نیب کی کارکردگی یہ ہے کہ مفرور ملزم گرفتار نہیں کیا جا سکا : چیف جسٹس
31 مئی 2018 (21:26) 2018-05-31

لاہور : چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے این آئی سی ایل کرپشن کیس میں ریمارکس دیئے کہ نیب کی یہ کارکردگی ہے کہ ایک مفرور ملزم گرفتار نہیں کیا جا سکا ۔


چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے کیس پر سماعت کی ۔ فل بنچ کو آگاہ کیا گیا کہ این آئی سی ایل مقدمات پر کارروائی ہو رہی ہے . نیب کے وکیل نے بتایا کہ کراچی میں زیر سماعت مقدمات میں 72 گواہوں کے بیانات قلمبند ہو چکے ہیں جبکہ لاہور کے مقدمات میں تین گواہوں کے بیانات قلمبند کئے گئے. چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ یہ عجیب بات ہے کرپشن کرو پھر رہا ہو جاؤ۔ جس نے کرپشن کی ہے اسے سزا بھی ملنی چاہیے۔ چیف جسٹس پاکستان نے این آئی سی ایل کے بارے میں لاہور اور کراچی میں زیر التوا مقدمات کا ریکارڈ طلب کر لیا.


فل بنچ نے اسی مقدمہ کے مفرور ملزم محسن وڑائچ کو گرفتاری کا حکم دے دیا، نیب نے بتایا کہ ملزم ایاز خان ریمانڈ پر زیر حراست ہے جس پر فل بنچ نے نشاندہی کی کہ یہ کارروائی گذشتہ احکامات سے پہلے کی ہے ، عدالتی حکم کے بعد کیا کیا ہے ، وہ بتائیں. چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ لگتا ہے نیب اس کیس میں ملزمان کے ساتھ رعایت کر رہی ہے لیکن نیب کو رعایت برتنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ سپریم کورٹ کے تین رکنی فل بینچ نے احتساب عدالتوں این آئی ایل سی کو دس دنوں میں چاروں ریفرنسز کا فیصلہ کرنے کا حکم بھی دیا ۔


ای پیپر