اندھیر نگری چوپٹ راج
31 May 2020 2020-05-31

جب میں سوال کرتا تھا کہ چودھری پرویز الٰہی اور شہباز شریف جیسے طاقت ور وزرائے اعلیٰ کے بعد جب صوبے کو ناتجربہ کار اور کمزور قیادت ملے گی تو کیابیڈ گورننس کے بحران پیدا نہیں ہوں گے تو بہت ساری تاویلوں کے ساتھ اس کا دفاع کیا جاتا تھا مگربارہ کرو ڑعوام کے صوبے میں موثر قیادت کے فقدان نے تعلیم اور صحت جیسے اہم شعبوں میںہی تباہی نہیں مچا رکھی بلکہ بدمعاملگی چھوٹی چھوٹی وزارتوں اور محکموں تک پہنچ چکی ہے، جن کی طرف بڑی بڑی مصیبتوں کا رونا روتے ہوئے ہماری توجہ نہیں جاتی جیسے پنجاب کی ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن جس کے ڈیلی ویجر اور کنفرم پونے چار سوکے قریب ملازمین کو عید پر تنخواہ نہیں ملی اور یہ پنجاب میں بیڈ گورننس کی دیگ کا ایک دانہ ہے۔

چلیں ! آپ کو پونے دوبرسوں میں اس محکمے میں آنے والی تبدیلی کا احوال سناتے ہیں کہ محکمے کے وزیر رائے تیمور بھٹی ہیں اور مشیر راولپنڈی کے معروف نوجوان رہنما آصف محمود، جنہیں جناب شیخ رشید احمد کے مقابلے میں دستبردار کرویا گیا تھا اور پھر وہ راولپنڈی کی پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی کے چئیرمین بنا کے اکاموڈیٹ کئے گئے۔ باخبر ذرائع بتاتے ہیں کہ محکمے کو واضح احکامات ہیں کہ اس نے وزیر کی بجائے مشیر کی سننی ہے لہذا جھنگ سے آزاد جیت وزارت حاصل کرنے والے رائے تیمور کی یہاں نہیں چلتی۔ یہ بات الگ ہے کہ پونے دو سو کنفرم ملازمین والے اس ادارے پر ایک وزیر ، ایک مشیر اور اس کے بعد ایک چئیرمین کا بوجھ بھی لاد دیا گیا ہے اور جس وقت ادارے کے پاس ملازمین کو عید پر تنخواہیں دینے کے بھی پیسے نہیں ہیں،اس کے لئے چار فورچون گاڑیوں کی خریداری کی منظوری ہوچکی ہے۔

صورتحال یہ ہے کہ پی ٹی ڈی سی کے دو سو ڈیلی ویجرز سمیت پونے چار سو ملازمین کی تنخواہیں حکومت نہیں دیتی بلکہ اس کی فنڈنگ کا بڑا ذریعہ پتریاٹہ کی چئیر لفٹ ہے جس کی آمدن بائیس کروڑ روپے سالانہ تک پہنچ چکی تھی اور کچھ ریزارٹس ہیں۔ لاک ڈاون سے بھی پہلے، کم و بیش چھ ماہ قبل، کیبل کار خراب ہوئی جس کو ٹھیک کرنے کے آسٹریا کی کنسلٹنٹ فرم نے تیس لاکھ روپے کا خرچ بتایا۔ یہ منصوبہ سابق دور میں مینوئل سے آٹومیٹک کیا جا چکا ہے اور یہاں ایک ڈبل ڈیکر ٹورسٹ بس بھی چلائی گئی تھی وہ بھی اب خسارے میں ہے۔ محکمے میں اختیارات اور دلچسپی کے فقدان کی وجہ سے اس کے بڑے چھ ماہ سے یہی فیصلہ نہیں کر سکے کہ یہ تیس لاکھ روپے خرچ کئے جائیں یا نہ کئے جائیں۔ ان کا خیال ہے کہ سابق دور میں ہائر کی جانے والی فرم سے کام نہیں کروانا چاہئے اور ہمیں کوئی اپنی فرم ڈھونڈنی چاہئے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اگر لاک ڈاون بیچ میں نہ آتا تو تیس لاکھ روپے بچاتے ہوئے اب تک کارپوریشن گیارہ کروڑ کا نقصان کر چکی ہوتی ۔ اسی محکمے کے دفتر کا معاملہ بھی دلچسپ ہے جس کی تعمیر جوہر ٹاون میں گذشتہ دور میں ہوئی اور جب موجودہ حکومت آئی تو محض دس سے بیس فیصد کام باقی تھا ۔ اب معاملہ یہ ہے دو برسوں میں وہ دس سے بیس فیصد کام بھی مکمل نہیں ہوسکاجس کے نتیجے میں ابوبکر بلاک گارڈن ٹاون لاہور میں دو ملین ماہانہ کرائے پر ٹورازم کا دفتر چل رہا ہے اور مالی بحران کے باعث ستر لاکھ سے زائد کرایہ واجب الادا ہو چکا ہے۔

بات یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ جب کرونا آیا تو تمام محکموں سے کہا گیا کہ وہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے فنڈ میں پیسے جمع کروائیں تو الٹا انہی ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی کی گئی اور لاہور کے ایڈمن آفیسر اورپنڈی کے ٹورازم آفیسر کے نام پر لاکھوں روپوں کا جو چیک بنا وہ مبینہ طور پرکرونا فنڈ میں جمع کروانے کی بجائے براہ راست مشیر صاحب کے حلقے میں خرچ کر دیا گیا کیونکہ کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔میں نے محکمے کے ملازمین سے پوچھا کہ اگر کئی ماہ سے کیبل کار بند ہے اور آمدن نہیں ہورہی تو اس سے پہلے تنخواہیں کیسے مل رہی تھیں، جواب ملا، ریزروز کو خرچ کیا جا رہا تھا اور مختلف بنکوں میں پڑے ہوئے ٹی ڈی آرز کو تڑوایا جا رہا ہے یہ محکمے کی سابق ادوار میں ہونے والی وہ بچت ہے جسے معمول کے سیونگ اکاونٹ سے زیادہ منافع کے لئے ٹرم ڈپیازٹ اکاونٹ میں رکھا گیا ہے ۔ جہاں محکمے کی بچت ختم ہو رہی ہے وہاں کارپوریشن ٹی ڈی آر پر ملنے والے اضافی منافعے سے بھی محروم ہو گئی ہے۔ اب حکام کی نظر پراویڈنٹ فنڈز پر ہے کہ اس سے رقم لے کر اگلی تنخواہ دی جائے مگر محکمے کی یونین سمیت دیگر اہم عناصر اس کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر پراویڈنٹ فنڈ کی رقم نکل گئی تو وہ بھوکے ننگے ہوجائیں گے مگر اس کے باوجود اس میں سے بھی ڈیڑھ کروڑ نکلوائے جا چکے ہیں۔ اسی بحران کا نتیجہ ہے کہ ٹی ڈی سی پی میں ریٹائر ہونے والے یا وفات پانے والے ملازمین کو واجبات کی ادائیگی بھی روک لی گئی ہے۔ ملازمین تو یہاں تک الزام عائد کرتے ہیں کہ محکمے کے بڑوں نے ملازمین کی انشورنس کی رقم متعلقہ انشورنس کمپنی سے وصول کر لی ہے مگر ملازمین کو ادا نہیں کی گئی بلکہ اس سے کرنٹ خسارہ دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ایک بہت پرانے،سیانے اور جہاں دیدہ ملازم نے میرے کان میں سرگوشی کی کہ یہ صرف بیڈ گورننس نہیں ہے بلکہ اس کے ذریعے بھی اگلا فائدہ اٹھائے جانے کی منصوبہ بندی ہے۔ میں نے حیران ہو کے پوچھا کہ وہ کیسے ممکن ہے تو جو جواب ملا اس نے مجھے یقین دلا دیا کہ باصلاحیت لوگوں کو اگر سمندر کی لہریں گننے پر بھی لگا دیا جائے تو وہ وہاں سے بھی کما لیتے ہیں۔ جواب تھاکہ چئیرلفٹ سمیت تمام منصوبوں کو جان بوجھ کرخسارے میں ظاہر کیا جا رہا ہے۔ کچھ عرصے بعد تمام منافعے والے ان تمام منصوبوں کو خسارے میں ثابت کر کے ٹورازم کے اعلیٰ سطحی فورم کے ذریعے اپنے پیاروں کو لیز آوٹ کر دیا جائے گا جس کی سربراہی جناب زلفی بخاری کر رہے ہیں اور ظاہر یہ کیا جا ئے گا کہ محکمے کو خسارے سے نکالا جا رہا ہے۔

میں نے ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے ملازمین کی باتیں سنتے ہوئے جناب عمران خان کے ان تمام بیانات کو یاد کیا جو وہ سیاحت کے فروغ کے لئے دیا کرتے تھے اور اپنی پیاری پیاری تصویریں شئیر کیا کرتے تھے۔ معذرت کے ساتھ اگر گذشتہ دور میں سیاحت پر توجہ نہیں دی گئی تو موجودہ دور میں ریورس گئیر لگ گیا ہے۔ خدانہ کرے کچھ عرصے بعد یہ کارپوریشن تو ایک طرف رہی پوری سیاحت ہی کتابوں، کہانیوں میں باقی نہ رہ جائے۔

نوٹ: ملازمین کے تحفظات اور خدشات پر اگر وزیر امور نوجوانان و سیاحت رائے تیمور بھٹی، مشیر وزیراعلیٰ پنجاب جناب آصف محموداور چئیرمین برادرسہیل ظفر جواب دینا چاہیں تو ان کے لئے کالم کے علاوہ پروگرام کا پلیٹ فارم بھی حاضر ہے۔ فی الحال وہ ملازمین کی تنخواہوں کے لئے مسترد ہونے والی پندرہ کروڑ گرانٹ کی سمری کی منظوری بھی ساتھ لے آئیں تو ان کا پرجوش استقبال کیا جائے گا۔


ای پیپر