شو بازی… غربت میں اضافے کی ایک بڑی وجہ
31 May 2019 2019-05-31

آج کل آپ نے دیکھا ہو گا کہ بینکوں کے باہر لمبی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو نئے نوٹ لینے کے خواہش مند ہیں یہ عام طور پر غریب اور بے روز گار لوگ ہیں جو بینک سے نئے نوٹوں کے ایک دو پیکٹ لے کر مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں رکشہ ڈرائیور کہتے ہیں کہ پورا دن رکشہ چلا کر اتنی بچت نہیں ہوتی جتنی دس پچاس اور سو روپے کے نوٹ کے پیکٹ بیچ کر منافع مل جاتا ہے۔ یہ غیر قانونی کاروبار ہے مگر اس کو روکنے میں حکومتیں بے بس ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ شادی بیاہ یا عید کے موقع پر نئے نوٹوں کا پیکٹ حاصل کرنے کے لیے زائد رقم دینے پر تیار ہیں عوام ایسا کیوں کرتے ہیں۔ اس کا جواب نفسیاتی نوعیت کا ہے۔

پرانے زمانے میں جب بینکنگ سیکٹر اتنا متحرک نہیں ہوتا تھا تو اس وقت کے امراء اپنا پیسہ تجوریوں میں رکھتے تھے اور جب لین دین کے موقع پر وہ تجوری کھول کر پیسے نکالتے تھے تو وہ بھی پیکٹ کی شکل میں ہوتا تھا جس سے دیکھنے والے پر سیٹھ صاحب کی دولت کی دھاک بیٹھ جاتی تھی۔ روپیہ پیسہ اور دولت کسے اچھا نہیں لگتا۔ عام انسانوں کے تحت الشعور میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ ایک دن ان کے پاس بھی اتنا پیسہ آ جائے گا کہ وہ اس سیٹھ کی طرح نظر آئیں گے۔ جو ان کے سامنے بھری ہوئی تجوری سے نوٹوں کے بنڈل رکھتا اور نکالتا ہے۔ اس معصوم سی خواہش نے رفتہ رفتہ یہ شکل اختیار کر لی ہے کہ چلو ہم سیٹھ نہیں بن سکتے تو کوئی بات نہیں چلیں ہم نئے نوٹوں کے پیکٹ مہنگے داموں خرید کر ایک دن کے لیے سیٹھ جیسے رکھ رکھائو کا مظاہرہ تو کر سکتے ہیں۔ نئے نوٹ خریدنے کے لیے زائد رقم دینے والوں میں اکثریت نچلے اور درمیانے طبقے کے شوباز قسم کے لوگوں کی ہوتی ہے۔ جن کی وجہ سے یہ دھندا وجود میں آیا ہے۔

اس کیفیت کو معاشیات کی زبان میں دکھاوا یا Domonstration effect کہا جاتا ہے۔ جسے معاشی اصطلاح میں Duesen berry effect بھی کہتے ہیں اس کا موجد James Duesen berry تھا۔ یہ وہ اثرات ہیں جو ہمارے ذہن پر کسی آدمی کی دولت کو دیکھ کر مرتب ہوتے ہیں اور ہم اُسے کاپی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ کوشش ایک منفی رویہ ہے جس سے معاشرے پر سماجی سیاسی اور اقتصادی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ انسان اپنی چادر سے زیادہ پاؤں پھیلانے کی کوشش میں کنگال ہوتا چلا جاتا ہے۔ ہر شخص معاشی طور پر جس انکم گروپ سے تعلق رکھتا ہے وہ اس سے ایک دو درجے اوپر اپنے آپ کو ظاہر کرنے کی خاطر مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے اور اپنے لائف سٹائل کو اوپر اٹھانے کی خاطر اگر سرکاری ملازم ہے تو رشوت لے گا کرپشن کرے گا اگر دوکاندار ہے تو ناجائز منافع خوری کرے گا مینو فیکچرر ہے تو ملاوٹ کرے گا اگر مزدور یا بے روزگار ہے تو جرائم چوری ڈاکے یا اس طرح کی کارروائیاں کرے گا۔اس کی بہترین مثال یہ ہے کہ آپ کے پاس ہونڈا 70 موٹر سائیکل ہے آپ کے پڑوسی نے حال ہی میں نئی مہران گاڑی خریدی ہے یہ وہی پڑوسی ہے جو کل تک آپ کی موٹر سائیکل سے بھی پرانی بائیک استعمال کر رہا تھا اب فوری طور پر آپ پر ذہنی اثر یہ ہوا ہے کہ آپ بھی مہران گاڑی خرید کر اس کے برابر کا سماجی رتبہ حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ اس کے لیے یا تو آپ بینک سے مہنگے ترین ریٹ پر قرضہ لیں گے اور 10 لاکھ کی گاڑی 18 لاکھ میں لے کر 5 سال تک قسطیں ادا کریں گے یا پھر آپ کوئی غلط کام کریں گے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ شادی کے لیے برائیڈل سوٹ جو پہلے دن کا ہوتا ہے اس کی قیمت 2 لاکھ روپے سے بھی کراس کر چکی ہے یہی حال دولہا کی شیروانی کا ہے حالانکہ یہ دونوں آئٹم زندگی میں صرف ایک دن کے لیے استعمال ہوتے ہیں پھر بھی ان پر بھاری رقوم خرچ کی جاتی ہیں۔ لاہور کے پوش علاقوں میں دلہن کے میک اپ کی فیس ایک لاکھ روپے سے اوپر جا چکی ہے یہ سارے فضول اخراجات دکھاوا یا Demonstration کے لیے ہیں جن کے فروغ میں سٹار پلس کے TV ڈراموں اور انڈین فلموں نے خصوصی کردار ادا کیا ہے یہ غریب اور متوسط طبقہ کو قرضوں کے جال میں جکڑنے کا ایک دلفریب نسخہ ہے۔ عام شہری جیسے دوسرے انسانوں جن کا تعلق خوشحال گھرانوں سے ہوتا ہے ان کے پاس جب مہنگی اور پر تعیش اشیائے ضرورت دیکھتے ہیں تو ان کے دل میں بھی ان کی خواہش پیدا ہو جاتی ہے ۔ لیکن یہ خواہش منفی بھی ہوتی ہے اور مثبت بھی۔ مثلاً اگر آپ ایک ڈاکٹر یا انجینئر یا بزنس میں کے پاس مہنگی کار یا گھر دیکھتے ہیں تو آپ یہ سوچیں کہ اس شخص نے یہاں تک پہنچنے کے لیے جتنی محنت کی ہے یہ عام آدمی کے لیے رول ماڈل ہے ایسا اگر آپ سنجیدگی سے سوچیں گے تو آپ کی زندگی تبدیل ہو جائے گی البتہ اگر آپ یہ سہولیات بیٹھے بٹھائے بغیر محنت کے حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کی یہ سوچ آپ کی ذات اور شخصیت کے ساتھ ساتھ معاشرے کے لیے بھی مضر صحت ہے۔ امریکہ کی جنگ آزادی (1775-1783 ) جب کامیاب ہوئی تو فرانس کے عوام نے سوچا کہ امریکیوں کے طرز عمل پر چل کر وہ بھی آزادی حاصل کر سکتے ہیں جس کا نتیجہ 1789-1799 کا انقلاب فرانس تھا۔ اس طرح ایک ملک کے حالات کو دیکھ کر اگر کوئی دوسری ریاست اس کی پیروی کرتی ہے تو یہ بھی Demonstration effect کہلائے گا۔ یہ اس کا مثبت پہلو ہے۔

البتہ اس تھیوری کا موجد Duesen berry یہ کہتا ہے کہ جب ایک فرد کسی دوسرے کے پاس کوئی مہنگی چیز دیکھ کر اسے خریدنے کے لیے بچت شروع کرے گا اور بالآخر اسے ایک دن خریدلے گا تو یہ رجحان میکرو اکنامکس کے لحاظ سے صحتمند ہے اس سے بچت اور خریداری دونوں کو فروغ ملے گا۔ مگر حقیقت میں یہ اتنا سادہ نظریہ نہیں ہے۔ جدید معاشی سائنس دان کہتے ہیں کہ اس طرح کی گئی خریداری عوام کے ذہن میں ایک عجیب طرح کی Unhappiness پیدا کر دیتی ہے۔ جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ مثلاً آج کل ریسٹورنٹس میں افطار پارٹیوں کا رواج ہے۔ ایم ایم عالم روڈ کے ایک اوسط ریسٹورنٹ پر ایک آدمی کی افطاری 2000 روپے میں ہوتی ہے۔ اگر 5 افراد کی فیملی وہاں 10 ہزار میں ایک افطار کرتی ہے تو گھر واپس آ کر انہیں کئی دن تک یہ سوچ کر کوفت اٹھانی پڑتی ہے کہ اس دس ہزار میں گھر میں 10 افطاریاں کر سکتے تھے۔ یہی کیفیت بڑے بڑے فیشن ہائوس سے کپڑے خریدنے والوں کی ہے جہاں 2500 روپے والا سوٹ 5000 روپے میں خریدا جاتا ہے۔ صرف اس لیے کہ اس کے اوپر بڑی کمپنی کا لیبل لگا ہوتا ہے اس کا نقصان یہ ہوا ہے کہ چھوٹے دوکاندار ختم ہو گئے ہیں اور فیشن انڈسٹری چند Leading Brands کی اجارہ داری میں آ گئی ہے۔ بڑے بڑے فاسٹ فوڈ فرنچائز دیکھ لیں جہاں ایک سینڈوچ یا برگر 300 سے 500 روپے میں ملتا ہے۔ ایک تو یہ اپنا منافع باہر لے جاتے ہیں دوسرا ان سے مقامی مارکیٹ نقصان اٹھاتی ہے اور چھوٹا دکاندار بے روزگار ہو رہا ہے اور تیسرا یہ Demonstration effect جیسی ایک ذہنی بیماری کا شکار مریضوں کو لوٹ رہے ہیں ان کے ریٹ عالمی مارکیٹ کے مطابق سمجھین کے ڈالر کی قیمت کو Convert کر کے فکس کیے جاتے ہین۔ اب امریکہ میں 20 ڈالر فی گھنٹہ کمانے والا بندہ تو یہ افورڈ کر لیتا ہے مگر یہاں وہی جائے گا جس کے پاس اندھی کمائی ہے۔

پاکستان میں نئی گاڑی کی خریداری پر Own Money جیسی غیر اخلاقی وغیر قانونی روایت کی وجہ یہ ہے کہ نئی گاڑی کو Status کی علامت سمجھا جاتا ہے حتیٰ کہ جو لوگ کرائے پر گاڑی لینا چاہتے ہیں وہ بھی نئے ماڈل کو ترجیح دیتے ہیں جس کی وجہ سے منافع مافیا عوام کی اس ذہنی معزوری کا فائدہ اٹھاتا ہے۔ جب تک معاشرے کی Consumption Habits راہ راست پر نہیں آئیں گی اور گھٹیا قسم کی شوبازی بندنہیں ہو گی عوام خوشی خوشی کارپوریٹ کمپنیوں کے ہاتھوں اسی طرح لٹتے رہیں گے۔ غربت میں اضافے کی ایک وجہ شوبازی ہے۔


ای پیپر