کے کسی صحافی کے ساتھ واقعہ پیش آتاہے تو مظاہرے بھی ہوتے ہیں تحقیقات کا مطالبہ ہوتا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ سارے صحافی اس کی حمایت کے لیے آ گئے ہیں اس طرح کا واقعہ دوسرے شہروں میں ہوتا ہے تو اسلام آباد کے صحافیوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی تو سوال یہ ہے کہ اسلام آباد میں رہنے والے صحافی صحافی ہیں اور باقی سب کاٹھ کباڑ ہیں۔ اسد طور کے حادثے کے بعد سپریم کورٹ کے جسٹس اور ان کے اہل خانہ تیمارداری کے لیے پہنچ جاتے ہیں اپوزیشن با جماعت جاتی ہے اور سندھ میں کسی صحافی کو گولی مار کر قتل کر دیا جاتا تو کوئی پوچھتا نہیں۔ کسی کو پابند سلاسل کر دیا جاتا ہے تو کوئی خبر گیری کرنے نہیں جاتا۔پریس کلبس بھی ان واقعات میں تقسیم ہو جاتے ہیں کہ نشانہ بننے والا اگر مخالف گروپ سے ہے توسوچ سمجھ کر پریس ریلیز جاری کی جاتی ہے اور احتجاجی مظاہرہ اس وقت ہوتا ہے جب اسلام آبا د میں کچھ ہوتا ہے۔صحافیو ںکو بھی اس دہرے معیار کو ختم کرنا چاہیے۔ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ صحافی چھوٹا بڑا نہیں ہوتا وہ اپنے کام سے اپنی جگہ بناتا ہے۔ میں نے کئی بڑے بڑے ناموں کو دیکھا ہے جب ان سے پلیٹ فارم چھین لیا جاتا ہے تو وہ کسی چھوٹے سے ادارے سے وابستہ ہو کر اپنے آپ کو زندہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں یا وہ خود کسی چھوٹے ادارے سے بڑے ادارے میں پہنچے ہوتے ہیں۔ اسلام آباد، لاہور ، کراچی ، پشاور اور کوئٹہ کے پریس کلبز کو اس حوالے سے پالیسی وضع کرنا چاہیے کہ کسی صحافی پر حملہ پوری صحافی برادری پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ پاکستان میں صحافت کی آزادی صرف چند لوگوں اور اداروں کے لیے ہے ورنہ یہاں پھونک پھونک کر قدم رکھا جاتا ہے۔


ای پیپر