”مُراد سعید کی کارکردگی“
31 May 2019 2019-05-31

ہر طرف وفاقی وزیر مواصلات مُراد سعید کی کارکردگی کاواویلا ہے کہ جب وزیراعظم نے کچھ سرکاری اور غیر سرکاری اجلاسوں میں اس نوجوان کو سب سے بہتر وزارت چلانے والا قرار دے دیا تواس کے بعد کیسے سوال اور کیسے جواب، سوشل میڈیا پر ہونے والی خرافات کو نطرانداز کیجئے اور دیکھئے کہ موصوف کی اہمیت کا یہ عالم کہ شمالی وزیرستان میں خر کمر چیک پوسٹ پر حملے اور پی ٹی ایم جیسے حساس معاملے پر قومی اسمبلی میں بولنے کی ذمہ داری بھی کسی سرد و گرم چشیدہ کی بجائے اسی نوجوان کو دی جاتی ہے اور وہ پنجابی لفظ کے مطابق ایسی’ لترول‘ کرتے ہیں کہ اپوزیشن واک آﺅٹ کر جاتی ہے اور مخالفین کی چیخیں نکل جاتی ہیں۔ اب اس کا فیصلہ تاریخ ہی کرے گی کہ جب بنگالیوں کی ایسی لترول ہوا کرتی تھی تو اس پر واہ واہ کے ڈونگرے برسانے والے اپنے وطن اور قوم سے کتنا انصاف کرتے تھے۔ بہرحال قومی اسمبلی میں خطاب تو کارکردگی کے بہت سارے حصوں میں ایک حصہ ہے، ابھی چند ہفتے قبل انہوں نے بہترین کارکردگی دکھاتے ہوئے لاہور ملتان موٹر وے کا بھی افتتاح کیا جس کے بعد لاہور سے ملتان کا سفر چھ گھنٹے سے کم ہو کر تین، سوا تین گھنٹوں کا رہ گیا، ان کی وزارت کی یہ کارکردگی حکومت کی اسی کارکردگی کا جزو ہے جس کے تحت لوڈ شیڈنگ ختم کی گئی اور اس پر وزیراعظم کی طرف سے جناب عمر ایوب کو مبارک باد کا ٹوئیٹ بھی کیا گیا۔ وزارت بجلی و پانی نے اکیاسی ارب روپوں کی زائدوصولی بھی کی اور اس کی بنیاد مجموعی طور پر بجلی کے ہر یونٹ پر تین سے چھ روپے اضافہ ہے اور جناب مراد سعید کی اصل کارکردگی کی کہانی بھی پاکستان پوسٹ یعنی ہمارے ڈاک خانے میں اسی سے جڑی ہوئی ہے۔

وفاقی وزیر مواصلات نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان پوسٹ کی آمدن ایک برس میں چھ ارب روپوں کا اضافہ ہو رہا ہے، یہ آمدن آٹھ ارب روپوں سے بڑھ کے چودہ ارب روپے ہو رہی ہے جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ای کامرس کے ذریعے تقریباً چھیالیس ہزار پارسل بھیجے گئے۔ وفاقی وزیر کا یہ دعویٰ تسلیم کر لیا جاتا اگر واقعی جدت، کارکردگی اور اختراعات کے ذریعے محکمے کی آمدن میں اضافہ ہوتا اور اسے خسارے سے نکالنے کی کوشش کی جاتی لیکن اگر آپ ایک برس (جو ابھی مکمل بھی نہیں ہوا) میں آمدن کے اضافے کے دعوے بارے حقیقت جاننا چاہتے ہیں تو اپنے قریبی پوسٹ آفس تشریف لے جائیں اور وہاں نوٹس بورڈ پر آپ کو ایک نوٹیفیکیشن کی فوٹو کاپی نظر آئے گی۔ آمدن میں اضافے کے دعوے کی جان اسی نوٹیفیکیشن کے طوطے میں ہے جس کے مطابق ان لینڈ پوسٹل لینڈٹیرف میں کیلکولیٹر پکڑتے ہوئے سیدھا ایک سو پچاس فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے یعنی وہ عام خط جس کا وزن سو گرام تک ہے، اسے آپ بیس روپوں میں اپنے پیاروں کو بھیج سکتے تھے اب اس کے لئے آپ کو پچاس روپے ادا کرنے ہیں او ر ایک کلوگرام تک کا رجسٹرڈ پارسل جو چالیس روپوں میں ملک کے اندر بھیجا جا سکتا تھا اب اس کے لئے آپ سے سو روپے وصول کئے جا رہے ہیں۔ ٹیرف میں دگنے سے بھی اضافے کا یہ فارمولہ انتہائی انصاف کے ساتھ تمام پرنٹڈ پیپرز اور ٹیکسٹ بکس وغیرہ پر بھی لگا دیا گیا ہے۔

کیا آپ یہ تصور کرتے ہیں کہ فیس یا ٹیرف میں اضافہ عین قومی مفاد میں ہے جسے نواز شریف دور میں ملک دشمنی کرتے ہوئے ڈالر، بجلی اور پٹرول کے نرخوں کی طرح مصنوعی طور پر روکا گیا تھا اور یہ کہ ڈاکخانوں میںآنے والے صارفین نے نہ صرف اسے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ای کامرس سمیت دیگر اختراعات کو بھی گرم جوشی سے خوش آمدید کہا ہے تو یہ دونوں باتیں غلط ہیں، اس نوٹیفکیشن کے بعد پاکستان پوسٹ استعمال کرنے والا ہرتین میں سے ایک شہری اسے خدا حافظ کہہ چکا جسے اعداد و شمار کے مطابق خود وفاقی وزیر بھی تسلیم کر رہے ہیںکہ جب پرانے نرخوں پر آمدن آٹھ ارب روپے تھی تو قیمتوں میں ایک سو پچاس فیصد اضافے کے بعد آمدن میں بھی اتنا ہی اضافہ ہونا چاہئے تھا یعنی اسے بیس ارب روپے ہوجانا چاہئے مگراضافہ بارہ ارب کی بجائے چھ ارب روپے ہوا یعنی آمدن قیمتوں میں اضافے کے پچاس فیصد کم بڑھی تواسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صارفین کی ایک بڑی تعداد نے ڈاک خانوں کا رخ کرنا بند کر دیا۔

اب اس دعوے پر آجائیں جسے سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے حامی جواب کے طور پر پیش کر رہے ہیں کہ پاکستان پوسٹ کی آمدن ای کامرس اور دیگر اختراعات کی وجہ سے بڑھی لیکن اگر اس دعوے کو سچ مان لیا جائے تو پھر سوال یہ ہے کہ ٹیرف میں ڈیڑ ھ سو فیصد اضافے کا اثر اور نتیجہ کہاں گیا اور اگر یہ ٹیرف میں اضافے کا فائدہ ہے ( اور وہ بھی حجم میں آدھا) تو ای کامرس سے ہونے والا فائدہ کہاں ہے۔ مراد سعید کی اب تک کی پاکستان پوسٹ میں پرفارمنس یہ ہے کہ عوام کا ڈاکخانے پر اعتماد کم ہوا ہے اور انہوں نے پچاس روپے کے ڈاک خانے کے خط کی بجائے ساٹھ روپے کے پرائیویٹ کوریئر کو ترجیح دینی شروع کر دی ہے۔ مراد سعید کی کارکردگی پاکستان پوسٹ میں تسلیم کی جاتی اگر وہ پرانے نرخوں میں اضافہ کئے بغیر آمدن میں چھ کی بجائے ایک ارب کا ہی اضافہ کر دیتے تو ہم سمجھتے کہ عوام نے نئے پاکستان میں بہتر کارکردگی کی وجہ سے اس ادارے پر اعتماد کرنا شروع کر دیا ہے جیسے سابق دور میں ریلوے کی ٹکٹیں دو سے تین گنا مہنگی کئے بغیرآمدن کو اٹھارہ ارب سے پچاس ارب روپوں پر لایا گیا۔

وفاقی وزیر مواصلات کی پاکستان پوسٹ کی آمدن میں اضافے کی کارکردگی زبانی جمع خرچ ہے ورنہ عملی طور پر ہر تین میں سے ایک پاکستانی شہری نے پاکستان پوسٹ کو خیرباد کہہ دیا ہے جو اس سے پہلے استعمال کر رہے تھا ورنہ اس کی آمدن بیس ارب ہوتی۔ یہ سب سوشل میڈیا کی پوسٹس کے کمال ہیں جو دکھائے جار ہے ہیں جن میں مراد سعید اس موٹروے کا افتتاح کر کے مبارکبادیں وصول کر رہے ہیں جو نواز شریف نے بنائی اور عمرایوب تحریک انصاف کے دور میں بجلی کی پیداوار میںا یک یونٹ اضافہ کئے بغیر سابق دور میں لگنے والے منصوبوں پرلوڈ شیڈنگ ختم کرنے کی مبارکبادیں لے رہے ہیں مگر درحقیقت دونوں نے ایک ہی فارمولا لگایا ہے کہ لوگوں کی جیبوں سے مزید روپے کھینچ لئے جائیں۔ یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ پاکستان پوسٹ اب بھی ٹی سی ایس اور ڈی ایچ ایل جیسے پرائیویٹ اداروں سے سستا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اسی کو سستا رکھنے کی خاطر ہمارے ٹیکسوں کی کمائی سے اس ادارے کو اربوں روپوں کی سبسڈی بھی دی جاتی ہے۔

حاصل کلام اور کالم یہی ہے کہ ہم آ پ کی کارکردگی کو سراہیں گے اگر آپ ڈیڑھ گنا تک قیمتیں بڑھا کے جان لیوا مہنگائی کئے بغیر ادار ے کی کارکردگی کو بہتر بنائیں، اس میں جدت لائیں اور یہی پیغام جناب عمر ایوب کو ہے کہ لوڈ شیڈنگ آسمانی بجلی پکڑکر ختم نہیں ہوتی بلکہ اس کے لئے بجلی کے کارخانے لگانے پڑتے ہیں۔آپ کی طرف سے بیس روپے کا خط پچا س روپے کا کرنے اور بجلی کا یونٹ تین سے چھ روپے مہنگا ہونے پر قوم آپ کو ہر شہر اور ہر گلی میں جس قسم کاخراج تحسین پیش کر رہی ہے، اس سے آپ یقینی طور پر بے خبر نہ ہوں گے۔


ای پیپر