سعودی عرب میں بھی خواتین کو ہراساں کرنا غیر قانونی قرار
31 مئی 2018 (21:37) 2018-05-31

جدہ : سعودی عرب کی شوریٰ کونسل کی جانب سے خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف منظور کیے گئے قانون کو شاہی منظوری مل گئی۔


تفصیلات کے مطابق جدہ کے اسلام محل میں سعودی فرما رواں کی سربراہی میں سعودی وزرا کونسل کا اجلاس منعقد ہوا جس میں مذکورہ قانون پر حتمی فرمان جاری کردیا گیا۔شوریٰ کونسل کی رکن لطیفہ الشالن کا کہنا تھا کہ یہ سعودی عرب کے قوانین کی تاریخ میں بہت اہم پیش رفت ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ایک عبرت ناک قانون ہے، اور اس سے قوانین میں موجود ایک بہت بڑا خلا پْر ہوا ہے۔اس حوالے سے شوریٰ کونسل کے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ قانون سازی خواتین کو ہراساں کرنے کے جرم کی روک تھاک کے لیے کی گئی، جس کے تحت نہ صرف اس جرم کا ارتکاب کرنے والے کو سزا دی جائے گی اور نجی معلومات کو پوشیدہ رکھتے ہوئے متاثرہ فرد کی حفاظت کی جائے گی، جو اسلامی قانون اور قواعد و ضوابط کے تحت فرد کے وقار اور شخصی آزادی کی ضمانت ہے۔


سعودی عرب کی شوریٰ کونسل نے گزشتہ دنوں خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف مجوزہ قانون منظور کیا تھا، جس کے تحت خواتین کو ہراساں کرنے والے مجرم کو 5 سال قید اور 3 لاکھ سعودی ریال جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔شوریٰ کونسل کی ایک رکن نے مذکورہ قانون کے بارے میں بتایا کہ ’اس قانون کی منظوری کا یہ وقت اس لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ عنقریب خواتین کو ڈرائیونگ کی آزادی ملنے والی ہے، جو اس کی اہم وجہ ہوسکتی ہے۔


ای پیپر