سندھ کے مسائل، ذمہ دار کون؟
31 May 2019 2019-05-31

میڈیا کی رپورٹس کے مطابق وفاقی حکومت غربت مٹائو منصوبے کے تحت بعض پروگرام شروع کرنا چاہ رہی ہے۔ یہ بھی خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ وفاقی حکومت بینظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام کا پہلے نام تبدیل کرنا چاہ رہی تھی، اب اس پروگرام کو چھوٹا کر کے اس کے بجائے اپنے ڈیزائن کئے ہوئے پروگرام لانا چاہ رہی ہے۔ حکمران جماعت کا خیال ہے کہ گزشتہ انتخابات میں سندھ میںپیپلزپارٹی نے اس پروگرام کا سیاسی فائدہ اٹھایا ہے۔ وفاقی حکومت کی اس حکمت عملی کے توڑ کے طور پر سندھ حکومت نے غربت گھٹانے کے پروگرام کا اعلان کیا ہے۔ نوجوانوں اور خواتین کو چھوٹے قرضے دینے، نوجوانوں کو اسکالر شپ دینے، بینظیر کسان کارڈ جاری کرنے، مدر اینڈ چائلڈ سپورٹ پروگرام شروع کرے گی۔ روزنامہ کاوش لکھتا ہے کہ سندھ کے احتجاج کے باوجود و صوبے کی 15 ارب روپے مالیت کے 36 منصوبے وفاقی ترقیاتی پروگرام میں سے نکال دیئے گئے ہیں۔ وزیر اعظم کی زیر صادرت منعقدہ قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس نے مرکز اور صوبوں کے لئے کل 1837 ارب روپے کے منصوبوں کی منظوری دی۔وزیراعلیٰ سندھ کا موقف ہے کہ سندھ میں جاری منصوبے شامل نہ کرنا ناانصافی ہے۔ ان کا کہناہے کہ اس ضمن میں ان سے کوئی مشاورت بھی نہیں کی گئی۔ رواں سال سندھ کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے گزشتہ سال کے مقابلے میں بھی کم رقم رکھی گئی ہے۔ ترقیاتی پروگرام میں دس ارب پودے لگانا، وزیراعظم اسکل ڈوپلمنٹ پروگرام، لائن آف کنٹرول کے متاثرین کی بحالی، گلگت، چترال اسکردو روڈ کی تعمیر، گلگت میں سیوریج اور سنیٹیشن نظام میں بہتری کے پی شامل کردہ فاٹا کے اضلاع کی ترقی سالانہ ترقیاتی پروگرام کے اہم جز ہیں۔ ان منصوبوں میں سکھر بیراج کی بحالی، جامشورو سیہون روڈ کی تعمیر، سدرن بائی پاس میرپورخاص عمر کوٹ روڈ کی تعمیر، گریٹر کراچی واٹر سپلائی اسکیم، اور محکمہ آبپاشی کے چار منصوبے شامل ہیں۔ ان منصوبوں پر پہلے اربوں روپے خرچ ہو چکے ہیں۔اس صورتحال پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ خود سخت موقف اختیار کئے ہوئے ہیں، انہوں نے صحافیوں کو وفاقی حکومت کے مجوزہ پی ڈی ایس پی کی کاپی بھی دکھائی اور کہا کہ وفاقی سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت رواں مالی سال کے دروان 78 ارب روپے خرچ ہوئے جس میں سے سندھ پر صرف ایک ارب روپے خرچ کئے گئے۔ شہدادکوٹ بائی پاس، حیدرآباد بائی پاس، نادرن بائی پاس، زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام اور مہران یونیورسٹی کا ایک ایک منصوبہ، منچھر جھیل کے پانی کو صاف کرنے کا منصوبہ ، کے بی فیڈر کی لائننگ شامل ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق سندھ میں پانچ ہزار سے زائد عطائی ڈاکٹروں کی کلینکس ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ سب سے زیادہ عطائی ڈاکٹر سانگھڑ میں ہیں جہاں یہ تعداد697 ہے ۔میرپورخاص دوسرے نمبر پر ہے۔ ’’روز نامہ پنہنجی اخبار‘‘ لکھتا ہے کہ اب لگتا ہے کہ ہم بیماریوں کے معاملے میں خود کفیل ہو چکے ہیں۔ گزشتہ روز مملکتی وزیر برائے صحت ظفر مرزا ایڈز کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے سندھ آئے تھا، جہاں انہوں نے اعتراف کیا کہ پاکسیان میں میں ہیپاٹائٹس کا مرض سب سے زیادہ ہے۔ اس بیماری کے حوالے سے پاکستان کا پہلے نمبر پر ہونے پر ہمیں کوئی شک نہیں۔ یہ بیماری زیادہ تر آلود پانی پینے سے پھیلتی ہے۔ ملک میں کئی برسوں سے پینے کے پانی کی صورتحال یہ ہے کئی مقامات پر انسان تو چھوڑیں جانوروں کے پینے کے لائق بھی پانی نہیں ۔ یہ پانی انسان استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ سندھ میں باقی صوبوں کے مقابلے میں صورتحال زیادہ خراب ہے۔ جہاں لاکھوں مریض ہیپاٹائٹس بی اور سی میں مبتلا ہیں۔ سندھ ہیپاٹائٹس کنٹرول بورڈ کے صرف گزشتہ سال کے جاری کردہ اعدا وشمار صدمے کی صورتحال پیش کرتے ہیں۔صرف ایک سال کے دوران تیس ہزار کیس ظاہر ہوئے۔ اگرچہ ہیپاٹائٹس کنٹرول بورڈ صوبے میں ہیپاٹائٹس کے مریضوں کی تعداد اڑھائی لاکھ بتاتا ہے۔یہ وہ مریض ہیں جو صوبے کے علاج معالجے کے مراکز پر رجسٹرڈ ہیں۔ صوبے میں لاکھوں ایسے مریض موجود ہیں جو ان مراکز تک نہیں پہنچ سکے ہیں اور خود کو رجسٹرڈ نہیں کراسکے ہیں۔ سندھ حکومت کا ددعویٰ ہے کہ صوبے بھر میں ضلع اور تحصیل کی سطح پر اس مرض کے علاج کے 61 مراکز اور 17 اسکریننگ اور ویکسینیشن سنیٹرز ہیں۔ کبھی زحمت کر ے وہاں موجود ادویات، ویکسین اور عملے کی موجودگی کا جائزہ لیا جاتا کہ یہ سب برسرزمین پر موجود بھی ہیں یا نہیں؟ ہپاٹائٹس کنٹرول انتظامیہ کا کام مرض میں مبتلا ہونے کے بعد علاج کرنا نہیں بلکہ اس سے پہلے حفاظتی اقدامات لینا ان کے فرائض میں شامل ہے، تاکہ لوگ اس مرض میں مبتلا ہونے سے بچ سکیں۔ سندھ میں واٹر کمیشن کے قیام کے بعد جو ہوش اڑانے والے انکشافات ہوئے ان میں کہا گیا کہ پینے کے پانی اور گٹر کے پانی میں کوئی فرق نہیں۔ کئی شہروں میںسیوریج لائینز پینے کے پانی کی لائنوں سے مل گئی ہیں۔ دنیا جہان کا گند کچرہ کینالوں اور شاخوں میں ڈالا جا رہا ہے جہاں سے ملنے والا پانی انسانی آبادی کے استعمال میں صوبے کے دوردراز علاقوں میں واٹر سپلائی کا کوئی نظام نہیں، لہٰذا لوگ یہاں پر کھڑے ہوئے پانی کے گڑھوں سے پینے کا پانی حاصل کرتے ہیں۔ یہ بھی رپورٹس ہیں کہ کئی مقامات پر زیر زمین پانی کڑوا اور قابل استعمال نہیں۔ ایسے میں لوگوں کو اس بیماری سے کون بچائے گا؟؟ اصل کام بیماری کی جڑ کو ختم کرنا ہے۔ وہ اسباب ڈھونڈنے اور ان کو ختم کرنا ہے۔ ایسا کرکے ہر سال اس مرض میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کو روکا جاسکتا ہے۔ واٹر کمیشن کی رپورٹ کے بارے میں صوبائی حکومت کی غر سنجیدگی اس مرض کو بڑھا رہی ہے۔ صوبائی حکومت کا رویہ اپنی جگہ پر، مملکی وزیر کے فراخدلی کے ساتھ اعتراف پر تعجب ہی کیا جاسکتا ہے۔ کیا صرف اعتراف کرنے سے مرض ختم ہو جائے گا؟ اگر وفاقی حکومت تین ہسپتال اپنی تحویل میں لینے کیلئے جلدی کر سکتی ہے، اس طرح کے ہنگامی اقدامات ایڈز اور ہیپاٹائٹس کے خامے کیلئے بھی لے سکتی ہے۔


ای پیپر