صوفی سنٹر، صوفی ازم اور ہم 
31 May 2021 2021-05-31

 لیجئے صوفی ازم سائنس اور ٹیکنالوجی ریسرچ سنٹر کا افتتاح ہوگیا ہے، بڑی خوشی ہوئی ہے کہ صوفیائے کرام کی تعلیمات کے فروغ کیلئے بھی کوئی کام ہوگا۔ اگلے روز خاتون اول نے لاہور میں اس سنٹر کا دورہ کرتے ہوئے وہاں صوفی سنٹر اور لائبریری کا افتتاح کیا۔ 

اس خبرسے مجھے پرویز مشرف دور میں قائم ہونے والی صوفی کونسل یاد آگئی ہے جس میں پرویز مشرف کے ساتھ چودھری شجاعت حسین بھی پیش پیش تھے، حکومتی سطح پر ایسے اقدامات بھلے لگتے ہیں مگر اس کے لیے خلوص دل سے کچھ کرگزرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ صوفی ازم کی روح کو سمجھے بغیر ایسی کوئی کوشش بارآور ثابت نہیں ہوسکتی نہ ہی صرف کوئی لائبریری قائم کرنے یا اس میں کمپیوٹررکھنے سے صوفیا کی تعلیمات کو فروغ حاصل ہوسکتا ہے۔ اس کے لیے لوگوں کی ذہنی اور روحانی تربیت کی ضرورت ہوتی ہے اس وقت حکمرانوں اور عوام پر نظر ڈالیں تو ہم سب دنیا کی دلدل میں ناکوں ناک دھنسے ہوئے ہیں۔ صوفی ازم یا تصوف ایک عملی راستہ ہے۔ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے اس کے لیے اپنی ”میں“ کو داﺅپر لگانا پڑتا ہے۔ اپنی نفی کرنی پڑتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حکمران یہ سب دکھاوے اور محض توجہ حاصل کرنے یا توجہ بٹانے کے لیے کیا کرتے ہیں۔ اب پرویز مشرف کہاں ہیں ؟چودھری شجاعت حسین بھی اپنی ”ڈمیوں“ میں زندہ ہیں۔ 

صوفی تو وہ ہوتا ہے جو دنیا میں کسی چیز کا مالک نہ ہو، نہ ہی وہ کسی کے قبضے یا ملکیت میں ہو۔ تصوف تو ”ادب“ کا دھیان رکھنا ہے اور وہ اس لیے کہ ہرپل ہرگھڑی اور ہرمقام اور حال کے لیے الگ ”ادب“ ہوتا ہے، اصل بات یہ ہے کہ دل دنیاوی الائشوں سے پاک رکھنا کوئی آسان نہیں۔ اس کے لیے ”میں ناہیں سبھ توں“ کا رویہ عملی طورپر اپنانا پڑتا ہے۔ 

یہ جس قسم کی صوفی کونسلیں قائم کی گئیں یا ان دنوں جن کا آغاز ہورہا ہے یہ محض ”رولا رپا“ہے۔ اقتدار بھی ایک لذت اور نشے کا نام ہے اس کا نشہ اترتا ہی نہیں۔ ”بوئے سلطانی“مرتے دم تک جان نہیں چھوڑتی۔ بستر مرگ پر پڑے سابق حکمرانوں سے پوچھ کر دیکھ لیں وہ ایک بار پھر اقتدار میں آنے کی آرزورکھتے ہیں۔ یہاں تو بیوروکریٹ ریٹائرڈ ہوکر بھی اپنے ”اقتداری نشے“ میں رہتا ہے۔ بہت سے بیوروکریٹ سرکاری ملازمت کے بعد سیاست میں پناہ لیتے ہیں کہ پور پورکاٹنے سے بھی عادات نہیں بدلتیں۔ 

حکمران لوگ تو صوفی شاعر حضرت میاں محمد بخشؒ کو ہی پڑھ کر عمل کرلیں تو کبھی اقتدار کا نام بھی نہ لیں :

بادشاہاں تھیں بھیک منگاوے تخت بہاوے گھائی

کجھ پروا نہیں گھر اُس دے دائم بے پروائی

(یعنی بادشاہوں سے وہ بھیک منگواسکتا ہے اور گھاس کاٹنے والوں کو تخت عطا کرسکتا ہے اللہ سوہنا ہمیشہ بے پروا اور بے نیاز ہے)

جس نے بندوں کو راضی کیا وہی کامیاب ٹھہرا۔ ہم لوگ تو بندے کو بندہ نہیں سمجھتے۔ بوڑھے ہوکر بھی ہماری حرص وہوس کم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ بڑھاپے میں بھی ”ٹھرک“ سے نجات حاصل نہیں کرسکتے ذرا سا اختیار مل جائے تو مدمقابل یا زیرنگیں کے لیے فرعون بن جاتے ہیں۔ ذراسی شہرت سے ہمارا دماغ خراب ہو جاتا ہے اور اپنی اوقات بھول جاتے ہیں۔ معمولی سے مفاد کے لیے اپنی انا، غیرت اور ساکھ کا سودا کرلیتے ہیں۔ انسان کو ”انسانیت“ کے دائرے میں آنا پڑے گا۔ اپنی آواز کو خود بھی سننا پڑے گا ہم کہہ کیا کررہے ہیں کسی کے دل پر ہمارے لفظ کیا اثر کررہے ہیں؟ ہم دن بھر ڈھائی انچ کی زبان سے پانچ فٹے انسان کے دل کے بخیے ادھیڑتے رہتے ہیں۔ زبان کا زخم کبھی نہیں بھرتا۔ ہمارا برا رویہ لوگوں کے دلوں سے کبھی زائل نہیں ہوتا۔ وباءکے دنوں میں تو روزانہ ہمارے کتنے لوگ کوچ کرگئے مگر ہم خود موت کو فراموش کیے ہوئے ہیں۔ حضرت امام علی وجہ الکریم فرماتے ہیں :

”لوگ سوئے ہوئے ہیں موت سامنے پائیں گے تو بیدار ہوں گے“

سوجاگنا ضروری ہے وقت سے قبل جاگنے والے بھی بانصیب ہوتے ہیں۔ ورنہ عمر بھرلوگ حرص ہوس کینہ حسد سے باز نہیں آتے نفس پاک کرنا آسان نہیں ہے پہلے دلوں کو ان بیماریوں سے پاک کرنا پڑتا ہے۔ 

عبادات بھی کریں لیکن لوگوں کے ساتھ معاملات اور رویوں کو درست کریں، یہ حج عمروں سے بھی معاف نہیں ہوتے۔ مگر اپوزیشن عوام کی ”خدمت“ میں ”دُبلی“ہورہی ہے وہ بجٹ پر ٹف ٹائم دینے اور حکومت گرانے کے لیے بے چین ہے۔ موجودہ حکومت حساب احتساب کا راگ الاپ رہی ہے حالانکہ اس کے پاس خدمت کا موقع ہے جو جلد ختم ہونے والا ہے۔ 

دیگر قومی اداروں کو بھی آخر ایک دن جوابدہ ہونا ہے اعلیٰ عہدوں پر فائز فوج عدلیہ ”مقننہ“ اور انتظامیہ کے علاوہ میڈیا پرسنزبڑے بڑے تاجروں سوداگروں کو بھی آخر مرنا تو ہے، یہ مال دولت فیکٹریاں اور اقتدار سب دھرے کا دھرا رہ جائے گا۔ آپ بھی اسی زمین میں پیوند خاک ہوجائیں گے اب بھی موقع ہے اپنے اپنے فرائض کو نیک نیتی سے ادا کریں۔ حقوق کے لیے ہی نعرے اور دھرنے نہ دیں فرائض بھی ادا کریں۔ ورنہ 

تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں 


ای پیپر